Advertisements
گیارہ فروی مقبول بٹ کی برسی پر آذادی پسندوں کی سرگرمیاں اور پیغام 100

گیارہ فروی مقبول بٹ کی برسی پر آذادی پسندوں کی سرگرمیاں اور پیغام

12 فروری 2020، (جے کے نیوز ٹاکس)

ریاست جموں کشمیر کے تمام شہروں سمیت دینا کے تقریبا ایک سو سے زائد ممالک میں  شہید کشمیر محمد مقبول احمد بٹ شہید کی چھتیسویں  برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی ۔ریاست جموں کشمیر اور بیرون ریاست بسنے والے آذادی پسندوں نے گیارہ فروری کے روز شہید قائد کو خراج تحسین پیش کرنے کے جلسے جلوس ریلیوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا۔

آذاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں  قوم پرستوں نے بڑی تعداد میں  ریلیوں اور پروگرامات کا انعقاد کیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پانچ اگست کو مودی حکومت کی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بننے والے  آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قوم پرست پارٹیوں پر مشتمل اتحاد  "پیپلز نیشنل الائنس” کے زیر اہتمام راولاکوٹ، کوٹلی ، ہجیرہ اور راولپنڈی سمیت  کے کئی شہروں میں بڑے جلسے کئے گئے۔

 بھارتی مقبوضہ کشمیر میں شہید کشمیر کی برسی کے موقع پر مکمل ہڑتال رہی ، سمندر پار کشمیریوں نے گیارہ فروری کو لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرے سمیت امریکہ، لندن  اور یورپ کے کئی شہروں میں احتجاجی پروگرامات اور سیمینازر منعقد کئے جن میں بڑی تعداد میں کشمیری شریک ہوئے جہاں  ریاست جموں کشمیر سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا اور ریاست جموں کشمیر کی مکممل آذادی اور خودمختاری تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ 

ریاست کے نوجوانوں کا بڑی تعداد میں شہید کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنا اس بات کی گواہی ہے کہ  شہید کشمیر مقبول بٹ کے جلائی ہوئی شمع اپنی پوری آب و تاب سے پوری ریاست جموں کشمیر کو روشن کئے ہوئے ہے ۔

راولاکوٹ شہر میں پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام بڑے مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جس میں جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی ، جے کے ایل ایف (R)  این ایس ایف ، ایس ایل ایف (AZAD)،  سرو راجیہ انقلابی پارٹی سمیت دیگر قوم پرست پارٹیوں نے شرکت کی جس میں نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی صدر  اور پی این اے کے سیکریٹری جنرل سردار لیاقت حیات، پی این اے کے سیکریٹری مالیات اور سروراجیہ انقلابی پارٹی کے مرکزی رہنما سجاد افضل، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار صابر کشمیری ایڈووکیٹ، ایس ایل ایف آذاد کے وائس چیئرمین عمر صادق ، مرکزی رہنما ایس ایل ایف آذاد صدام  حیات ، ناصر لبریز سمیت دیگر رہنماوں نے خطاب کیا، سٹیج سیکریٹری کے فرائض ایس ایل ایف آذاد کے رہنما طارق عزیر نے انجام دیئے۔ 

جبکہ اسی شہر راولاکوٹ میں ماضی قریب میں  پیپلز نیشنل الائنس کا حصہ رہنے والے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے نے اپنا الگ پروگرام کیا جس میں مرکزی خطاب چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار صغیر ایڈووکیٹ نے کیا، این ایس ایف کی آرگنائزنگ باڈی نے بھی انفرادی طور پر ہی پروگرام کو ترجیج دی جس میں سرخ پوش انقلابیوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔

ہجیرہ میں نیشنل عوامی پارٹی ، این ایس ایف اور دیگر جماعتوں کے زیر اہتمام ہونے والے پروگرام میں  بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ،عباس پور میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین) نے پر جوش ریلی اور جلسہ عام کا انعقاد کیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

شہید مقبول احمد بٹ کی برسی کے موقع پر کوٹلی شہر کو خوبصورت سجایا گیا اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ، نیشنل عوامی پارٹی ، این  ایس ایف ، ایس ایل ایف، ایس ایل ایف آذاد اور دیگر جماعتوں کے زیر اہتمام ہونے والی ریلیوں اور  جلسوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کوٹلی میں جموں کشمیر لبرشن فرنٹ نے پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام ہونے والے پروگرام میں شرکت کی ، ایس ایل ایف آذاد کے زیر اہتمام ہونے والے دھر بازار جلسے میں شرکت کے لئے  تتری نوٹ سے جانے والے قافلے پر قابض بھارتی افواج کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جس سے دو کارکنوں سمیت راہگیر زخمی ہوئے جنہیں ٹی ایچ کیو ہسپتال ہجیرہ منتقل کیا گیا جہاں انہیں فوری طبی امداد دینے کے بعد  شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت اب بہتر بتائی جاتی ہے ۔ 

  میر پور میں جموں کشمیر  لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام شہید کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ اسی شہر میر پور میں دس فروری کی رات جے کے ایس ایل ایف آذاد کے کارکنان اور قائدین  نے بڑی تعداد میں جمع ہو کر مشعل بردار ریلی کا انعقاد کیا۔ مختلف جماعتوں کی طرف سے دس فروری کی شب شہید کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مشعل بردار ریلیز کا انعقاد کیا گیا جن میں راولاکوٹ، ہجیرہ ، کوٹلی ، مظفرآباد، میرپور اور عباس پور قابل ذکر ہیں جہاں شدید سردی کے باوجود کارکنان میں انتہائی جوش و جذبہ دیکھا گیا، جبکہ پاکستان کے شہر راولپنڈی لیاقت باغ پریس کلب میں آذادی پسندوں نے انتہائی خوبصورت مشعل  بردار ریلی کا انعقاد کیا جس میں ریاست جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اس کے علاوہ اسلام گڑھ، چکسواری، ناڑ، کھوئی رٹہ، ڈڈیال، دھر بازار ، تتہ پانی ، ہجیرہ شہر، تتری نوٹ، راولاکوٹ ، باغ مظفر آباد، نیلم ، ہٹیاں سمیت ریاست کے پاکستان زیر انتظام حصے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آذادی پسندوں کے بڑے اجتماعات ہوئے  جن میں شہید کشمیر محمد مقبول احمد بٹ کی زندگی اور ان کی لازوال جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی۔

  تمام شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شدید سردی اور کچھ علاقوں میں شدید خراب موسم کے  باوجود بڑی تعداد میں شرکت کی اور شہید قائد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقبول بٹ شہید کی برسی کے موقع پر ہجیرہ سمیت مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں خواتین بھی ریلیوں کا حصہ رہیں اور شہید کشمیر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر  مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے آذادی پسند قائدین کا کہنا تھا کہ گیارہ فروری کا دن وہ دن ہے جب ریاست جموں کشمیر کے ایک قابض ملک ہندوستان نے ریاست جموں کی مکمل آذادی اور خودمختاری کے داعی رہنما محمد مقبول احمد بٹ کو یہ سوچ کر پھانسی کے پھندے پر چڑہا دیا تھا کہ شائد اس کی موت کے خوف سے اس ریاست کے بسنے والے لوگ اپنی جانوں کی امان کے لئے غلامی پر آمادہ ہوجائیں گے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ کشمیری قوم اپنی قومی آذادی اور خودمختاری کے لئے اپنے قائد کی شہادت کے بعد ذیادہ جاندار انداز میں اس راسے پر گامزن اور کاربند ہوئی اور اس جدوجہد میں ہزاروں نوجوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے بھی گریز نہ کیا۔

آذادی پسند قائدین کا کہنا تھا کہ پانچ اگست کے بعد پاکستان کی بہتر سالہ پالیسی بہت کھل کر کشمیری قوم پر واضح ہو چکی ہے جو پاکستان آخری گولی آخری فوجی اور شہ رگ کی دہائیاں دیتا پھرتا تھا اس نے اس سال پانچ فروری کو کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی یکجہتی کے ڈرامے میں جب ریاست کے بھارتی مقبوضہ علاقے میں کرفیو کو 6 ماہ مکمل ہوئے اس روز پانچ فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے نام پر ایک گانا ریلیز کیا جس میں بھارتی افواج کو کشمیر جانے کے بول شامل کئے گئے جو نہ صرف ایک پیشہ ورانہ فوج کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ کشمیروں کے ساتھ  بھونڈا مذاق  اور رستے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

قوم پرست رہنماوں کا کہنا تھا کہ پاکستان اگر سچ میں کشمیر اور کشمیریوں کی کوئی حمایت کرنا چاہتا ہے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ پاکستان اپنے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے علاقے آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر ایک انقلابی حکومت کا اعلان کرے جس کا سب سے پہلے سفارتخانہ اسلام آباد پاکستان میں  کھولا جائے اور پھر پاکستان اپنے دوست ممالک سے ریاست جموں کشمیر کی اس حکومت کو تسلیم کروائے بصورت دیگر پاکستان کو اخلاقی طور پر کشمیریوں سے معافی مانگ کر مسئلہ کشمیر سے بطور فریق دستبردار ہو جانا چاہئے ۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں