Advertisements
پاکستان انقلابی پارٹی خواتین کو معاشی، سماجی اور سیاسی برابری دلانے کے لیئے بنی ہے۔ امبر سلطان  ایڈوکیٹ / آصِف چوہدری۔ 100

پاکستان انقلابی پارٹی خواتین کو معاشی، سماجی اور سیاسی برابری دلانے کے لیئے بنی ہے۔ امبر سلطان  ایڈوکیٹ / آصِف چوہدری۔

(لاہور جے کے نیوز ٹاکس )
پاکستان انقلابی پارٹی کی جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب میں پاکستان انقلابی پارٹی (خواتین ونگ) کی چیئر پرسن امبر سلطان چودھری (ایڈووکیٹ) نے کہا کہ بنیاد پرستوں اور این جی او زدہ خواتین کی بے مقصد بحث نے ’عالمی یومِ خواتین‘ کے معنی ہی بدل کر رکھ دیئے ہیں۔

پاکستان انقلابی پارٹی ہر میدان میں ہر طرح کے طبقاتی امتیاز کو ختم کرنے کا ویژن رکھتی ہے اور اِسی ضمن میں سماج سے صنفی امتیاز یا gender discrimination کو بھی مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا تاکہ عوام ایک عوامی جمہوری سماج کی تعمیر میں بِلا امتیاز حصہ لے سکیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ امیر طبقات کی خواتین نہیں ہیں کیونکہ سماج کی تعمیر میں ان کا سِرے سے کوئی عمل دخل ہے ہی نہیں۔ وہ بس ـعالمی یومِ خواتین‘ کے موقع پر بڑے بڑے عالیشان ہوٹلوں یا گورنر ہاؤسوں کی تقریبات میں حِصہ لیتی رہی ہیں اور جہاں تک بنیاد پرست و شدت پسند جماعتِ اسلامی کا تعلق ہے تو وہ محض ایک قِصہء پارینہ ہے جو ایک مردہ جسم میں فاشسٹ روح پھونکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان انقلابی پارٹی کی خواتین اپنے بھایئوں کے ساتھ مِل کر ان کا بھانڈہ پھوڑ دے گی۔
پاکستان انقلابی پارٹی کے مزدور ونگ کے رہنماء طارق محمود نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بیشک مزدور بھی اس مارچ کا حصہ بنیں گے اور اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ساتھ لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا این ایس ایف پاکستان اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ تودہائیوں سے خواتین کا عالمی دن پورے کروفر کے ساتھ مناتی ہے جبکہ ان این جی اوز کو تو صنفی امتیاز اور خواتین کے حقوق کا تب خیال آیا ہے جب ہم آدھے سے ذیادہ راستہ عبور کر چکے ہیں۔

انہوں نے مِثال پیش کی کہ این ایس ایف پاکستان نے 1984 کی طلبہ یونین بحالی تحریک کو یکم جنوری ۲۰۱۸ میں حیاتِ نو بخشی تو نومبر ۲۰۱۹ میں این جی اوز کو اچانک طلبہ حقوق کا خیال آ گیا۔ ہم تو ۱۹۵۳ سے ہر سال پورے پاکستان میں ’عالمی یومِ خواتین‘ ملک بھر میں مناتے ہیں اور اس سال بھی منائیں گے۔ بس اتنا فرق ہے لاہور میں ہم علیحدہ پروگرام کرنے کی بجائے ’عورت مارچ‘ کا حصہ بن رہے ہیں۔
پاکستان انقلابی پارٹی کے مرکزی رہنما آصف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا پارٹی پروگرام عورت اور مرد دونوں کو صنفی امتیاز سے بالا تر ہو کر پورے ملک کو معاشی، سیاسی اور سماجی آذادی دلوانا ہے اور یہ آذادی ہمیں ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی پروردہ حکومتوں سے چاہیئے۔ خواتین کے حوالے سے ہمارا مؤقف کھانا نہیں گرم کروں گی اور وغیرہ وغیرہ نہیں ہے ۔ قطعی نہیں ہے، ہمارا عزم عورت کو سب سے پہلے معاشی سطح پر غلامی سے نکالنا ہے تاکہ وہ خود اپنی جنگ آپ لڑ کر، مردوں کے شانہ بشانہ لڑ کر سیاسی اور سماجی آذادی حاصِل کر سکیں۔
حافظ محمد ناصر نے کہا کہ پاکستان میں ہر پیدا ہونے والا بچہ لاکھوں کا مقروض پیدا ہوتا ہے۔ کیا اس بچے نے قرضے ہڑپ کر مُلک کو لوٹا ہے؟ مقتدر طبقات کے کالے کرتوتوں کا سب کو پتہ ہے سو ہے مگر اِس کے متبادل کِسی سرمایہ دار سیاسی جماعت کے پاس کوئی پروگرام نہیں۔

پاکستان انقلابی پارٹی بس اتنا چاہتی ہے کہ پیداواری عمل میں خواتین کو بھی اتنا ہی حصہ ملے جتنا مردوں کو مل رہا ہے۔ چادر اور چار دیواری میں عورتوں کو قید رکھنے عملی مطلب یہ ہے کہ ہر سال پیدا ہونے والے بچوں پر قرض بڑھتا چلا جائے اور غربت میں اِضافہ ہوتا چلا جائے۔ مگر پاکستان انقلابی پارٹی ایسا نہیں ہونے دے گی۔ ہم بنیاد پرستوں کا مقابلہ تو پہلے ہی کر رہے ہیں مگر اِس مرتبہ این جی اوز کے جسم اور مرضی جیسے فرسودہ پروپیگنڈے کی مخالفت کرنا بھی ہم پر فرض ہے، جِس سے ہم ہر حالت میں عہدہ برا ہوں گے۔
پاکستان انقلابی پارٹی کے رہنما شبیر بھٹی نے کہا کہ مرد اور عورت سائیکل کے دو پہیوں کی طرح ہیں اور بنیاد پرستوں نے ایک پہیئے کو ناکارہ بنا دیا ہے تو دوسری طرف این جی او زدہ امیر خواتین نے دوسرے پہیئے میں ظرورت سے کچھ ذیادہ ہی ہوا بھر دی ہے۔ اِس سے سماج ارتقائے معکوس کی جانب جا رہا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان انقلابی پارٹی نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے جنم لیا ہو اور وہ سماج کو ارتقائی زینے پر سے نیچے دھکلیے جانے کو چپ چاپ دیکھتی رہے۔ ہم اپنے حجم کے مطابق اِس عمل کی مزاحمت جاری رکھیں گے۔
پاکستان انقلابی پارٹی (خواتین ونگ) کی رہنماء وعائشہ کا کہنا تھا کہ میں خود گزشتہ تین سال سے گھریلو تشدد کا نشانہ بن رہی ہوں اور اس کا قصور وار کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ پدر سری سماج کو سمجھتی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سماج کو نہ پدر سری بنانے کے لیئے اور نہ مادر سری بنانے کے لیئے میدانِ عمل میں اتری ہوں بلکہ میں ایک مہذب اور متوازن سماج کے قیام کے لیئے جدوجہد کر رہی ہوں۔

ہماری جدوجہد پہلے پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بھی جاری رہی اور پاکستان انقلاب پارٹی کے پرچم تلے بھی جاری رہے گی تا وقتیکہ ہم ایک عوامی جمہوری سماج قائم نہ کر لیں۔ یہ ہمارے بچوں کے لیئے ہے، ہماری آنے والی نسلوں کے لیئے ہے، ہم اِس جدوجہد سے کیسے دستبردار ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں