Advertisements
Several Sikh officers of the Indian Army refused to oppress Kashmir. 662

بھارتی فوج کے کئی سکھ افسران نے کشمیر میں ظلم ڈھانے سے انکار  کر دیا۔

دہلی جموں کشمیر نیوز ٹاکس ۔

چھ اگست بھارت نے گزشتہ روز آئین سے آرٹیکل 370 ختم کر کے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا اعلان کیا ۔

بھارت کے اس عمل کے بعد عالمی سطح کر بھرپور مذمت جاری ہے ۔

بھارت کو سیاسی سطح پر اندرونی بھی بھرپور مذمت کا سامنا ہے تمام اپوزیشن جماعتوں سمیت مقبوضہ کشمیر کی قیادت نے بھی بھارت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کی کال دے دی بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس امر کی مخالفت کی ہے اور کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی۔

مقبوضہ کشمیر میں ظلم ڈھانے کے بعد کئی فوجی سکھ افسران نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے اور ظلم ڈھانے سے انکار کرتے ہوئے استعفے دینے شروع کر دئے ۔ قومی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کئی سکھ فوجی افسران نے مقبوضہ کشمیر جانے سے واضح انکار کر دیا جس کے بعد بھارتی فوج کے اند بغاوت کی فضا پیدا ہو گئی۔

فوجی بغاوت کے بعد نریندر مودی سخت پریشان ،مودی سرکار کو خدشہ ہے کے کئی سکھ تحریک اور جموں کشمیر کی تحریکیں ایک پیج پر نہ آجائیں ۔

دوسری طرف جموں کشمیر کی علیحدگی پسند جماعت جے کے ایل ایف نے آج پوری دنیا میں احتجاج کی کال دی ہے پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری آج بھرپور احتجاج کریں گے مودی سرکار کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “بھارتی فوج کے کئی سکھ افسران نے کشمیر میں ظلم ڈھانے سے انکار  کر دیا۔

  1. #آج_شہ_رگ_کٹ_گئی

    دنیاکی تاریخ کا

    یہ پہلا واقعہ ھے کہ ہماری شہ رگ کٹ گئی لیکن
    جسم کو محسوس تک نہ ہوا۔۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ کرتارپوربارڈر کو کھولاگیا
    جنگی قیدی واپس کیاگیا وہ بھی چائے پلاکر
    فضائی حدود کھولی گئیں وہ بھی چند لمحوں میں ہی
    گالی اور گولی کےجواب میں زبردستی مبارکبادیں دی گئیں
    سلامتی کونسل میں ھندو بنئیے کے حق میں دنیاکےسامنے ووٹ دیکر اپنی ہی تاریخ کا بلتکار کیا گیا
    غرض کہ انکی ہرشرارت کاجواب امن اورپیارکی زباں میں دیاگیا
    لیکن۔۔۔۔۔۔ لیکن
    کیاملا۔۔؟؟ کونسی شاباشی ملی ۔۔؟؟
    پھر دوبارہ دہشتگردی۔۔؟
    پھر کشمیری رہنماؤں کی نظربندی۔۔؟
    پھر کشمیری عوام پر گولیوں کی برسات ۔۔؟
    پھر کشمیری ماوں کی گود اجاڑنے کی رسم ادا ۔۔۔؟
    پھر کشمیری بہنوں کے سر سے دوپٹے کو کھینچ لینا۔۔؟
    پھر کلسسٹر بمبز۔۔؟
    پھر سرحدی حدود کی خلاف ورزی ۔۔۔؟
    پھر پاکستان کی خود مختاری پر یلغار ۔۔۔؟
    ہائے ۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ جو آج ہوا۔۔؟؟

    کتنی شرم کی بات ھے کہ پیار دیکر ۔۔۔محبتیں بانٹ کر ۔۔۔ امن کے دیئے جلاکر۔۔۔بند راہیں کھول کر ۔۔۔
    سمٹتے بازو پھیلاکر۔۔آنکھوں مین روشنی کے جگنو سجاکر۔
    امن کی فاختہ بن کر ۔۔۔ پیار بھرے نغمیں سناکر بھی
    وہ انڈین جسنے ہمیشہ آپ کو اپنے جوتے برابر بھی نہیں سمجھا جب اور جہاں چاہا وار کیا اور کھل کر وار کیا
    لیکن افسوس
    ھم ایک غیرت مند قوم ھوکر بھی ۔۔
    ایک نیوکلیئر بم کے مالک کہلواکر بھی
    23کروڑ باھمت عوام کےھوتے ہوئے بھی
    دنیا کی نمبر ون فوج کے ہوتے ہوئے بھی
    توحید پرست ھوکر بھی بت پرستوں کے تلے لیٹے پڑے ہیں
    جی ہاں۔۔۔۔۔۔غیرت مند ماؤں کا پاک دودھ پی کر بھی پیشاب پینے والوں کے نیچے لیٹے پڑے ہیں

    ہائے ۔۔۔۔۔آج شہ رگ کٹ گئی لیکن ھم اُن لوگوں کی محبت اور درد کو سمجھ ہی نہ سکے جو اپنے بیٹے شوہر باپ بچوں کو ہمارے سبزہلالی پرچم میں دفن کرنافخر سمجھتے ہیں۔

    ایسی بات نہیں کہ ھم نے رد عمل نہیں دیا یا ہماری غیرت نہیں جاگی ایسا بھلا کیسے ھوسکتا ھے ۔۔؟؟ کہ پاکستان کی
    شہ رگ کٹ جائے اور ھم ٹویٹ بھی نہ کریں
    شہ رگ کٹ جائے لیکن ھم اجلاس بھی نہ بلائیں
    شہ رگ کٹ جائے اور ھم مذمت بھی نہ کریں اب اتنے بھی بے بس اور لاچار نہیں کہ اپنی غیرت کا مقبرہ اپنے ہاتھوں سے بنائیں ھم نے مذمت کی ھے دیکھنا اب کیسے پورا انڈیا ہماری مذمت سے لرزتا ۔۔۔۔

    حکمرانوں ۔۔۔؟ یاد رکھو غیرت مند قوم کی شہ رگ پر جب کوئی خنجر رکھ دے تو پھر اجلاس نہیں بلایاکرتے پھر صرف مذمتی بیان نہیں دیا کرتے پھر دوسروں کیطرف نہیں دیکھاکرتے بلکہ پلٹ کر وار کیا کرتے ہیں ردعمل دیاکرتے ہیں

    نوٹ۔۔۔۔لولی لنگڑی اپاہچ او آئی سی کا اجلاس بلانے
    صرف بددعائیں دینے کفار کے ترلے لینے اور آئےروز
    یوم یکجھتی منانے سے اگر آزادی ملنا ہوتی تو فلسطین کب کا آزاد ہو چکا ہوتا
    دعا گو۔۔۔شیخ بابرعلی

    1. #آج_شہ_رگ_کٹ_گئی

      دنیاکی تاریخ کا

      یہ پہلا واقعہ ھے کہ ہماری شہ رگ کٹ گئی لیکن
      جسم کو محسوس تک نہ ہوا۔۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ کرتارپوربارڈر کو کھولاگیا
      جنگی قیدی واپس کیاگیا وہ بھی چائے پلاکر
      فضائی حدود کھولی گئیں وہ بھی چند لمحوں میں ہی
      گالی اور گولی کےجواب میں زبردستی مبارکبادیں دی گئیں
      سلامتی کونسل میں ھندو بنئیے کے حق میں دنیاکےسامنے ووٹ دیکر اپنی ہی تاریخ کا بلتکار کیا گیا
      غرض کہ انکی ہرشرارت کاجواب امن اورپیارکی زباں میں دیاگیا
      لیکن۔۔۔۔۔۔ لیکن
      کیاملا۔۔؟؟ کونسی شاباشی ملی ۔۔؟؟
      پھر دوبارہ دہشتگردی۔۔؟
      پھر کشمیری رہنماؤں کی نظربندی۔۔؟
      پھر کشمیری عوام پر گولیوں کی برسات ۔۔؟
      پھر کشمیری ماوں کی گود اجاڑنے کی رسم ادا ۔۔۔؟
      پھر کشمیری بہنوں کے سر سے دوپٹے کو کھینچ لینا۔۔؟
      پھر کلسسٹر بمبز۔۔؟
      پھر سرحدی حدود کی خلاف ورزی ۔۔۔؟
      پھر پاکستان کی خود مختاری پر یلغار ۔۔۔؟
      ہائے ۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ جو آج ہوا۔۔؟؟

      کتنی شرم کی بات ھے کہ پیار دیکر ۔۔۔محبتیں بانٹ کر ۔۔۔ امن کے دیئے جلاکر۔۔۔بند راہیں کھول کر ۔۔۔
      سمٹتے بازو پھیلاکر۔۔آنکھوں مین روشنی کے جگنو سجاکر۔
      امن کی فاختہ بن کر ۔۔۔ پیار بھرے نغمیں سناکر بھی
      وہ انڈین جسنے ہمیشہ آپ کو اپنے جوتے برابر بھی نہیں سمجھا جب اور جہاں چاہا وار کیا اور کھل کر وار کیا
      لیکن افسوس
      ھم ایک غیرت مند قوم ھوکر بھی ۔۔
      ایک نیوکلیئر بم کے مالک کہلواکر بھی
      23کروڑ باھمت عوام کےھوتے ہوئے بھی
      دنیا کی نمبر ون فوج کے ہوتے ہوئے بھی
      توحید پرست ھوکر بھی بت پرستوں کے تلے لیٹے پڑے ہیں
      جی ہاں۔۔۔۔۔۔غیرت مند ماؤں کا پاک دودھ پی کر بھی پیشاب پینے والوں کے نیچے لیٹے پڑے ہیں

      ہائے ۔۔۔۔۔آج شہ رگ کٹ گئی لیکن ھم اُن لوگوں کی محبت اور درد کو سمجھ ہی نہ سکے جو اپنے بیٹے شوہر باپ بچوں کو ہمارے سبزہلالی پرچم میں دفن کرنافخر سمجھتے ہیں۔

      ایسی بات نہیں کہ ھم نے رد عمل نہیں دیا یا ہماری غیرت نہیں جاگی ایسا بھلا کیسے ھوسکتا ھے ۔۔؟؟ کہ پاکستان کی
      شہ رگ کٹ جائے اور ھم ٹویٹ بھی نہ کریں
      شہ رگ کٹ جائے لیکن ھم اجلاس بھی نہ بلائیں
      شہ رگ کٹ جائے اور ھم مذمت بھی نہ کریں اب اتنے بھی بے بس اور لاچار نہیں کہ اپنی غیرت کا مقبرہ اپنے ہاتھوں سے بنائیں ھم نے مذمت کی ھے دیکھنا اب کیسے پورا انڈیا ہماری مذمت سے لرزتا ۔۔۔۔

      حکمرانوں ۔۔۔؟ یاد رکھو غیرت مند قوم کی شہ رگ پر جب کوئی خنجر رکھ دے تو پھر اجلاس نہیں بلایاکرتے پھر صرف مذمتی بیان نہیں دیا کرتے پھر دوسروں کیطرف نہیں دیکھاکرتے بلکہ پلٹ کر وار کیا کرتے ہیں ردعمل دیاکرتے ہیں

      نوٹ۔۔۔۔لولی لنگڑی اپاہچ او آئی سی کا اجلاس بلانے
      صرف بددعائیں دینے کفار کے ترلے لینے اور آئےروز
      یوم یکجھتی منانے سے اگر آزادی ملنا ہوتی تو فلسطین کب کا آزاد ہو چکا ہوتا
      دعا گو۔۔۔شیخ بابرعلی

اپنا تبصرہ بھیجیں