Advertisements
اگر چھپانے کی کوئی چیز نہیں تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں جانے کیوں نہیں دیتا ؟امریکی  سینیٹرنے اہم سوال اٹھا دیا۔ 148

اگر چھپانے کی کوئی چیز نہیں تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں جانے کیوں نہیں دیتا ؟امریکی  سینیٹرنے اہم سوال اٹھا دیا۔

واشنگٹن ۔

بھارت نے امریکی سینیٹرز کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے دورے سے انکار کر دیا ۔ امریکی سینیٹر کرس وان ہولین نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کے وہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے وہاں کے حالات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کے بھارت کی حکومت نے انہیں دورہ کرنے کے انکار کردیا کے اس وقت مقبوضہ کشمیر کے دورے کا وقت درست نہیں ۔

امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کے  اگر چھپانے کی کوئی چیز نہیں تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں جانے کیوں نہیں دیتا؟تمام وزیٹرز کو بھی مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں ، بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم ہم سے چھپانا چاہتی ہے  اور ہمیں دیکھانا نہیں چاہتی ۔ مقبوضہ کشمیر میں تمام معمولات زندگی مفلوج ہین جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کے مقبوضہ کشمیر کے حالات معمول پر ہیں دوسری طرف وہاں جانے پر مکمل پابندی ہے ۔

بھارت لوگوں کو مقبوضہ کشمیر میں جانے سے روک رہا ہے کے کئیں دنیا کے سامنے اس کے مظالم واضح نہ ہو جائیں اگر وہاں کے حالات نارمل ہیں تو لوگوں پہ جانے کی پابندی کیوں ہے ؟بھارتی مقبوضہ کشمیر کے سیاستدانوں کو بھی مقبوضہ کشمیر جانے کی پابندی ہے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہو رہی ہے بھارت دنیا سے مظالم چھپا رہا ہے مقبوضہ کشمیر میں تمام نظام دربرہم ہے موبائل، انٹرنٹ سروس بھی بند ہے کاروبار اور تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے لوگ گھروں میں محصور ہیں جیل کی کفیت ہے جسے چھپایا جا رہا ہے 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں