Advertisements
Free Business Listing
The First Electric Car Reached at Australian City Sidney After a long journey. 86

نیدر لینڈ  کے شہری کا الیکٹرک کار پر 33 ممالک کا 95 ہزار کلو میڑ کامیاب سفر۔

نیدر لینڈ  کے شہری کا الیکٹرک کار پر 33 ممالک کا 95 ہزار کلو میڑ کامیاب سفر۔  
The First Electric Car Reached at Australian City Sidney After a long journey.
The First Electric Car Reached at Australian City Sidney After a long journey.
نیدر لینڈ کے شہری ویبے واکر نے بجلی پر چلنے والی گاڑی میں 95000 کلو میٹر سفر آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مکمل کر لیا۔
ویبے واکر کے اس عمل کا مطلب لوگوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ واکر اپنی "دی بلیو بینڈنٹ” الیکٹرک کار ڈرائیو کرتے ہوئےترکی ، ایران، بھارت، ملائیشیا ، انڈونیشیا، میانمار اوردیگر ممالک سے ہوتے ہوئے آسٹریلیا کے مشرقی شہر سڈنی پہنچ گئے۔
واکر نے تین برس قبل ہالینڈ سے اس سفر  کا آغاز کیا تھا، سفری سہولیات کے لئے ہر ملک سے لوگ ان کے ساتھ مالی تعاون کرتے رہے جس سے ویبے واکر اپنی سفری ضروریات اور کار کی بیٹری کو چارج کرتے رہے۔
واکر کا کہنا ہے کہ میں لوگوں کی رائے بدلنا چاہتا تھا تاکہ لوگ نقل و حمل کے اس پائیدار زریعے کے فوائد کو سمجھ سکیں اور اس کا ذیادہ سے ذیادہ استعمال کریں واکر کا مزید کہناتھا کہ اگر ایک شخص دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اس کار کے زریعے سفر کر سکتا ہے تو روز مرہ استعمال کے لئے بھی اس ذریعے کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ الیکٹرک کار ایک مرتبہ چارچنگ کے بعد دو سو کلو میٹر تک کا سفر کر سکتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پیٹرول اور ڈیزل کی دو سو کلو میٹر کی کھپت سے ہر انسان واقف ہے،  ہمارے بہت بہتر مائلیج والی گاڑیاں  دو سو کلو میٹر میں اچھی سڑک پر چلتے ہوئے بھی  دس لیٹر پٹرول استعمال کر لیتی ہیں۔
امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گیس یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑی ایک 4٫6 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائید خارج کرتی ہے جو کہ ماحول کے لئے انتہائی ضرر رساں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں