Advertisements
بولان میڈیکل کالج میں طلبہ پر تشدد فی الفور بند کیا جائے ۔ طمانیت فرشتے  گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے، احتجاج کو ملک کے کونے کونے میں پھیلائیں گے۔ جمیل بلوچ /واصف چوہدری 129

بولان میڈیکل کالج میں طلبہ پر تشدد فی الفور بند کیا جائے ۔ طمانیت فرشتے  گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے، احتجاج کو ملک کے کونے کونے میں پھیلائیں گے۔ جمیل بلوچ /واصف چوہدری

(لاہور جے کے نیوز ٹاکس )
بولان میڈیکل کالج میں ٹیوشن فیس اور ہاسٹل فیس میں تین گنا اِضافے، کالج کی نجکاری اور وائس چانسلر کے رویئے کے خلاف طلبہ اور طالبات کے احتجاج کے 13ویں روز مزید ۱۰ طالبات کو گرفتار کر لیا گیا۔

اِس ضمن میں این این یس پاکستان کا ہنگامی اجلاس مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں منعقد ہوا، جِس میں طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے این این ایف جنوبی پنجاب کی رہنماء طمانیت فرشتے نے کہا کہ حکومت تعلیمی نجکاری مافیا کی پشت پناہی میں ہر حد سے گذر چکی ہے۔

طلبہ گذشتہ 13 دن سے ہر طرح کے جبروتشدد سے لڑ کراپنے جمہوری اور آئینی حقوق کے لیئے جدوجہد کر رہے ہیں اور نام نہاد جمہوری حکمران ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے کام لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا یہ حکمران بھی خود کو ارضی خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور یہ بات بھول گئے ہیں کہ این ایس ایس پاکستان اکتوبر 1968 تحریک کے ذرہعے ایک ارضی خدا کو عنانِ اقتدار سے باہر پھینک چکی ہے۔

فرشتے کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طلبہ مسائل کو عوام کے پاس لے جایا جائے۔ اب طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور نچلے متوسط طبقے پر مشتمل پاکستان انقلابی پارٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے، حکومت الٹی گنتی گننا شروع کر دے۔
این ایس ایف پاکستان کے رہنماء جمیل بلوچ کا کہنا تھا کہ پاڑہ چنار سے لیکر بولان میڈیکل کالج بلوچستان تک متوسط طبقے کو تعلیم سے محروم کر دینے کی سازش اپنے عروج پر ہے۔

اگر اسے لگام نہ دی گئی تو تعلیم صرف مقتدر خاندانوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ملک میں غربت اور جہالت پھیلانا مقتدر طبقات کے مفاد میں ہے جبکہ قومی مفاد فقط اِس میں ہے کہ کروڑوں نوجوان جو تعلیم سے دور ہیں انہیں سرکاری سطح پر مفت تعلیم فراہم کی جائے۔
این ایس ایف لاہور کے جنرل سیکرٹری واصف چوہدری کا کہنا تھا کہ مفت تعلیم ہمارا حق ہے نہ کہ رعائت۔ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن تعلیم کی نجکاری اور طبقاتی نظامِ تعلیم کے خلاف ایک عرصے سے برسرِ پیکار ہے۔

ان کا کہنا تھا حکمران طبقات کی عوام دشمنی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو گا کہ انہوں نے نجکاری کے لیئے ایک علیحدہ سے وزارت قائم کر رکھی ہے۔ مگر این ایس ایف اس طرح کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف ماضی کی طرح سینہ سپر رہے گی۔
بولان میڈیکل کالج کے حوالے سے درج ذیل قرار داد اکثریت رائے سے منظور کی گئی۔
۱۔ بولان میڈیکل کالج کے حکومت نواز وائس چانسلر کو برطرف کیا جائے۔
۲۔ بولان میڈیکل کالج کے طلبہ اور طالبات کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان پر سے جھوٹے مقدمات ختم کیئے جائیں۔
۳۔ بولان میڈیکل کالج میں ٹیوشن اور ہاسٹل فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے
۴۔ بولان میڈیکل کالج کے ملازمین کو ’ملازمت کا تحفظ‘ دیا جائے
۵۔ بولان میڈیکل کالج کو نجکاری سے بچایا جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اگر یہ پانچوں مطالبات تسلیم نہ کیئے گئے تو این ایس ایف پاکستان احتجاج کا سلسلہ لاہور سے شروع کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں واصف چوہدری نے کہا کہ ہار کے خوف سے جدوجہد ترک کر دینا ہماری روائت نہیں۔ اپنے حجم کے مطابق مزاحمت جاری رکھیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں