Advertisements
اسلامی تنظیم آزادی کی طرف سے کشمیری نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ 148

حریت قیادت کا یاسین ملک کی تادم مرگ بھوک ہڑتال کے اعلان پر اظہار تشویش ،  کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اسکی تمام ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔

(سرینگر(جے کے نیوز ٹاکس )
مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی اوردیگر حریت رہنماﺅں نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طورپر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کی طرف سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے اعلان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر یاسین ملک کے ساتھ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش ٓایا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔
گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارتی حکومت محمد یاسین ملک کو پھانسی پر چڑھانے کا منصوبہ بنا چکی ہے ۔ انہوں نے یاسین ملک کی گرتی ہوئی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ وہ متعدد عارضوں میں مبتلا ہیں اور بھارتی قابض
انتظامیہ نے انہیں غیر قانونی طورپر نظربند کر رکھا ہے۔
حریت چیئرمین نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں خاص طورپر اقوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ نظربند کشمیری رہنماءکی حالت زار کا نوٹس لیں اور انکے حقوق کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی اکائی اور ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ کے چیئرمین خواجہ فردوس نے ایک بیان میں یاسین ملک کی طرف سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی کہ وہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین رہائی کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں ۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی عدالتیں اور جج کشمیری سیاسی نظربندوں کے ساتھ جانبدرانہ اورناروا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یاسین ملک کی تادم مرگ بھوک ہڑتال کے اعلان سے کشمیری عوام میں تشویش کی لہر دوڈ گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ عالمی اداروں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ آخر یاسین ملک کو تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔
انہوں نے یاسین ملک کواپنا موقف واضح کرنے کیلئے عدالت میں پیش کرنے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ پنے دفاع کا حق استعمال کرنا ان کا بنیادی حق ہے جس سے انہیں محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ کاروان اسلامی جموں و کشمیرکے ترجمان مفتی جلاالدین حامی نے ایک بیان میں کہاہے کہ بھارتی عدالت کی طرف سے یاسین ملک پر دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں فرد جرم عائدکرنے سے انکی بدنیتی ظاہرہوتی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ اس اقدام سے لگتا ہے کہ بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت اور معتصب عدلیہ ایک او رکشمیری رہنماءکو تختہ دار پر چڑھانے کی مذموم سازش رچارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری سیاسی رہنماﺅں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ کا بھارت کی قوم پرست حکومت کا ساتھ دینا انتہائی افسوسناک ہے ۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ بھارتی عدلیہ نے ہمیشہ کشمیریوں کے معاملے مین انصاف کا خون کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل نئی دلی کی تہاڑ جیل میں کشمیریوں کے مقبول رہنماﺅں محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گو رو کو بھی پھانسی دی جاچکی ہے اور انکی میتیں آج بھی جیل میں دفن ہیں ۔
ادھرکل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر، سید فیض نقشبندی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی طرف سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے اعلان پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کو گزشتہ سال 22کو بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے جھوٹے الزامات میں گرفتار کر کے ان کی تیزی سے گرتی ہوئی صحت کے باوجود نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند کردیاتھا۔
انہوں نے یاسین ملک کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کے اہلخانہ کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں یاسین ملک کی نظربندی کشمیریوں کو اپنے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد جاری رکھنے سے روکنے کے بھارتی اقدامات کی ایک کڑی ہے ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنماءاور جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ کے نائب چیئرمین عبدالمجید ملک نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی حکومت محمد یاسین ملک کوپھانسی پر چڑھانے کا منصوبہ بناچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یاسین ملک کو تہاڑ جیل کے ڈیٹھ سیل میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ مختلف عارضوں میں مبتلا یاسین ملک کو علاج معالجے سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جارہا ہے ۔
انہوں نے  بھارت کو خبردار کیاکہ اگر یاسین ملک کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اسکی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں