Advertisements
UN and international journalists demand permission to visit Kashmir 106

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی  صحافیوں کو کشمیر جانے کی اجازت کا مطالبہ۔

امریکی کانگریس کی ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن میں کشمیر پر سماعت کے دوران بھارتی زیرانتظام کشمیر میں گرفتار افراد کی فوری رئائی ، غیر ملکی صحافیوں اور ماہرین قانون کو کشمیر میں جانے کا مطالبہ کیا گیا ۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس سماعت میں انسانی حقوق کے سات علمبرداروں قانون دانوں اور دانشوروں نے اپنی شہادتیں پیش کیں ، سماعت کو سننے کے لئے امریکی کانگریس کے ارکان ڈیوڈٹون ، شیلا جیکسن لی ، برائن، پرامیلا جیا پال اور کرس سمتھ موجود تھے ۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی کشمیری نثراد  امریکی قانون دان شہلا اسائ نے اراکین کانگریس کو بتایا کے ان کا خاندان کشمیر کا دیرینہ سیاسی گھرانہ ہے جس کے کئی افراد ان دنوں جیل میں ہیں اور ان افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کے وہ اس اُمید کے ساتھ کمیشن میں پیش ہوئی ہیں کے ان کے خاندان سمیت ہزاروں لوگوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کو بند کروایا جائے گا ۔ 5 اگست کے اقدام کے بعد بھارتی زیرانتظام کشمیر میں گرفتار ایک نوجوان مبین شاہ کی کزن اور انسانی حقوق کی وکیل یسرا فاضلی نے بتایا کے مبین شاہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیاہے  اور بقول مبین کے پورے علاقے کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔

امریکی کانگریس کی اس سماعت کے دوران کشمیر یوں کے حق خودارادیت کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ  وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ میں الجھے بغیر اپنی کہانی سنانے کے قابل ہو سکیں ۔

سماعت کے بعد میڈیا بریفنگ میں کشمیری رہنما تاشفین قمر  نے بتایا کے ٹام لینٹوس ہیومن کمشین کا مقصد دنیا بھر میں انسانی حقوق کا جائزہ لے کر قانون سازی کے لئے کانگریس کو سفارشات بھجنا ہے ۔ تاشفین قمر کا کہنا ہے کے سماعت کے موقع پر سوال و جواب کے سیکشن میں جب یہ پوچھا گیا کے کشمیری کیا چاہتے ہیں تو سماعت میں موجود شرکا نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔

میڈیا بریفنگ میں موجود بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے لئے ایک دہائی سے زائد عرصے سے سرگرم عمل رہنے والی امریکی خاتون کیرن فیشر نے کمیشن کی سماعت کو کشمیریوں کے لئے خوش آئند قرار دیا ، انہوں نے کہا کے کے پہلی بار امریکی ایوان میں کشمیر پر بات ہوئی جس سے کشمیر کے دیرینہ حل میں مدد ملے گی 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں