Advertisements
Free Business Listing
مودی تیرا شکریہ  : تحریر  " راجہ ماجد افسر"۔  62

مودی تیرا شکریہ  : تحریر  ” راجہ ماجد افسر”۔ 

مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارت کا باقاعدہ حصہ بنانے کے اعلان کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جہاں کشمیری و پاکستانی عوام کی نظر میں مسلسل نفرت کی علامت بنتے جا رہے ہیں وہی بعض کشمیری بے حد شکرگزار بھی ہیں کہ مودی نے 5 اگست کا اقدام اٹھا کر تقریبا ریاست کے ہر حصے کے سیاسی لیڈروں کے چہرے سے نقاب اتار پھینکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی روایتی لیڈر شپ تو پہلے ہی انڈین نواز تھی تاہم مودی اقدام کے بعد انھیں اپنی سیاسی دکان بند ہوتی دیکھائی دی تو شور شرابہ مچایا لیکن بے سود نکلا، سری نگر کو کل ریاست سمجھنے والے بعض علیحدگی پسند جیلوں میں ڈال دیے گئے تو بعض کی زبان بندی کر دی گئی، چنانچہ اب لال چوک میں کرائے کے جھنڈے نظر آتے ہیں نہ جھنڈوں میں لپٹی نعشیں، بس غم غلط کرنے کیلئے ہفتے میں ایک آدھ جعلی ٹویٹ کرا دیا جاتا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق سری نگر میں کوئی کرفیو نہیں ہے اور اس بات کا اعتراف آزاد کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر بھی کر چکے ہیں کہ سری نگر میں کرفیو نہیں ہے۔ چند ایک مقامات پر عوام اپنی مرضی سے کاروبار بند کیے ہوئے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی فوج سے زیادہ بندوق برداروں کے ڈر سے ایسا کیے ہوئے ہیں۔ جموں و لداخ میں کہیں خوشی کہیں غم کی سی صورتحال ہے۔

میڈیا رپورٹس کیمطابق وہاں کے غیر مسلم خوش ہیں کہ انھیں سری نگر کے مسلم تسلط سے آزادی ملی، البتہ مہاراجہ کے بنائے اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کے خاتمے پر پوری ریاست میں ہر جگہ غم و غصہ موجود ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے براہ راست انتظام میں دیے گئے گلگت بلتستان میں مودی اقدام کے زیادہ اثرات اس لیے دیکھنے کو نہیں ملے کہ حکومت پاکستان ان علاقوں کیساتھ 70 برس قبل معاہدہ کراچی کی صورت میں وہی کچھ کر چکی ہے جو بھارت نے اب جا کر مقبوضہ کشمیر کیساتھ کیا۔ تاہم مودی اقدام کے اثرات سری نگر کیبعد اگر کہیں سب سے زیادہ نظر آئے ہیں تو وہ پاکستان کا زیر انتظام آزاد کشمیر ہے۔

بیس کیمپ کے حکمرانوں کو جب معلوم ہوا کہ مقبوضہ کشمیر کیبعد اب انکی سیاسی دکان ہمیشہ کیلئے بند کی جانے لگی ہے تو چاہنے کے باوجود کسی نے چوں تک نہ کی۔ وزیراعظم فاروق حیدر نے ایک آدھ بار ٹسوے بہائے اور اب کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج اگر خود کاروائی نہیں بھی کرتی توکشمیریوں کی مدد کرنے کے اور بہت سے رستے موجود ہیں، وزیراعظم کے خیال میں شاہد 1947یا 1988کی طرح اجرتی بھیج کر مدد کی جانی چاہیے لیکن ایسا تب ممکن ہوتا جب یہ کھیل اکیلے مودی نے رچایا ہوتا۔ اس بار تو مودی نے بھی کچی گھوٹی نہیں کھیلی۔ زبان زد عام ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی چیڑ پھاڑ پر اتفاق پاکستان کی ایماءپر امریکہ بہادر کی سرپرستی میں ہوا ہے جسکی ضمانت مسلم امہ نے اٹھائی ہے تو بھلا کیسے ممکن ہے کہ پاکستان فاروق حیدر کی باتوں میں آ کر معاہدے کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔

تحریک آزادی کشمیرکے چمپئن باقی لیڈروں میں بیرسٹر سلطان کیلئے میرپور کی سیٹ خالی کرائی گئی اور انھیں بڑی شان سے اقتدار کے ریس کیمپ پہنچایا گیا تاکہ کبھی کبھار آنکھیں دکھانے والے فاروق حیدر کا بندوبست کیا جا سکے۔ متعدد بار کنٹرول لائن توڑنے کا اعلان کرنے والے سردار عتیق کبھی شیخ رشید اور کبھی گجرات کے چوہدریوں کے حضور حاضری پر لگائے گئے ہیں کہ کسی طرح پنڈی کے آستانے سے خلافت مل سکے۔ البتہ سب سے دلچسپ صورتحال پہاڑی و میدانی علاقے کے قوم پرستوں کی ہے۔ مودی اقدام کے فوری بعد قوم پرستوں نے راولپنڈی میں اجلاس رکھا جسکے مطابق راولاکوٹ اگلے اجلاس میں پیپلز نیشنل الائنس(PNA)نامی اتحاد قائم ہوا۔

انہی جماعتوں کے کارکنوں کے مطابق چونکہ قوم پرست تاریخ میں کبھی کسی الائنس کی قیادت ریاست راولاکوٹ سے باہر نہیں گئی اور اس بار بھی یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ جب راولاکوٹ کے ـــ”بڑے قوم پرست” الائنس کی قیادت کیلئے باہر کے کسی بندے کو نامزد کرینگے اور جواب میں خدمات کا اعتراف کر کے قیادت کا سہرا راولاکوٹ کے سر ہی سجایا جاوے گا لیکن کاریگروں نے ایسا نہ ہونے دیا، چنانچہ قیادت گئی میرپور کے پاس اور راولاکوٹ کے دوسرے نمبر کے لیڈر کو سیکرٹری کا عہدہ دیدیا گیا جبکہ ترجمان کیلئے مظفرآباد کا انتخاب کیا گیا۔ اب بڑے لیڈر گھر کے سیکرٹری کے پیچھے چلنے کو تیار نہیں اور سیکرٹری بھی کونسا آسان ہے اس نے بھی تو حج کرنے سے پہلے ہی نو سو چوہے کھا رکھے تھے۔

یوں اس اتحاد کو ناکام بنانے کی کوششیں پہلے دن سے ہی شروع کر دی گئی تھیں تاہم اسکا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے نے اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود اپنی نمبرداری قائم رکھنے کیلئے تیتری نوٹ مارچ کی کال دی۔ اس مارچ نے لازما کامیاب ہونا تھا کیونکہ ایک تو اس وقت عوام کے جذبات تھے اور دوسرا PNA کو ناکام بنانے والے عناصر کی سرپرستی بھی مارچ والوں حاصل تھی۔ اتحاد میں شامل لبریشن فرنٹ اپنے دھڑے کے سربراہ سردار صغیر خان کی ضد پر سردار شوکت کشمیری کی یو کے پی این پی کو الائنس سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان پر انڈین نواز ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ حالانکہ 5 اگست کیبعد شوکت کشمیری نے سب سے پہلے مودی اقدام کی مذمت کی۔

اگرچہ صغیر خان کی اس ضد پر شوکت کشمیری کو اتحاد کا حصہ تو نہ بنایا گیا لیکن اتحاد کے اندر سے ہی یہ آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں کہ ایک ایسا شخص جو 19برس تک خود کسی ایسے پلیٹ فارم میں رہا ہو جو اعلانیہ دوسرے ملک کا وفادار ہو بھلا اسے کیسے یہ حق پہنچتا ہےکہ وہ کسی دوسرے پر الزام لگائے۔ اسی طرح جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے چکوٹھی کنٹرول لائن توڑنے کی کال دی تو دو ہفتوں کے دھرنے کیبعد مارچ شروع کرانے والوں نے خود دھرنا ختم کرایا۔

اس دھرنے میں آزاد حکومت اور اقوام متحدہ کے مبصروں کی وردی میں ملبوس کچھ لوگوں کو استعمال کیا گیا اور عوام کو خوشخبری سنائی گئی کہ اقوام متحدہ نے براہ راست نوٹس لے کر 6 ماہ میں مسئلہ کشمیر حل کرانے کی یقین دھانی کرا دی ہے یہاں بھی کسی نے نہ پوچھا کہ جو اقوام متحدہ ہزاروں کشمیریوں کی شہادتوں پر خاموش رہا وہ اب کشمیر فروخت ہونے کیبعد اچانک کہاں سے اور کیوں نمودار ہو گیا ہے۔ اسکے بعد صغیر خان نےپھر 14 نومبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا، قوم پرستوں کے مطابق یہ اعلان 22 اکتوبر کے پی این اے پروگرام سے توجہ ہٹانے کیلئے تھا۔ چنانچہ جیسے ہی 22 اکتوبر کا پروگرام ختم ہوا دوسرے ہی روز صغیر خان نے اپنا 14 نومبر کا اعلان بھی واپس لے لیا۔ پی این اے کے کاریگروں نے پلاننگ کے تحت مظفرآباد میں ماحول خراب کیا، الائنس کے چیئرمین کی دھلائی کرائی گئی اور خود کوئی مسجدوں میں جا چھپے اور کوئی بھاگ نکلے۔ اسکے بعد الائنس نے مظفرآباد آزاد کرانے سے توبہ کی اور میرپور آل پارٹیز کانفرس رکھی جس میں ایک ہفتہ تک وزیر اعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلی گلگت کی آمد کے چرچے کیے جاتے رہے لیکن وقت آنے پر وہ شفیق جرال بڑے مہمان نکلے جنھیں سردار عتیق صرف اسی جگہ بھیجتے ہیں جہاں خود جانا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

چنانچہ اپنوں کی سازشوں، بڑے لیڈروں کی تنگ نظری اور ایکدوسرے کو تسلیم نہ کرنے کے باعث دو درجن جماعتوں کے الائنس کی میرپور کانفرنس میں حالت یہ رہی کہ PNAکی صرف چار جماعتوں نے میرپور کانفرنس میں حاضری دی۔ دوسری جانب 28 نومبر کو اسلام آباد میں اکیلے سردار شوکت کشمیری نے کانفرنس کرائی جس میںPNAکی درجن کے قریب جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں نیپ کے سیکرٹری ستار ایڈووکیٹ، سروراجیہ پارٹی کے سجاد افضل، کے این پی کے یاسین انجم، ایس ایل ایف کے طارق عزیز اور دیگر شامل تھے۔ پاکستان کی ترقی پسند جماعتوں حاصل بزنجو کی پارٹی کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر سرفراز، مزدور کسان پارٹی کے چیئرمین افضل خاموش سمیت نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا و انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے UKPNP کی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ اب بھی وقت ہے اگر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے باز آئیں اور ایکدوسرے کو دل میں جگہ دیں تو قومی کاز پر جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

اب تو مسلم کانفرنس ، ن لیگ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی جیسی روایتی پارٹیوں کے کارکن بھی قومی آزادی کے کاز سے ہمدردی کا جزبہ رکھتے ہیں کیونکہ وکیل پاکستان نے سبکو بتا دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بارے ہم سے کسی عملی اقدام کی توقع نہ رکھی جائے، ہم بس بمشکل آزاد کشمیر بچانے کی کوشش کرینگے۔ الزامات تو سب پر ہیں لیکن یہ وقت الزام تراشی کا نہیں ہے، یہ ملکر وطن کی وحدت بچانے کا وقت ہے، یہ ریاست بچانے کا وقت ہے کیونکہ ریاست ہو گی تو سیاست ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں