Advertisements
Babri will always remain a Mosque , it will never be accepted by Ram temple | Molana Arshad Madni | President of Union of Ulama e Hind 259

بابری ہمیشہ مسجد ہی رہے گی اس کو رام مندر کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ مولانا ارشد مدنی صدر علماء ہند

قانون و انصاف کے تقاضوں کے مطابق بابری مسجد ایک مسجد تھی جو مسجد ہی رہے گی۔ صدر جمیعت علماء ہند مولانا ارشد مدنی۔

نئی دہلی: 

تفصیلات کے مطابق جمیعت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ بابری مسجد ایک مسجد تھی اور مسجد ہی رہی گی جس کا متبادل قبول نہیں کیا جا سکتا، ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے قانون اور آئین کے مطابق بھی اور اسلامی شرعی قوانین کے مطابق بھی بابری مسجد کو ہٹا کر مندر کی تعمیر قانونا جرم ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

  بھارتی حکومت نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے لئے اور اس تعمیراتی کام کی نگرانی کے لئے ایک ٹرسٹ تشکیل دیا جائے گا جس کے لئے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے مرکزی کابینہ کے اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس ٹرسٹ کا نام ” شری  رام جنم بھومی تیر تھا کھیترا” رکھا جائے گا ۔ بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مرکزی حکومت ہند نے اترپردیش حکومت سے درخواست کی تھی کہ سنی وقف بورڈ کو بابری مسجد کی جگہ کے بدلے  پانچ ایکڑ زمین دی جائے  جس پر عمل کیا گیا۔

پچھلی تین دہائیوں سے مسلسل ہندو مسلم فسادات کی وجہ سمجھی جانے والی اور ان فسادات کی وجہ سے شہرت پانے والی بابری مسجد ہندوستان کے شہر ایودھیا میں ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں کچھ ہندووں کا خیال ہے کہ یہ جگہ ہندو دیوتا "رام” کی جائے پیدائش ہے۔ مسجد کے زمینی کاغذات اور نوشتہ جات کے مطابق اس مسجد کو مغل بادشاہ بابر کے حکم پر جنرل میر باقی نے 1528 میں تعمیر کیا تھا ۔

یہ مسجد اٹھارویں صدی سے ہندو اور مسلم برادریوں کے مابین تنازعہ کا مرکز رہی ہے۔ ہندو مسلم فسادات اور چپقلش کا سلسلہ تو دہائیوں سے چلتہ آرہا تھا کہ لیکن پھر 1992 میں انتہا پسند ہندووں کے ذریعے اس مسجد پر حملہ کروایا گیا اور اس کو مسمار کروا دیا گیا، اس واقع نے پورے ہندوستان میں ہندو مسلم  فسادات کو مزید بڑھکا دیا ۔

یہ مسجد جس پہاڑی پر واقع ہے جسے رام کوٹ یعنی رام کا قلعہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کچھ ہندووں کے مطابق جنرل میر باقی نے مسجد کی تعمیر کے لئے اس جگہ پر پہلے سے موجود رام کے مندر کو تباہ کیا تھا ۔ سنہ 2003 میں ہندوستان کے آثار قدیمہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں اس بات کی تجویز دی گئی تھی کہ ایسے آثار موجود ہیں کہ اس جگہ پر  ایک پرانا ڈھانچہ موجود ہے۔ انیسویں صدی میں اس مسجد کو لے کر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کئی ایک دفعہ فسادات ہوئے جو کہ عدالتی تنازعات کی شکل بھی اختیار کر گئے۔

  سنہ 1949 میں ہندو مہاسبھا سے منسلک انتہا پسند ہندووں نے پوشیدہ طور پر مسجد کی عمارت کے اندر رام کے بتوں کو لا کر رکھ دیا تھا جس کے بعد حکومت نے مزید تنازعات سے بچنے کے لئے مسجد کی عمارت کو  تالے لگا دیئے تھے۔ مسجد کی عمارت پر حکومتی کی طرف سے تالا بندی کے بعد ہندو اور مسلمان دونوں مذاہب کے لوگوں  نے اس عمارت تک رسائی کے لئے عدالتوں میں مقدمات قائم کر لئے ۔

سنہ 1992 ، 6 دسمبر کو وشوا ہندو پریشد اور اس سے منسلک دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں  کے عسکری غنڈوں کے ایک بڑے گروہ نے پورے ہندوستان میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے فسادات برپا کر دیئے اور اس مسجد کو منہدم کر دیا، اس واقع میں دو ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں ذیادہ مسلمان تھے ۔

ستمبر 2010 میں آلہ آباد ہائی کورٹ نے ہندووں  کے اس دعوے کو برقرار رکھا کہ یہ جگہ رام کی جائے پیدائش ہے سو احکامات دیئے گئے کہ اس جگہ پر رام گنبد کی  تعمیر کی جائے، لیکن اسی جگہ پر مسجدکی تعمیر کے لئے اس زمین کی جگہ کا ایک تہائی حصہ دیا گیا لیکن اس فیصلے کو دونوں فریقین نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے اور مکمل زمین کے حصول کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل کر دیا جس میں پانچ ججوں کے بنچ نے اگست سے اکتوبر 2019 تک سماعت کی ۔

نومبر 9، 2019 کو  سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا  اور اس مسجد کی دو اعشاریہ 2٫77 ایکڑ زمین مندر کی  تعمیر کے لئے ٹرسٹ کے حوالے کرنے کا حکم دیا جبکہ عدالت نے مسجد کی تعمیر کے لئے سنی وقف کو متبادل پانچ ایکڑ اراضی دینے کا حکم بھی جاری کیا۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں