Advertisements
facbooke blocks severl account due to sharing of Martyre Maqbool Butt and Afzal Guru's pics on facebook 94

چھتیس برس قبل پھانسی لگنے والے مقبول بٹ کی تصویر فیس بک کے لئے درد سر بن گئی، متعدد اکاونٹ بلاک

فیس بک کا دوہرا معیار،مقبول بٹ،افضل گورو کی برسیوں پر متعدد اکائونٹس معطل،پابندیاں عائد

جموں کشمیر (جے کے نیوز ٹاکس)مقبول بٹ شہیداور افضل گوروشہید کی برسیاں فیس بک کے لیے بھی درد سر بن گئی،متعددفیس بک اکاﺅنٹس معطل سمیت ایک ماہ کے لیے پاپندیاں عائد کردی گئیں،شہریوں کا کمپنی کے مالک مارک زکربرگ سے اکاﺅنٹس بحالی کا مطالبہ،وممتاز کشمیری راہنماﺅں محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی برسیوں کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پرپاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر سمیت دنیا بھر موجود ان رہنماﺅں کے ہم وطن کشمیری مداحوں کی جانب سے انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تصاویر،ویڈیوز اور تحریری مواد شیئرکرنے پر فیس بک انتظامیہ نے فیس بک اکاﺅنٹس اور پیجز اور گروپس سے شیئر کیا گیا مواد ہٹاتے ہوئے اکاﺅنٹس ایک ماہ اور متعدد اکاﺅنٹس ڈس ایبل کردیے۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب اس دوہرے معیار پر صارفین میں غم وغصے کی لہرپائی جاتی ہے، پاک میڈیا پوائنٹ کے مطابق شہریوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ فیس بک نے متعدد بھارتی شہریوں کو بھرتی کررکھا ہے جو جان بوجھ کر فیس بک ے مواد ہٹا کر کشمیریوں کی آواز دبانا چاہتے ہیں،شہریوں کا کہنا ہے کمیونٹی سٹینڈرڈ کا بہانہ بنا کر ہمارے رائے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ فیس بک کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اکاﺅنٹس بحال کرتے ہوئے جموں کشمیر میں ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے میں کشمیریوں کا ساتھ دیا جائے،شہریوں نے انفرادی سطح پر معاملہ فیس بک کے سپورٹس بکس میں اٹھانے کی کوشش بھی کی ہے۔

مقبول بٹ شہید کو آج سے چھتیس برس قبل  گیارہ فروری  1984 کو ہندوستان کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر اسی جیل کے اندر ان کو دفن کر دیا گیا تھا ، مقبول بٹ کا جرم یہ تھا کہ اس نے ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک سے آذادی کی بات کی تھی ، برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے جابرانہ قبضے نے جب ریاست جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تب مقبول بٹ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے آذادی کی جدوجہد کا راستہ اپنایا جس میں ان کو بارہا ہندوستان اور پاکستان کی جیلوں اور عقوبت خانوں میں ظلم و تشدد کا سامنا رہا کئی بار تحریک آذادی کو منظم کرنے کے لئے ریاست جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر سے آر پار گئے تاکہ ریاست کے نوجوانوں جدوجہد آذادی کے لئے منظم اور متحرک کیا جا سکے ۔

  مقبول بٹ اور افضل گورو شہید  کی برسیوں پر ان کے چاہنے والوں کی طرف سے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر ان کی تصویروں کے ساتھ ان کی زندگی کے کارنامے شیئر کرنا فیس بک کو اس قدر ناگوار گزرا کہ ہزاروں کی تعداد میں سوشل میڈیا اکاونٹس معطل کر دیئے گئے جو کہ فیس بک انتظامیہ کی طرف اظہار رائے کی آذادی کے خلاف کھلی جنگ ہے۔

مظلوم اور محکوم کی آواز کو دبانے والے اظہار رائے کی آذادی کی بات کرتے نہیں تھکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں