Advertisements
Dabbie Abraham A Brithish Member Parliament from Indian Air Port, Labor Party and Kashmir Council announce a Protest when Modhi goes to Beljium Visit. 242

برطانوی رکن پارلیمنٹ کے ساتھ بھارت کا رویہ قابل مذمت | مودی کے دورہ بلجیم پر احتجاج ہو گا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ اورکشمیر بارے پارلیمانی گروپ کی سربراہ کے ساتھ بھارت کا رویہ قابل مذمت ہے

بھارتی وزیر اعظم کے دورہ بلجیم کے موقع پر تیرہ مارچ کو برسلز میں احتجاجی مظاہرے کی کال

برسلز 19 فروری ( جے کے نیوز ٹاکس)

کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے برطانوی رکن پارلیمنٹ اورکل جماعتی کشمیرپارلیمانی گروپ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہمز کے ساتھ دلی ائرپورٹ پر بھارتی حکام کی طرف سے نارواسلوک کی شدید مذمت ہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی حکام نے دلی ائرپورٹ پر برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز جو پارلیمنٹ میں کشمیرپارلیمانی گروپ کی چیئرپرسن بھی ہیں ، کو روک کر انکا بھارتی ویزا منسوخ کردیا تھا اور انہیں بھارت میں داخل ہونے سے روک دیاتھا ۔ وہ بھارت کے دو روزہ دورے پر پیر کی صبح ایک غیرملکی پرواز کے ذریعے دلی ائرپورٹ پہنچی تھیں ۔ علی رضا سید نے ایک بیان میں بھارت کے اس رویہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کل جماعتی کشمیر پارلیمانی گروپ کی سربراہ کے ساتھ دلی ائرپورٹ پر نارواسلوک کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ۔

انھوں نے کہاکہ بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسا غیرشائستہ اور اخلاق سے عاری رویہ اپنا رہے ہیں ۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز نے اپنے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے فوراً بعد ایک بیان میں کہاکہ بھارتی حکام نے دلی ائرپورٹ پر ان کا ویزا منسوخ کرنے کے بعد ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور جارحانہ رویہ اختیار کیا ۔ علی رضا سید نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکام خصوصا پارلیمنٹ کو بھارت کی اس ہٹ دھرمی کا نوٹس لینا چاہیے ۔

ادھرعلی رضا سید نے انسانی حقوق کے تحفظ کے بارے میں یورپی یونین کے رواں سال کے ایجنڈے کی ترجیحات کا خیرمقدم کیا ہے ۔ انہوں نے انسانی حقوق کے بارے میں کونسل آف یورپی یونین کے حالیہ اعلامیہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ یہ انتہائی احسن اقدام ہے اور ہ میں امید ہے کہ یورپی یونین کے حکام بھارت کے ساتھ مذاکرات میں بھی انسانی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دیں گے ۔

اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ یورپین یونین کے رواں سال کے ایجنڈے میں سر فہرست رہے گا ۔ اقوام متحدہ کے منشور پر عمل درآمد کو57سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری ہونے والے اس اعلامیے کے مطابق، یورپین یونین اپنے اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ وہ اصولوں کی بنیاد پر قائم انٹرنیشنل آرڈر پر یقین رکھتی ہے، جہاں انسانی حقوق کا تحفظ اس کا اہم حصہ ہے ۔ نیز یورپین یونین انسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے وعدوں کی تکمیل کیلئے تمام دستیاب وسائل بھی استعمال کرے گی ۔

اعلامیے میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ یورپی یونین اقوام متحدہ کے اداروں کے فریم ورک کے تحت آنے والی تمام انسانی حقوق کی پامالیوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے ۔ علی رضا سید نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین بھارتی وزیر اعظم کے آئندہ دورے کے موقع پر مذاکرات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھائے گی ۔

انہوں نے یورپی حکام پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کےلئے بھارت پر دباوَ ڈالیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے گزشتہ سال5اگست کے بعد سے مسلسل مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ کیا ہوا ہے جس سے کشمیریوں کے شہری حقوق پامال ہو رہے ہیں او ر اب متعصب مودی حکومت نے بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کو بھی متنازعہ شہریت بل کے ذریعے نشانہ بنایا ہے اور ان کے شہری حقوق سلب کرنا شروع کردیئے ہیں ۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار بھارت کے ساتھ مذاکرات میں انسانی حقوق پر ترجیح بنیادوں پر بات کریں گے اور بھارت کو پابند کریں گے کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرے ۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم تیرہ مارچ سے برسلز کا دورہ کریں گے ۔ کشمیرکونسل یورپی یونین  نے بھارتی وزیراعظم کے دورہ بلجیم کے موقع پر تیرہ مارچ کو برسلز میں احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں