Advertisements
بحثیت وزیراعظم معافی مانگتا ہوں جو کچھ مظفرآباد میں ہوا وہ سرینگر جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔راجہ فاروق حیدر خان 148

بحثیت وزیراعظم معافی مانگتا ہوں جو کچھ مظفرآباد میں ہوا وہ سرینگر جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔راجہ فاروق حیدر خان

مظفرآباد.

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے سنٹرل پریس کلب پر پولیس حملے پر معافی مانگتے ہوئے چوڈیشل اور انتظامی انکوائری کی یقین دہانی کروا دی مجھے افسوس ہے کہ یہ واقع ہوا جو کہ نہیں ہونا چاہے تھا پریس کلب مقدم ادارہ ہے اور اس کی ایک تاریخ ہے تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ سنٹرل پریس کلب کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے لیکن یہ واقع کیوں پیش آیا ۔

اس کی شفاف انکوئری کروائیں گے میں اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہوں جو افراد اس میں ملوث تھے جو ظاہری یا پسے پردہ تھے ان سے بھی پوچھ گچھ ہو گئی پریس کلب سے میرا تعلق بہت پرانا ہے کرسیاں آنی جانی ہیں لیکن اس ادارے کا تقدس کا خیال رکھنا میری زمہ داری ہے یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ادارے کی انسلٹ ہوئی ہے جس پر میں نادم ہوں غلطی تسلیم کر لینی چاہے یہ واقعات تو مقبوضہ کشمیر میں ہوتے ہیں کہ صحافیوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر کے اندر میڈیا آزاد ہے آزاد میڈیا ملک کی ترقی اور آئین کی پاسداری کے لیے جاندار میڈیا کی ضرورت ہوتی ہے میں یقین دلاتا ہوں کہ اس کی انکوائری شفاف ہو گی جس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا صدر سنٹرل پریس کلب مظفرآباد طارق نقاش کا کہنا تھا کہ اس واقعات پر پھرپور مزمت کرتے ہیں سنٹرل پریس کلب نمائندہ ادارہ ہے جو کہ تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے اور حکومت کے ہر مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے ۔

لیکن جس طرح پولیس کی جانب سے صحافتی ادارے اور صحافیوں پر حملہ کیا گیا وہ ناقابل برداشت ہے فوری طور پر اس معاملے کی شفاف انکوئری کروائی جائے اور ایسے محرکات کو سامنے لایا جائے کہ وہ کون سے عوامل تھے جس کی بنیاد پر یہ ہوا آزاد کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلا واقع ہے کہ پریس کلب پر برائے راست شیل فائر کیے گئے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کلب کی اہمیت سے آشنا ہیں اس لیے ان کا آنا اس بات کا مظہر ہے کہ وہ جلد از جلد اس معاملے کی حساسیت کو جانتے ہوئے یکسو کریں گے ، صدر اسلام آباد پریس کلب شکیل قرار نے خطاب مظفرآباد سنٹرل پریس کلب پر حملے کی بھرپور مزمت کرتے ہیں اسلام پریس کلب مظفرآباد پریس کلب اور اپنے صحافیوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ شفاف انکوئری سے قبل جو افراد اس سارے معاملے میں شامل تھے معطل کیا جائے اس کے بعد ہی شفاف انکوئری ممکن ہو سکتی ہے انھوں نے کہا جب پریس کلب پر حملے کی فوٹیج دیکھی یوں محسوس ہو رہا تھا کہ انڈین فورسز نے حملہ کر دیا ہے شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے مظفرآباد کے صحافیوں کے ساتھ ہر جگہ پر کھڑے ہو گے اسلام آباد پریس کلب ہو یا مظفرآباد صحافیوں کے ساتھ جہاں بھی نا انصافی ہو ہماری آواز بلند ہو گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں