Advertisements
Forty thousand Pakistanis have been stripped of jobs by Saudi Arabia. 155

سعودی عرب کی جانب سے چالیس ہزار پاکستانیوں سے روزگار چھین لیا گیا۔

سعودی حکومت نے سکیورٹی خدشات اور سعودی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر گزشتہ چار ماہ میں ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار سے محروم کر کے ملک واپس بھیج دیا۔

ریاض: (جموں کشمیر نیوز ٹاکس)

سعودی عرب میں گزشتہ دو سال سے سعودائزیشن کے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس کے منفی اثرات پاکستانی ملازمین پر بھی پڑ رہے اور انہی منفی اثرات کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی محنت کشوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

انگریزی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق گزشتہ صرف چار ماہ کے دوران کئی ہزار پاکستانیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا جس میں کئی اہم شعبوں کے ملازمین بھی شامل ہیں۔ اخبار نے دعوی کیا ہے کہ سعودی حکومت نے سکیورٹی خدشات اور سعودی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر چار ماہ کے دوران چالیس ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کر دیا ہے۔

سعودی حکومت کی اتنے بڑے پیمانے پر کریک ڈاءون کو لے کر پاکستانی محنت کشوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ملائیشیا میں ہونے والی اسلامی ممالک کی کانفرنس کو لے کر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں تنائو دیکھنے میں بھی آیا جس کے بعد سعودی حکومت نے مبینہ طور پر پاکستان کو دھمکیاں بھی دیں۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے دعوی کیا ہے کہ سعودی حکومت نے پاکستان کی معاشی مجبیوریوں کا فائدہ اٹھایا اور اسے ملائشیاء سمٹ میں جانے سے روک دیا، ترک صدر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو ملائشیاء سمٹ میں شرکت سے روکنے کے لئے پاکستانی مزدوروں کو سعودیہ سے نکالنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ اگر پاکستان نے ملائشیاء سمٹ میں  شرکت کی تو پاکستانی مزدوروں کو نکال کر ان کی جگہ بنگلہ دیشیوں کو ویزے دیئے جائیں گے ۔

سعودی عرب کی اسی دھمکی کی وجہ سے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ملائشیاء سمٹ میں شرکت کا وعدہ کرنے کے باوجود شریک نہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں