Advertisements
22 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والا کشمیر مارچ حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگائے گا : سراج الحق  37

22 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والا کشمیر مارچ حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگائے گا : سراج الحق 

اسلام آباد ۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر حکمرانوں کے غیر سنجیدہ رویے پر پوری قوم حیران اور پریشان ہے،معمولی مسائل پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا جاتا ہے مگر مسئلہ کشمیر جو پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے،کشمیر کی آزادی کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر سنجیدگی سے ایک لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے،حکومت جلد از جلد سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلائے اور قومی قیادت کی وسیع تر مشاورت کے بعد ایک روڈ میپ طے کیا جائے،22دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والا کشمیر مارچ حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم،امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ،ڈاکٹر خالد محمود،ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی محمد اصغر اور آزاد کشمیر اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرشید ترابی بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے مسئلہ پر پوری قوم متحد ہے اور حکمرانوں سے مطالبہ کررہی ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری کوئی عملی قدم اٹھایا اور کشمیریوں کو بھارت کے ظلم و جبر سے بچایا جائے مگر حکمران باتوں و عدوں اور دعوئوں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔
بھارت نے 5اگست کے اقدام سے اڑھائی سو سال سے دنیا کے نقشے پر موجود کشمیر کا نام ختم کرکے اسے بھارتی ریاست قرار دے دیا اور اسے ہڑپ کر گیا مگر ہمارے حکمران اب بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں 27اگست کی تقریر کے بعد حکمرانوں سے امید کی جاررہی تھی کہ وہ قوم کو جہاد کے لیے تیار کریں گے اور کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی واضح اور ٹھوس قدم اٹھائیں گے مگر حکمران لمبی تان کر سوگئے۔
کشمیری مائیں بہنیں بیٹیاں 120دنوں سے چیخ و پکار کرکے حکمرانوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔بزرگ راہنما سید علی گیلانی نے وزیر اعظم کو آخری خط بھی لکھ دیا مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مودی کے 5اگست کے اقدام کے بعد کشمیر نے عالمی توجہ حاصل کی اور یہ مسئلہ ایشیا ء سے نکل کر ایک عالمی مسئلہ بن گیا۔ دنیا بھر میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بڑے بڑے اجتماعی مظاہرے ہوئے اور پوری دنیا نے بھارت کے ظلم و جبر اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کی مذمت کی۔
لوہا گرم تھا مگر ہمارے حکمران فائدہ اٹھانے کی بجائے چپ ساد ھ کر بیٹھ گئے۔وزیراعظم نے جس طرح اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کشمیریوں کا سفیر بننے کے عزم کا اظہار کیا تھا اس سے پوری قوم اور خصوصاً کشمیریوں میں ایک اطمینان کی لہر دوڑ گئی تھی مگر حکمرانوں کی مسلسل خاموشی نے وہ سارے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں اور دنیا کی توجہ بھی دوسرے مسائل کی طرف ہوگئی ہے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگر حکمران جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیرکی آزادی کا کوئی روڈ میپ دیتے تو اب تک دنیا اس مسئلہ کے حل کے لیے کوئی قد م ضرور اٹھاتی ۔مشرقی تیمور،جنوبی سوڈان اور بوسنیا کے مسائل حل کرنے والے مسئلہ کشمیر پر بھی کوئی قدم اٹھانے پر مجبو ہوجاتے۔مگر جہاں مدعی سست ہوں وہاں گواہ کیسے چست ہوسکتا ہے۔سرا ج الحق نے کہا کہ 22دسمبر کو ملک بھر سے لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچیں گے اور سنگ مر مر کے قبرستان میں بیٹھے مردہ ضمیر حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں