Advertisements
 انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر اظہار تشویش۔ 97

 انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر اظہار تشویش۔

جنیوا( جے کے نیوز ٹاکس )

انسانی حقوق کی آٹھ معروف بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں بھارتی قابض انتظامیہ نے گزشتہ سات ماہ سے مسلسل لاک ڈاﺅن مسلط کررکھا ہے ۔

تفصیلات  کے مطابق اس تشویش کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشین فورم برائے انسانی حقوق اور ترقی ، ہیومن رائٹس واچ ، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس لیگز ، انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس ،سیویکس ، انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس اور انسداد تشدد کی عالمی تنظیم نے جنیوا سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تنظیموں نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں بھارتی حکام نے گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد سخت کرفیو اورپابندیاں عائد کردی تھیں ۔

اس دوران مقبوضہ علاقے میں کافی وقت تک انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی جو کہ دنیا میں انٹر نیٹ کی طویل معطلی ہے اور اس معطلی کو بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اظہاررائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی قراردیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران سینکڑوں افراد کوجبری طورپر گرفتار کیا گیا اور دوران حراست ان پر بدترین ظلم و تشدد اور امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے۔حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کے علاوہ تین سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ ، دیگر سرکردہ سیاست دان کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ قوانین کے تحت نظربند ہیں۔

نظربندوں میں سے بیشتر پر کوئی الزام نہیں ہے اور انہیں وادی کشمیر سے باہر نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ بیان میں کہاگیا کہ یہ ضابطہ فوجداری کے منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزی ہے اور اس سے احتساب ، شفافیت اور انسانی حقوق کا احترام متاثر ہوتاہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پابندیوں اور فوجی محاصرے پر تنقید کرنے پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروںکو دھمکیاں دی جارہی ہےں جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ علاقے میں اس طرح کی خلا ف ورزیوںکو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔

انسانی حقو ق کی تنظیموں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور غیر ملکی صحافیوں سمیت تمام آزاد مبصرین کو آزادانہ طورپر اپنے فرائض انجام دینے کیلئے جموں وکشمیر تک رسائی دے ، بلا جواز طورپر گرفتار تمام نظربندوں کو فوری طورپر رہا اور اظہار رائے کی آزادی اور آزادانہ نقل و حرکت کے حقوق پر عائد پابندی فوری ہٹائے ۔ بیان میں بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پرزوردیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر اور انسانی حقوق کے دیگر تنظیموں کو کشمیر تک غیر مشروط رسائی فراہم کریں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی غیر جانبدارنہ تحقیقات کیلئے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کرے جس کی سفارش اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے بھی کر رکھی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں