Advertisements
تم کھڑے کہاں ہو؟ تحریر " سہیل وڑائچ 48

تم کھڑے کہاں ہو؟ تحریر ” سہیل وڑائچ

ویسے تو تم ہر جا ہو، کبھی مظفر آباد آزاد کشمیر میں ہو تو کبھی گلگت بلتستان میں اور کبھی کراچی یا اسلام آباد میں، ہر روز کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی موضوع پر تمہارا بیان بھی آتا ہے مگر یوں لگتا ہے کہ تمہارے مختلف شہروں کے دوروں اور نت نئے بیانوں کے باوجود تم کہیں غائب ہو۔

تم اگر اس ریاست میں موجود ہوتے تو نانا یا والدہ کی طرح تمہارا متبادل بیانیہ ہوتا، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہوتے مگر تم تو بھیڑوں کے ریوڑ میں ایک اور بھیڑ بن چکے ہو، کیا نون اور کیا قاف، کیا پی پی اور کیا تحریک انصاف، سب ایک ہی گود میں بیٹھے نظر آ رہے ہیں، سب طوطوں کی طرح ایک ہی زبان بول رہے ہیں، سب بلبلوں کی طرح مدھر سُروں میں نغمے بکھیر رہے ہیں.

قومی سیاست میں ایک بھی شِکرا نہیں، ایک بھی عقاب نہیں۔ سب میاں مٹھو بنے خوشامدی بول بولتے ہیں اور انعام میں چوری کھا کر سو جاتے ہیں۔ تم بھی طوطے اور بلبل بن چکے ہو، وہ بھٹو خاندان کا عقابی رنگ اور شِکرا پن کہاں کھو دیا؟

یاد رکھو جس ملک کی سیاست خوشامد پر چلنے لگے جہاں متنوع رنگوں اور متضاد صفحوں کے بجائے سب ایک صفحے پر چلے جائیں، جس ریاست سے اختلافِ رائے غائب ہو جائے، اظہارِ رائے کی آزادی چھن جائے وہ کامیاب نہیں بلکہ ناکام ریاست کہلاتی ہے۔

تم کہاں کھڑے ہو؟ تمہاری ماں اور نانا کے دل تو جمہور کے ساتھ دھڑکتے تھے، تمہارا نانا تو کہتا تھا کہ میں ہر اُس گھر میں رہتا ہوں جس گھر کی چھت ٹپکتی ہے۔ تمہاری ماں تو پیاز ٹماٹر مہنگے ہونے پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلا لیتی تھی، غریب، پسینہ زدہ اور شکستہ حال بوڑھیوں سے گلے مل کر دل ٹھنڈا کرتی تھی مگر تم تو کہیں اور کھڑے نظر آتے ہو۔

مصلحت اور مصالحت سے تم قابل قبول تو ہو جائو گے مگر مقبول نہیں ہو سکو گے۔ اقتدار تو قاف لیگ کو بھی ملا مگر وہ لوگوں کے دلوں میں جگہ نہ پا سکی، کبھی پاپولر جماعت نہ بن سکی۔ تم بھی اقتدار پا لو گے مگر بیساکھیوں سے ملنے والا اقتدار نہ دیرپا ہوتا ہے اور نہ اس میں کوئی کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔

مانا کہ تمہارا نانا رات کے اندھیرے میں پھانسی چڑھایا گیا۔ تسلیم، کہ تمہاری زیرک ماں کو دن دہاڑے سرِ بازار قتل کیا گیا۔ قبول، کہ تمہارے دو ماموں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں بھری جوانی کے دوران مارے گئے۔ سچ، کہ تمہاری زندگی کو بھی ہر وقت خطرہ ہے۔ درست، کہ اقتدار، مقتدر کے بغیر نہیں ملتا مگر مصلحت اور مصالحت سے ملنے والا اقتدار کٹھ پتلی جیسا ہوتا ہے، چمچوں کو خود مختار کون بناتا ہے؟

یاد رکھو کہ شِکرے بھٹو اور عقابی بینظیر کو اقتدار دینا مجبوری بن گیا تھا، 71ء کا بحران نہ ہوتا تو بھٹو کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کون بناتا؟ خود فوج اسے کیسے مانتی؟ 1988ء میں بینظیر کے علاوہ چوائس کیا تھی؟

نمبروں کا فرق اتنا تھا کہ اقتدار دینا پڑا۔ شکروں کا اقتدار، چاہے تھوڑا ہو عزت اور خود مختاری والا ہوتا ہے۔ ہر شکرے کو اقتدار ہاتھ باندھ کر دیا جاتا ہے اور طوطے ہاتھ باندھ کر معافیاں اور منتیں کرکے اقتدار لیتے ہیں۔ تم خود راستہ چن لو، ایک راستہ تاریخ میں کالے حروف سے رقم کیا جاتا ہے اور دوسرا راستہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ لیڈر اگر اپنے موقف پر ڈٹ نہ سکیں، حرصِ اقتدار یا انتقام کے خوف سے آواز بلند نہ کر سکیں تو انہیں علم ہونا چاہئے کہ ایسی خاموشی موت ہے۔ اگر کوئی لیڈر حالات کے جبر میں مصلحت کی چادر اوڑھتا ہے تو وہ سیاسی خودکشی کی طرف گامزن ہے۔

یاد رکھو تیسری دنیا میں سیاست عشق ہے، جنون ہے، اپنی جان کا سودا ہے۔ اگر مقصد اقتدار لینا ہے یا سکون کی زندگی گزارنا، تو پھر بھٹو اور بینظیر کی سیاست کو چھوڑ کر اقتدار پرستوں کی صف میں کھڑے ہو جائو۔

تاریخ میں زندہ رہنا یا عوام کے دلوں پر حکومت کرنی ہے تو تم دھرنے میں شامل بھی تھے اور شامل نہیں بھی، یہ کیا سیاست ہوئی؟ کبھی ٹھنڈے دل سے سوچنا کہ کہیں مصلحتیں بھٹو کے ترکے کو ہی نہ لے ڈوبیں۔

اسلام آباد کے شہر کوفہ میں اقتدار کی میوزیکل گیم شروع ہے، سب میدان میں ہیں۔ عدل خان نے جاتے جاتے اقتدار کی تکون کے دو کونوں کو دھوبی پٹڑا مارا، اب وہ معاشرتی رِنگ سے وکٹری کا نشان لہراتے ہوئے بار اور بنچ کی تالیوں میں رخصت ہوگا۔ دوسری طرف لاہور کے شہرِ تحریک میں سرخ پھریرے لہرا رہے ہیں، لال لال کے نعرے لگ رہے ہیں، عورت کی آزادی سے لے کر طلبہ یونینوں کی بحالی تک کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سرخ انقلاب کے پہلے شہید بھگت سنگھ کی سرفروشی پھر سے داد وصول کر رہی ہے مگر تم کہاں ہو؟ یہ سارے کام تو تمہارے کرنے کے تھے، صرف تمہارے حامی بیان سے کام نہیں چلے گا۔ تمہیں تو ان تحریکوں کی قیادت کرنا تھی، تم نے تو نانا اور والدہ کی طرح غریبوں کے اندھیرے گھروں میں چراغ جلانا تھے مگر تم اقتدار کے قمقموں کی روشنی کو پانے کی سعی کرنے لگے۔

سنا ہے کہ سوتیلا سوکھ کر کانٹا ہو چکا ہے، اٹھنے بیٹھنے اور چلنے کے لئے اس کو سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ فی الحال سوتیلا بیرونِ ملک جانے اور ہمیشہ وہیں رہنے کے لیے مان نہیں رہا۔ سُنا ہے تم بھی یہی چاہتے ہو مگر سوتیلا اڑا ہوا ہے کہ وہ ہر صورت کراچی جائے گا۔

ضیاء الدین اسپتال میں اس کیلئے کمرہ اور ڈاکٹر تیار ہیں مگر پائوں کی زنجیر کھولنے والے بضد ہیں کہ کراچی نہیں بھیجنا، باہر جائو۔ پوچھنا یہ تھا کہ تم صیاد کے ہم نوا بن کر سوتیلے سے اختلاف کیوں کررہے ہو؟

تاریخ کے صفحات میں سب لکھا ہے کہ کیسے جہانگیر نے اپنے باپ مہابلی اکبر اعظم کو بے دست و پا کرکے وراثت لے لی تھی۔ توقع ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے، اگلے چند دن کے معاملات میں بھی تمہارے کردار کا پتا لگ جائے گا۔ چند دن کی بات ہے تمہارے جمہوری لبادے پر داغ لگ سکتا ہے، دھیان سے چلنا وگرنہ سب کو پتا لگ جائے گا تم کہاں کھڑے ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں