Advertisements
کوالا لمپور سمٹ سے متعلق ایک دوست ملک کے خدشات تھے جو دور ہو گئے ۔ عمران خان 227

کوالا لمپور سمٹ سے متعلق ایک دوست ملک کے خدشات تھے جو دور ہو گئے ۔ عمران خان

ملائیشیاء:

کچھ دوست ممالک کو لگ رہا تھا کہ یہ امت کو تقسیم کرنے کی سازش ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے ، ہمیں اسلامو فوبیا اور اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لئے مل کر جدوجہد کرنی ہو گی۔ عمران خان اور مہاتیر محمد کی مشترکہ پریس کانفرنس۔

ملائیشیاء میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے ملائیشیاء سمٹ کے متعلق کچھ دوست ممالک کے خدشات تھے کہ شائد یہ امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے یہ امت کو تقسیم کرنے کی سازش نہیں بلکہ ہمیں مسلم امہ کو درپیش مسائل کا حل نکالنا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ملائیشیاء کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی تفصیلات جاری کی گئیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے خدشات ختم ہو گئے ہیں اور اب پاکستان دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر ٹی وی چینل سمیت دیگر منصوبوں پر کام کرے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر انہیں شدید دکھ اور افسوس ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے کسی دوست ملک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں ہوں گے ۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ایک دوست ملک کو لگ رہا تھا کہ اس سمٹ کا مقصد شائد امت مسلمہ کو تقسیم کرنا ہے لیکن ہمیں مل کر اسلامو فوبیا کے خلاف لڑنا ہو گا۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے اب پاکستان اور ملائیشیاء مل کر کام کریں گے ، پاکستان آئندہ ہونے والے کوالالمپور سمٹ میں بھی شرکت کرے گا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے کسی دوست ملک کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہیں ہوں گے۔ عمران خان کا ملائشیاء کی تجارتی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر انڈیا ملائیشیاء کے ساتھ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے تجارت ختم کردے گا تو اس کمی کو ہم پورا کر دیں گے۔

اس موقع پر ملائیشیاء کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کا مشترکہ پریس کانفرنس کے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات اچھے موڈ میں رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان دورہ ملائیشاء دونوں ممالک کے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں