Advertisements
روحانی پاب ( سردار ریاض احمد مرحوم ) کا سفر آخرت : تحریر  سردار اسد عارف  159

روحانی باپ ( سردار ریاض احمد مرحوم ) کا سفر آخرت : تحریر  سردار اسد عارف 

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں، ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے۔ اچھے استاد  بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

دیگر معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں اگر اسلام میں استاد کے مقام کے بارے میں ذکر کیا جائے تو اسلام اساتذہ کی تکریم کا اس قدر قائل ہے کہ وہ انہیں روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے۔ہمارے روحانی باپ سردار ریاض احمد (مرحوم )جہنوں نے اپنی زندگی کے 35 سال تعلیمی خدمات کے لئے صرف کئے ۔ سردار ریاض احمد( مرحوم )جن سے مجھ سمیت ہزاروں طالبعلم  نے پڑھنا، بولنا ، سوچنا، اور لکھنا سیکھا ہے جس شخص سے آپ نے لکھنا سیکھا ہو اس شخص پہ لکھنا خاصا مشکل کام ہے سردار ریاض  احمد (مرحوم)   6 نومبر  کو  نماز عصر  کی ادائیگی  کے دوران  حرکت قلب بند ہونے کے باعث خالق حقیقی سے  جا ملے  ریاض صاحب کی موت کو زہین تسلیم کرنے کو تیار نہیں  لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے  ہم لاہور سے اپنے  اس عظیم  روحانی باپ کے جنازے پر پہنچے پررونق اور مسکراہٹ سے بھرے چہرے کو دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا کے  جیسے مرحوم ابھی  ُاٹھ کے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ ہم سے بات کرنے لگے ہیں ۔

طالبعلم استاد کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم نے اس عظیم شخص کو اپنے طالبعلموں کا احترام کرتے ہوئے دیکھا میں سمجھتا ہوں خوش قسمت ہیں وہ طالبعلم جہنوں نے اس عظیم استاد سے درس انسانیت سیکھا جب کبھی بھی ریاض صاحب سے ملاقات ہوتی تھی  وہ اپنے ایک ایک طالبعلم کے بارے میں دریافت کرتے اور طالبعلموں کی کامیابی پہ اس قدر خوش ہوتے جیسے حقیقی باپ اپنے بیٹے کی کامیابی پہ خوش ہوا کرتا ہے ہمارے زندگی کے دس سال اس شفیق انسان کی تربیت میں گزرے مرحوم استاد  کم اور دوست زیادہ تھے  وہ ایک نفیس، با اخلاق ملنسار اور شفیق  انسان تھے  انہوں نے اپنی 35 سالہ تعلیمی خدمات احسن طریقے سے سر انجام دیں  نہ صرف اپنے طالبعلموں کے لئے ایک شفیق باپ کی حثیت رکھتے تھے بلکہ  علاقے کے بے سہارا لوگوں کے سہارا  بھی بنے رہے ۔۔

کسی بھی انسان کے حقیقی والدین اس کو آسمان سے زمین پر لے کر آتے ہیں لیکن استاد اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ طالب علم کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں اساتذہ بہت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے نبی ﷺ نے بے شمار جگہوں پر اساتذہ کے احترام کا حکم دیا۔ نبی رحمت کا ارشاد ہے کہ ” مجھے معلم بنا کر معبوث کیاگیا ہے ”۔ اسلام میں علم کے حصول کے لیے کئی مقامات پر تاکید کی گئی ہے۔اساتذہ علم کے حصول کا براہ راست ذریعہ ہیں اس لیے ان کے احترام کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اساتذہ کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے اس لیے اہمیت کا حامل ہے ۔ کیونکہ وہ منبع علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی باپ  ہوتے ہیں۔ ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لیے اپنی زندگی صرف کرتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر کہتے تھے کہ ” جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آقا بن گیا۔” طلبہ کی اپنے اساتذہ سے محبت کی مثالیں تاریخ کے اواراق میں جا بجا ملتی ہیں ۔

اسی طرح علامہ اقبال کے بارے میں یہ بات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے کہ جب انہیں "سر”کا خطاب دیا جانے لگا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ جب تک ان کے استاد سید میر حسن کوشمس العلماءکا خطاب نہیں دیا جاتا‘ وہ اپنے لیے یہ خطاب قبول نہیں کرسکتے علامہ اقبال سے جب پوچھا گیا کے آپ کے استاد نے ایسا کیا کیا تو علامہ اقبال نے کہا میرے استاد نے اقبال دیا جسے آپ سر کا خطاب دینا چاہتے ہیں  ایک انسان استاد کے بغیر کبھی بھی کامیاب شخصیت کا حامل نہیں ہوسکتا۔ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ہنرمند استاتذہ کا ہاتھ پایا جاتاہے جو اس کی شخصیت کو نکھار کر دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔یونین کونسل علی سوجل کے بہت سے کامیاب لوگ مرحوم استاد متحرم کے لگائے ہوئے پودے ہیں جو آج ایک پھل دار تنا ور درخت بن کر معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں سردار ریاض احمد(مرحوم) کی تعلیمی خدمات کوکے سہنری حروف میں یاد رکھا  جائے گا مجھ سمیت  علاقے کے ہزاروں طلبہ اور طالبات  اس روحانی باپ کی وجہ سے آج باشعور زندگی گزار رہے ہیں اللہ پاک اس شفیق انسان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے جسطرح انہوں نے ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل روشن کیا اللہ پاک ان کی قبر مبارک کو روشن  و منور رکھے  اور پسمندگان کو صبر عطا فرمائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں