Advertisements
Free Business Listing
تقسیم در تقسیم اور درست سمت کا تعین:تحریر میر افضال سلہریا۔ 58

تقسیم در تقسیم اور درست سمت کا تعین:تحریر میر افضال سلہریا۔

ریاست جموں کشمیر کی جبری تقسیم در تقسیم کا عمل بہتر سال سے کسی نہ کسی صورت میں جاری و ساری ھے اسکی ابتدا 22 اکتوبر 47 کو قبایلی حملے کی صورت میں ہوا جس نے ریاست کو آزاد رکھنے کی مہاراجہ کی خواہیش کو ناکام بنا کر بھارت کو ریاست میں گھسنے کا جواز دیا اورریاست کی مستقل تقسیم کی بنیاد فراہم کی۔

.غازیوں. مجاہدوں. حریت کے سالاروں ملت کے ٹھیکیداروں نے دو حصوں کی تقسیم پر ہی بس نہ کیا بلکہ 28 اپریل 1949 معاہدہ کراچی کر کے گلگت بلتستان کو اپنی وراثت سمجھتے ھوے براہ راست پاکستان کے کنٹرول میں دے دیا اور دوسری طرف بھارت نواز شیروں نے معاہدہ دہلی میں بھارت کو ریاست کا مختار بنایا۔

یہی سنگین غلطیاں ستر سال بعد بھارت کیلے بھارتی مقبوضہ ریاست کی مزید تقسیم کی بنیاد بنی آج بھارت کا یہی موقف ھے کہ ,پاکستان نے تو ستر سال پہلے گلگت بلتستان کو چھین لیا اور بعدازاں صوبائی سٹیٹس دیا تھا پھر بھارت پر اعتراض کیوں ہے, پاک بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں محدود حق رائے دہی کے وعدے کر کے بھی جموں کشمیر کو اس حق سے محروم رکھتے ہوئے تقسیم کو دوام بخشا ہے حالانکہ ان قراردادوں میں بھی ریاست جموں کشمیر کی عوام سے انکا بنیادی حق آزادی چھین کر حق خودارادیت کو الحاق تک محدود رکھا گیا۔ ریاست کی اس غیر یقینی صورتحال پر بھارت اور پاکستان ایک پیج پر آپسی لازوال محبت اور جموں کشمیر کی تقسیم اور غلامی پر متحد لگتے ہیں.ریاستی عوام کو حقوق، تعمیر و ترقی اور آزادی کے نام پر دھوکہ دینے اور ان کا کیس عالمی سطح پر خراب کرنے کی ہر کوشش میں ہمرکاب رہے ہیں۔ ۱۹۷۱ کی جنگ میں جب پاکستان کی تقریبآ بانوے ہزار فوج بھارت کے ہاتھوں قید ھو گئ۔

تو ان کو بھارت کی قید سے نکالنے کیلے ایک بار پھر جموں کشمیر کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا گیا اور معاہدہ شملہ کر کے اپنے بانوۓ ھزار فوجی تو انڈیا کی قید سے آذاد کروا لیے گے لیکن جموں کشمیر کے مسلے کو انڈیا پاکستان کے آپسی تنازعے کی شکل دے کر بین الاقوامی مداخلت ہمیشہ کیلے ختم کرنے کا وعدہ کر دیا .اس سارے کھیل میں بھی بھارت اور پاکستان کو اپنا مفاد مقدم تھا ریاست کے لوگوں کی حثیت تب بھی کوہی نہ تھی اور نہ آج ھے.اب جبکہ بھارت نے عملی طور پر جموں کشمیر اور لداخ کو مزید تقسیم کر کے اپنی یونین کا حصہ بنا کر اپنے تہیں ریاست کیساتھ اسکا قضیہ ہی ختم کردیا ہے۔

اپنی مرضی کے نتاہج حاصل کرنا ایک خواب ضرور ہو سکتا ھے لیکن اسکی تعبیر اتنی آسان بھی نہیں کہ ایک دم سب ختم ھو جاۓ.سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ مہاراجہ کی ریاستی حکومت کے خلاف مزاحمت کے نام پر ریاست کی تقسیم کے کرداروں شیروں غازیوں مجاھدوں رہیس الاحراروں کا کردار وطن دوستی پر مبنی تھا یا پڑوسی ممالک کی وفاداری پر ؟؟ اس پر تحقیق کرنا ریاست کے عوام کا فرض ھے ,22اکتوبر کا متحدہ ریاست پر حملہ ریاست کی آذادی کیلے تھا یا تقسیم کیلے,,معاہدہ کراچی، معاہدہ دہلی یا اندرا شیخ معاہدہ کرنے والی قیادت کا ہر قدم بھارت اور پاکستان کے مفاد میں تھا یا کہ ریاست کے عوام کے مفاد میں, اقوام متحدہ قراردادوں میں حق خودارادیت محدود کر کہ پاک بھارت نے ایک دوسرے کو فائدہ پنچایا یا جموں کشمیر کے لوگوں کو,, شملہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے مفاد میں تھا کہ ریاست کے عوام کے مفاد میں,, اب سوچیے کہ 1947سے آج تک بھارت وپاکستان کا ہر قدم دوسرے کے نقش قدم پر ہے اور ان کی مجرمانہ غلطیوں کی سزا آج جموں کشمیر کے عوام بھگت رہے ہیں اور سب سے اہم بات کہ ان خوفناک حالات میں کس کا کیا کردار بنتا ھے. نام نہاد آذاد کشمیر کے 49 گونگے بہرے ممبران اسمبلی اور وزیراعظم سمیت روایتی قیادت کی بے بسی کا مطلب یہی ھے کہ یہ لوگ مجبور ہیں لاچار اور بے اختیار ہیں, یہ اب ریاست کے اس حصے کی عوام پر منحصر ھے کہ تقسیم وطن کے ان سہولت کاروں کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں. ایک طرف بھارتی جبر و استحصال کی انتہا ہے تو دوسری طرف اب ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا پڑتا ہے کہ کیا پاکستان جموں کشمیر کے مسلے پر جموں کشمیر کے عوام کی آذادی کے حق میں ھے ؟

اگر ایسا ھے تو واحد راستہ کیا بچتا ھے وہ واحد اور قابل عمل جس پر چل کر جموں کشمیر کی آذادی کے سوال کو حل کیا جا سکتا ھے وہ یہ ھے کہ آزاد کشمیر و گلگت بلتستان پر مشتمل نماہندہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے جو باقی منقسم ریاست کی وحدت کی بحالی کیلے دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ خود پیش کرے لیکن ایسی کسی بھی آواز کو سننے کیلے اسلام آباد شائد تیار نہیں کیونکہ بایس اکتوبر کو عبوری نماہندہ آہین ساز اسمبلی کی آواز کو جس طرح ریاستی جبر کے زریعے دبانے کی کوشش کی گئ یہ واضع اشارہ تھا کہ جو دہلی کرتا ہے وہی اسلام آباد بھی کرۓ گا اور جو کچھ دہلی اب کر رہا ھے اس کو اسلام آباد اپنے انجام تک پہنچائے گا.اسلیے فرزندان حریت اب بقاء کی جنگ آہینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق درست سمت کا تعین کر کے ہی لڑی جا سکتی ھے ۔ حالات کی سنگینی میں پاکستان کے ارباب و اختیار اگر ہوش کے ناخن لے کر آذاد کشمیر و گلگت کی نماہندہ حکومت کو تسلیم کریں تو ریاست کے لوگوں کی آذادی کی راہ بھی ہموار کر سکتے ھیں ۔نام نہاد تجزیہ کار یہ یاد رکھیں کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ جہادی ,اثاثوں و فوج سمیت تمام ادارے بزور طاقت کشمیر لینے کی کوششوں سمیت پس پردہ اپنی بقاء کی جنگ میں مصروف ہیں لیکن یہ بقاء اسی صورت ممکن ھے جب ریاست کے عوام پر اعتماد کیا جاہیگا ورنہ جنگ تو پانیوں دریاوں اور راستوں پر بھی ہو گئ لیکن جموں کشمیر کے عوام کی قربانی دیکر اپنا مستقبل بہتر کرنے والوں کا اپنا مستقبل تاریک ہی نہیں بھیانک بھی ہو سکتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں