Advertisements
Corona virus death toll reaches 438, Decision to close illegal animal trade، China Standing Committee Meeting 91

کورونا وائرس مرنے والوں کی تعداد 438، چین کی سٹندگ کمیٹی کا اجلاس،جانوروں کا غیر قانونی کاروبار بند کرنے کا فیصلہ

چین کی طرف سے کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کئے کی جانے والے اقدامات میں کوتاہیوں کا اعتراف۔

بیجنگ/ لندن : انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔

چین نے ملک میں پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کی روک تھام کے  حوالے سے اپنے ناقص  اقدامات کا اعتراف کر لیا، جبکہ اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 438 تک جاپہنچی۔

چین کی پولیٹبررو سٹینڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے ایمرجنسی منیجمنٹ نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے جبکہ جانوروں کی منڈیوں جہاں سے یہ وائرس پھیلا وہاں پر کریک ڈاون کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔ گزشتہ روز کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں 64 رپورٹ کی گئی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کے تین ہزار نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ روز ہونے والی ہلاکتیں اور نئے سامنے آنے والے کیسز چین کے صوبے ہوبائی میں  پیش آئے ہیں کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی سب سے بڑی تعداد اسی صوبے میں ہے اور اس وباء کی ابتداء بھی اسی صوبے کے شہر ووہان کی ایک مویشی منڈی سے ہوئی۔

یاد رہے یہ وائرس اس وقت دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں پھیل چکا ہے تاہم چین کے علاوہ اس وائرس سے  صرف ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے فلپائن میں جبکہ فلپائن میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 150 ہے۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس نظام تنفس میں شدید انفکشن کا باعث بنتا ہے اور  اس کی علامات میں بخار اور خشک کھانسی شامل ہے۔

کرونا وائرس چین کی معیشت کو بھی متاثر کر رہا ہے، گزشتہ روز چین میں نئے سال کے آغاز کی چھٹیوں کے بعد پہلے روز ہی چین کی معیشت شدید مندی کا شکار رہی، شنگھائی کمپوزیم انڈیکس 8 فیصد کمی کا شکار رہا جو کہ گزشتہ چار برسوں میں سب سے خراب سطح پر تھا۔

کرونا وائرس کے اٹیک کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چین کے صدر شی جن پنگ نے کی اور اس اجلاس کی کاروائی چین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے شائع کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی حکومت کو اس درپیش بڑے امتحان سے سبق سیکھنا ہو گا، اور اس وباء کے رد عمل میں سامنے آنے والی کوتاہیوں اور خامیوں کے جواب میں ہمیں اپنے ایمرجنسی منیجمنٹ سسٹم کو بہتر بنانا ہو گا اور فوری اور خطرناک  کاموں سے تمٹنے کی اپنی صلاحیتوں کو بھی مزید  بہتر بنانا ہو گا۔

کمیٹی کا کہنا ہے ہمیں جنگلی حیات کے غیر قانونی کاروبار کے مسئلے کے حل کے لئے  اس کاروبار پر مستقل بنیادوں پر پابندی عائد کرنی ہو گی  جبکہ جانوروں کی منڈیوں میں نگرانی کے نظام کو مزید بہتر اور مستحکم بنانا ہو گا۔ خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان میں موجود جانوروں کی ایک منڈی سے ہی یہ وباء پھوٹی ہے جس نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یاد رہے کہ چین میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق چمگادڑوں کو اس وباء کا ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں