Advertisements
European Parliament calls for immediate removal of sanctions imposed in occupied Kashmir 140

یورپی پارلیمنٹ  نے مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں فوری ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

  
یورپی یونین پارلیمنٹ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں فوری طور پر ہٹالے ، علاقے میں انسانی حقوق بحال کرے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسٹرابرگ(فرانس) میں یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی۔ بحث کے آغاز پر وزیر یورپی پارلیمنٹ پرائینن نے یورپی دفتر خارجہ کا بیان پڑھ کر سنایا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں بڑی تعداد میں فوج بھیج رکھی ہے ، علاقے میں بہت سے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر پربات کریں جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرے۔یورپی یونین کی وزیرTytti Tuppurainenنے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں صورتحال انتہائی نازک ہے، مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے ۔چیئر مین انسانی حقوق کمیٹی ماریا ایرینا نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںکی جا رہی ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ فوج بھیج رکھی ہے۔
رکن پورپی پارلیمنٹ محمد شفق کا کہنا تھا کہ یورپ کو انسانی حقوق کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا، کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے کم کچھ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ مقبوضہ کشمیر پر ثالثی کرے۔لبرل پارٹی کے فل بینین کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق معطل کر رکھے ہیں۔ ایک اور رکن رچرڈ کوربٹ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینے میں ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اوروہاں پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ رکن کلاز بکنز نے کہا کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مداخلت کرے۔ رکن نوشین مبارک کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر یوں کو 70سال سے حق خود ارادیت سے محروم کررکھاہے اور وہ کشمیر میں تباہ کن صورتحال کاذمہ دار ہے۔ گینا ڈاڈنگ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں فوری ختم کرے۔ واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر پر 12 سال بعد بحث کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں