Advertisements
At the height of Hindu extremism in India, the young man was set on fire for not chanting "J Shri Ram". 625

بھارت میں ہندو انتہا پسندی عروج پر، "جے شری رام” کا نعرہ نہ لگانے پر نوجوان کو آگ لگا دی گئی۔

بھارتی ریاست اتر پردیش میں مذہبی منافرت کی بنیاد پر ایک 15 سالہ مسلم لڑکے کو آگ لگا دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کے دن علی الصبح بھارتی ریاست اتر پردیش میں مذہبی منافرت کا واقعہ سامنے آیا جب چار ہندو نوجوانوں نے ایک پندرہ سالہ مسلم نوجوان کو "جے شری رام ” کا نعرہ لگانے اور اپنے مذہب کو گالی نکالنے کا کہا جس کے انکار پر پہلے ان لڑکوں نے اس پندرہ سالہ معصوم کو خوب مارا پیٹا اور پھر اسے اس بات پر مجبور کرتے رہے کہ وہ اپنے مذہب کو گالی نکالے اور جے شری رام کا نعرہ لگائے ،لڑکے کے انکار پر ان چار نوجوانوں نے مٹی کا تیل چھڑک کر اسے آگ لگا دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکے کو تشویش ناک حالت میں بنارس کے  کاشی کبیر ہسپتال لایا گیا جہاں اس کا علاج ہو رہا ہے۔

ہسپتال میں ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے لڑکے نے بتایا کہ چار ہندو نوجوانوں نے اس کا گھیراو کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ "جے شری رام” کا نعرہ لگائے اور اپنے مذہب اسلام کو گالی نکالےجس کے انکار پر انہوں نے اسے مارا پیٹا اور مسلسل انکار پر اسے مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔

  مقامی پولیس نے لڑکے کے اس بیان کی تردید کی ہے ، پولیس سپرنٹنڈنٹ سنتوش کمار کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے اس لڑکے کے موقف کو درست مانا جائے۔

سنتوش کمار کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ذاتی رنجش کی وجہ سے کوئی واقعہ پیش آیا ہو اور کسی کو پھنسانے کی کو شش کی جارہی ہو یا پھر لڑکے نے خود سوزی کی کوشش کی ہو۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد انتہا پسند ہندوں کی طرف سے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

بھارت پر انسانی حقوق کے کارکنوں کا الزام ہے کہ ایسے واقعات میں پولیس اکثر حکومت کے حامی تنظیموں اور گروہوں کے دباو کے باعث متاثرین کی بجائے ملزمان کو تحفظ دیتی ہے۔

حال ہی میں بھارتی گلو کار ورون بہار کا یو ٹیوب پر ریلیز ہونے والا متنازع گانہ” جو نہ بولے شری رام بھیج دو اس کو قبرستان” سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا ہے ، اس گانے کے خلاف بھارت میں مختلف جگہوں پر شکایات بھی درج کروائی گئی ہیں۔

رواں ماہ بھارت کے پچاس کے قریب سرکردہ دانشوروں نے نریندر مودی کو خط لکھ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی اس مذہبی جنونیت کے خاتمے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ دانشوروں نے کہا ہے کہ جے شری رام کا نعرہ اب لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے جس کا تدارک حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں