Advertisements
Free Business Listing
مقبوضہ  کشمیر 103 ویں روز بھی غیر یقینی صورتحال برقرار، امریکی اراکین کانگریس کا ایک مرتبہ پھر مقبوضہ علاقے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار۔ 190

مقبوضہ  کشمیر 103 ویں روز بھی غیر یقینی صورتحال برقرار، امریکی اراکین کانگریس کا ایک مرتبہ پھر مقبوضہ علاقے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار۔

سرینگر  15 نومبر ۔

مقبوضہ کشمیر  مسلم اکثریتی علاقوں میں آج 103 ویں روز بھی غیر یقنی صورتحال برقرار، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرنے کے بعد بھارتی جنتیا پارٹی کی حکومت کی طرف سے  وحشیانہ کاروئیاں جاری  ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 کے تحت ہابندیاں جاری ہیں جبکہ چپے چپے میں بھارتی فورسز کے اہکار تعنیات ہیں اگرچہ ٹیلی فون سروس بحال کر دی گئی تاہم انٹرنٹ ، ایس ایم ایس موبائل سروس اہم مواصلاتی زرائع تا حال مطعل ہیں دکانیں صرف صبح کے وقت 2 گنھٹے کھولی جاتی ہیں تاکہ لوگ کھانے پینے کی اشیا خرید سکیں ۔

دریں اثنا لوگوں کو آج جمعہ کے بعد بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لئے سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں ۔ انتظامیہ نے 5 اگست کے بعد سرینگر مرکزی جمعہ مسجد میں لوگوں کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔ امریکی اراکین کانگریس کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے بھارت کے غیر جہموری رویے کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔

دوسری طرف پوری دنیا میں کشمیری بھارت کے غیر جہموری رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں مظاہرین کا کہنا ہے بھارت انسانیت کا قاتل ہے ۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے عالمی دنیا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں