Advertisements
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں 13کشمیری نوجوان گرفتار کر لیا۔ 152

مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے ذرائع ابلاغ کو خاموش رہنے پر مجبورکردیا: ٹیلی گراف

سرینگر29دسمبر ( جموں کشمیر نیوز ٹاکس)برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور اس کو دو حصوںمیں تقسیم کئے جانے کے بعدمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی ذرائع معطل کردیے گئے جس کی وجہ سے علاقے میں اطلاعات کی فراہمی مکمل طورپر بند ہوگئی اور مقامی ذرائع ابلاغ اس ناکہ بندی کی زد میں آ گئے ۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق اخبار نے لکھا کہ قابض حکام نے 5 اگست کو کشمیر پریس کلب سمیت پورے علاقے کے براڈ بینڈ انٹرنیٹ کنکشن کاٹ دیے اورموبائل فون سمیت ٹیلی مواصلات کومکمل طورپر معطل کردیاتھا۔اخبار نے لکھا پریس کلب سرینگر کا کنکشن کاٹ دینے کا مطلب ہے کہ 200 سے زائد کلب ممبران اپنی رپورٹس آگے نہیں بھیج سکتے ہیں۔اخبار کے مطابق قابض حکام نے بعد میں سری نگر کے ایک ہوٹل میں محکمہ اطلاعات ونشریات کے ذریعے ایک عارضی میڈیا سنٹرقائم کیا اور اس میں انٹرنیٹ کی محدود سہولت فراہم کی ۔ اس کے بعد میڈیا سنٹر کو محکمہ اطلاعات کے دو چھوٹے کمروں میں منتقل کردیا گیا جہاں سیکڑوں صحافیوں کو چند منٹ کی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے گھنٹوں انتظارکرنا پڑتا ہے۔

اخبار کے مطابق ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ہمیں اپنی رپورٹس بھیجنے کے لئے میڈیا سنٹر میں بہت دیرتک قطار میں کھڑے رہنا پڑتا ہے جوہمارے لئے مایوس کن اور تذلیل کے مترادف ہے۔انہوںنے کہاکہ ان حالات میں کام جاری رکھنا بہت مشکل ہے۔ایک اور مقامی صحافی نے اخبار کو بتایا کہ مجھ جیسے کتنے ہی لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی اور رپورٹس فائل کرنے کے لئے اکثر نئی دہلی جانا پڑتا ہے۔اخبار نے لکھاکہ کشمیر پریس کلب کے منتخب بورڈ نے متعدد مواقع پرقابض حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا اور اخباری دفاتر اورپریس کلب سمیت صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لئے انٹرنیٹ کی بحالی پر زور دیا۔لیکن یہ ساری کاوشیں بیکار ثابت ہوئی ہیں۔اخبار کے مطابق سرینگر سے شائع ہونے والے سب سے بڑے انگریزی اخبار”گریٹر کشمیر“ نے 5اگست کے بعد کئی دنوں تک اداریہ نہیں لکھا کیونکہ ذرائع ابلاغ کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر کوئی بات لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

اخبارات ہزاروں نوجوانوں کی گرفتاری ، ان تشدد ، مواصلاتی ذرائع کی معطلی اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر تبصرہ نہیںکرسکتے تھے اور نہ اس کے بارے میں خبریں دے سکتے تھے ۔ ٹیلی گراف کے مطابق اس دوران صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لئے کئی صحافیوں کو وجہ بتائے بغیرگرفتارکیاگیاجبکہ انٹلی جنس اور پولیس حکام انہیں طلب کرکے سوالات پوچھتے ہیں۔اخبار کے مطابق پانچ ماہ گزرجانے کے باوجود کشمیر میں صحافیوں کو اب بھی شدید مشکلات کا سامناہے اور اطلاعات کی آزادانہ فراہمی پر پابندیاں عائد ہیں جبکہ انٹرنیٹ ، پری پیڈ موبائل اور ہرقسم کا سوشل میڈیا مکمل طورپر بند ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں