Advertisements
Nagetive effects of social media on teenagers and adults and chailed especially. 147

سوشل میڈیا !  سہولت یا  مرض؟ نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کے اثرات۔

امریکہ کے ایک شخص نے جس کے سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں مداح تھے اس نے یہ دیکھنے کے لئے کہ اس کی موت کا سن کر کتنے لوگ اس کی آخری رسومات کے لئے آتے ہیں اپنی موت کا ڈرامہ رچایا اور سوشل میڈیا پر ڈال دیا اور اپنی آخری رسومات میں لوگوں کی حاضری کو دیکھنے کے لئے اپنے گھر پر انتظار کرنے لگا لیکن حیرت انگیز طور پر اس کی الوداعی رسومات کو اس کی زندگی میں ادا کرنے کے لئے وقت پر صرف ایک شخص پہنچ پایا اور وہ اس کی ماں تھی۔
دوستو سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی دور حاضر کی ایک اہم ایجاد ہونے کے ساتھ ساتھ ہر فرد کی بغیر کسی ضرورت کے ایک اہم ضرورت بھی بن چکا ہے ۔ انسان اس کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ سرکھجانے کی بھی فرصت نہیں مل رہی اور تقریبااس کے عادی افراد کھائے پیئے بغیر تو کافی وقت گزار سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے بغیر ان کے لئے ایک لمحہ بھی چین سے گزارنا مشکل ہے ، سوشل میڈیا کی شکل میں یہ ٹیکنالوجی ہمارے اوپر اتنی خطرناک حد تک حاوی ہو چکی ہے کہ ہم کسی بھی چیز کی پرواہ کئے بغیر اس کے استعمال میں مگن رہتے ہیں، حتٰی کے اگر غلطی سے ہمارے والدین کو ہماری ضرورت پڑے تو اپنے والدین تک کی پرواہ نہیں رہتی اور آج کل روزانہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کے استعمال میں مصروف والدین بالخصوص ماؤں کو اپنی اولاد تک کی یاد بھول جاتی ہے اور گھنٹوں وقت گزر جانے کا احساس تک نہیں ہوتا ، کچھ لوگ جنھوں نے اس موبائل فون کی ایجاد سے قبل رشتوں کو نبھایا ہے وہ اس بات کو بہتر سمجھتے بھی ہیں اور اس سے پناہ مانگتے ہیں کہ کاش یہ موبائل فون ایجاد ہی نہ ہوتا تو اچھا تھا کم از کم اپنی اولاد اور رشتہ دار بات کرنے کو تو میسر ہوتے ۔

موبائل فون نے جہاں انسانوں کے درمیان فاصلوں کو مٹا دیا ہے جیسے دنیا کے کسی کونے میں موجود شخص جب من چاہے دنیا کے کسی حصے میں موجود شخص سے بات کر سکتا ہے اسے دیکھ سکتا ہے اس کی خیریت دریافت کر سکتا ہے ، انسان اس کے استعمال سے بغیر ٹی وی دیکھے دنیا بھر کی خبروں سے باخبر رہ سکتا ہے یہ اس کے وقت کے ساتھ مثبت استعمال کے فائدے بھی ہیں لیکن ان فائدوں کے مقابلے میں اس موبائل فون، سوشل میڈیا ، ٹک ٹاک اور دیگر سماجی رابطے کی سائٹوں نے نوجوان نسل پر بہت خطرناک ، تباہ کن اور بدترین اخلاقی گراوٹ کے اثرات ڈالے ہیں جو کہ ان فائدوں سے کہیں ذیادہ نمایاں اور خوفناک ہیں۔

آج سے پندرہ بیس سال پہلے انسان کا لائف سٹائل آج سے بالکل مختلف تھا کیونکہ تب لوگ اگر کسی دوست رشتہ دار کے ہاں جاتے یا اسے اپنے ہاں بلاتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ سارا وقت انہوں نے ایک دوسرے کی خاطر وقف کر رکھا ہے لیکن آج جہاں سوشل میڈیا اور موبائل فون نے لوگوں کو گلوبل ویلج میں بسا کے رکھ دیا ہے وہیں ہماری گھریلو، خاندانی اور سماجی زندگی اس قدر دوریوں کا شکار ہو چکی ہے کہ دوستوں اور رشتہ داروں سے بالمشافہ پورے اطمنان سے ملاقات تو بہت دور کی بات اب اگر دو منٹ کے لئے کسی مریض کو دیکھنے جایا جائے تو وہاں بھی کچھ دیر کے لئے اس نشے سے چھٹکارا ممکن نہیں ہو سکتا اس طرح ان سماجی رابطے کی ویب سائٹوں نے ہمارے سماج کے سارے رابطوں کو منقطع کردیا، سارے پیار ،بھائی چارے اور محبتوں کے کلچر کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے ۔

سوشل میڈیا ایک ایسا نشہ بن چکا ہے جس کی اس پورے معاشرے کو لت لگ چکی ہے اور انسان سمجھ ہی نہیں پاتا کہ وہ کس قدر اس مہلک نشے میں گرفتار ہو چکا ہے ، کتنے لوگوں کی زندگیوں کو اس سوشل میڈیا کے نشے نے برباد کر دیا ہے ، آئے دن سوشل میڈیا کے زریعے فراڈ کئے جارہے ہیں، بے تکی اور بے بنیادخبریں پھیلا کر انتشار کو ہوا دی جاتی ہے اور لوگوں کے خلاف غلط پروپیگنڈا کر کے انہیں قتل تک کروا دیا جاتا ہے ، اسی سوشل میڈیا کے زیعے جعلی رشتے بنائے جاتے ہیں جو زندگی بھر کا روگ بن جاتے ہیں۔

انسان اس سوشل میڈیا کے نشے کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ اس کی زندگی میں ذاتی کچھ بھی نہیں رہا ہر انسان اپنے دن بھر کے سارے معاملات خواہ وہ کوئی اچھا کام ہو یا برا کوئی نیکی کر لی ہو یا کسی کی عزت اچھال دی ہو وہ معاملات جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان بھی راز رہتے ہیں انسان نے اس کا بھی سوشل میڈیا کے زریعے ا علان شروع کر دیا ہے حتٰی کے دن بھر نوجوان جو کچھ کھاتے اور پیتے ہیں اس کی بھی تصویریں سوشل میڈیا کے سمندر کی نظر کی جاتی ہیں اور حد تو یہ ہے مہمانوں کو گھر بلا کر ان کے آگے کھانا رکھ کر سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے کہ آج فلاں شخص کو کھانا کھلایا اس کی مہمان نوازی کی اور فلاں فلاں ڈشز کھلائیں اور پھر اس تکلف پر داد وصول کی جاتی ہے اور مہمان اگر سوشل میڈیا کے اصولوں سے واقف نہ ہو تو شائد کہیں گھومتی پھرتی تصویر دیکھ کر دل ہی دل میں تذلیل بھی محسوس کرتا ہو ۔

لیکن آپ کو ایک بات جان کر حیرت ہو گی کہ اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے والے اس انڈسٹری کے روح رواں کا حال یہ ہے کہ حال ہی میں فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنے گھر کے آس پاس موجود تمام گھروں اور فلیٹوں کو اصل قیمت سے کہیں ذیادہ ادا کر کے خرید لیا اور اس وجہ یہ تھی کہ اسے اس ٹیکنالوجی کے شور سے اس کی ذاتی اور خاندانی زندگی متاثر ہو رہی تھی، ایپل کے بانی سٹیفن جابز اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے بچے سوشل میڈیا اور موبائل فون کا استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے والدین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے ذہنی دباؤ یعنی ڈپریشن بڑھتا ہے ، لیکن انہی لوگوں نے اپنے کاروباری منافع کو بڑھانے کے لئے پوری دنیا کو اس کے پیچھے لگا کر ذہنی بیماری میں مبتلا کر رکھا ہے اور ہم ہیں کہ مسلسل اور جان بوجھ کر اس کے بے جا استعمال سے خود کو اور اپنی نسلوں کو نہیں روک رہے۔

دور حاضر میں اسی سوشل میڈیا کی شکل میں ایک فتنہ ( ٹک ٹاک) نامی ایک سائٹ ہے جو کہ بری طرح نوجوانوں کی اخلاقی تباہی کا سبب بن رہا ہے ، اس فتنے کے آنے کے بعد نوجوان نسل انتہائی خود غرض ہو چکی ہے اور سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لئے غیر اخلاقی حرکتوں میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس فتنے پرنہ صرف اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ پورے کہ پورے خاندان اخلاقی  دیوالیہ  پن کا بھی شکار ہو رہے ہیں جہاں مختلف فحش ویڈیوز اور گانوں پر پوری پوری فیملیز برہنہ ناچتی ہیں اور غلیظ ویڈیو کلپس پر ہونٹ ہلا کر داد وصول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سوشل میڈیا سائٹ کے آنے کے بعد نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں فحاشی ایک فیشن کی شکل اختیار کر چکی ہے اور لڑکے اور لڑکیاں جس قدر فحش اور گندی ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتے ہیں اسی قدر ان کی مصنوعی فین فالوؤنگ کو بڑھا دیا جاتا ہے اور مشہور ہونے کا یہ شوق نوجوان نسل کو اخلاقی ،مذہبی،سماجی،شعوری اور جسمانی طور پر مکمل برہنہ کر کے اخلاقی سرحدوں سے باہر دھکیل رہا ہے ، لڑکیاں ننگی حالت میں ویڈیوز پر ڈانس کر تی ہیں اور گندی اور غلیظ گفتگو سے بھرے ویڈیو کلپس پر ہونٹ ہلا کر ادا کاری کی کوشش کرتی ہیں اور مصنوعی اداکاری اور مصنوعی مشہوری کے اس شوق نے اچھے اچھے خاندانوں کی عزت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے ۔

نوجوان فوٹو اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال کر دن بھر بار بار اسے کھولتے اور دیکھتے رہتے ہیں کہ کتنے لائکس، ویوز اور کمنٹس ملے ہیں اور یہ بات اس چیز کی نشاندہی ہے کہ ایسا کرنے والا شحص اس بیماری کا مکمل شکار ہو چکا ہے اور یہ نشہ اسے مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کر چکا ہے اور پھر آہستہ آہستہ انسان کا لاشعور اس فتنے کو قبول کر لیتا ہے تو پھر بیہودگی کا ایک سمندر ساری سماجی روایات اور اخلاقیات کو بہا کر لے جاتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نشہ آپ کے اندر ایک بیماری کی طرح سرایت کر تا ہے کیونکہ جو آپ کرتے ہو وہ آپکا کوئی کارنامہ نہیں ہے بلکہ کسی کے کہے گئے الفاظ پر ہونٹ ہلا نا ہے جو کہ سچ مچ کی اداکاری تو کبھی بھی نہیں ہو سکتا اور نہ آپ کی اس طرح کی ویڈیوز سے معاشرے کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ کل آپ کی آنے والی نسلیں جب آپ کے دنیا سے جانے کے بعد آپ کے ایسے کرتوت دیکھیں گی تو آپ کو کن الفاظ میں یاد کریں گی اس بات کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں اگر کچھ دیرکے لئے آپ ایک ذمہ دار ماں ، باپ یا بہن ، بھائی کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں تو ۔

تو احباب ۔۔۔! اپنے آپ کو حقیقت کی دنیا میں لے آیئے جہاں آپ جو کام کریں اس کا آپ کو آپ کی نسلوں کو اور آپ کے ملک اور معاشرے کو فائدہ ہو سکے ورنہ آج والدین روتے ہیں کہ انہیں بگڑی ہوئی اولاد ملی ہے تو کل کو آپ کی اولاد روئے گی اور آپ کو بددعائیں دے کے انہیں بگڑے ہوئے والدین ملے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں