Advertisements
کرونا وائرس اور ہم | اپنے آپ پر اور دوسروں پر رحم کرو قاتل نہ بنو۔ 346

کرونا وائرس اور ہم | اپنے آپ پر اور دوسروں پر رحم کرو قاتل نہ بنو۔

تحریر سکندر فاضل:

آزاد کشمیر کے مختلف داخلی راستوں پر گھروں کو جانے والے لوگوں کے جمع ہونے کی اطلاعات ہیں، ایسے میں حکومت کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ان لوگوں کے نہ صرف سکریننگ کے عمل کو سختی سے یقینی بنانے کی ضرورت ہے بلکہ کرونا کے مکمل چیک اپ اور پھر رزلٹ آنے تک ان لوگوں کو آئیسولیشن میں رکھنے کا بندوبست کرنا چاہئے تاکہ یہ لوگ اور ان کی وجہ سے ہزاروں لوگ کسی مشکل سے بچ سکیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں سے گھروں کو جانے والے افراد سے گزارش ہے کہ یہ چھٹیاں گھروں کو جانے اور عیاشی کرنے کی نہیں بلکہ محض اس لئے ہیں کہ آپ لوگ جہاں ہو وہاں اپنے آپ کو محصور کر سکو اور متاثرہ افراد سے بچ سکو تاکہ آپ اور آپ کی فیملی اور پورے شہر اور معاشرے کی جان کو آپ کی وجہ خطرہ لاحق نہ ہو۔

ذرا سوچئے کہ جس فیملی کی محبت میں آپ اتنے دور سے سفر کر کے دھکے کھا کر کبھی ٹرکوں اور کبھی ایمبولسوں میں چھپ چھپا کر گھر پہنچتے ہو اللہ نہ کرے اگر آپ کے گھر پہنچنے پر آپ کے معصوم بچوں اور بوڑھے والدین جن کی قوت مدافعت آپ کی طرح مضبوط نہیں ہے ان کو یہ اَن دیکھا وائرس آپ سے منتقل ہو جاتا ہے اور وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو کیا آپ خود کو ساری زندگی معاف کر پائیں گے ؟
کیا آپ ان کے قاتل نہیں ٹھہریں گے ؟

لہذا آپ کی آپ کے اپنوں سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ جہاں ہیں  وہیں اپنے آپ کو محصور کر دیں اور اپنے لئے اپنے پیاروں کے لئے اور پوری انسانیت کی سلامتی کے لئے دعا گو رہیں۔

پوری دنیا اس وقت اس وباء سے نمٹنے کے لئے اپنے جتن لگا رہی ہے دنیا کے اکثر ممالک کی معیشت داو پر لگ چکی ہے پوری دنیا میں لاک ڈاون اور کرفیو لگ رہے ہیں، کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کا سلسلہ  ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ،  تمام ممالک اپنے اپنے شہریوں کو گھروں میں محصور رہ کر اس وباء کا مقابلہ کرنے کی تلقین کر  رہے ہیں اور ہمارے ہاں بھی چھٹیاں کوئی انجوئےمنٹ کے لئے اور سیر سپاٹے کے لئے نہیں بلکہ اپنے آپ کو محصور رکھ کر وباء کو دوسروں تک پہچانے اور ایک جان  بلکہ  کئِ قیمتی جانوں کا قتل اپنے ذمہ  لینے سے باز رہننے کی لئے دی گئی ہیں

کیونکہ

ویکسین تو بنانا میرے اور آپ کے بس کی بات ہے نہیں ہم ذیادہ سے ذیادہ اس وائرس کو مذید پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں یا گھر میں بیٹھ کر دعا کر سکتے ہیں سو اپنے اور دوسروں کے قاتل بننے کی بجائے ہمیں گھر میں رہ کر اپنے لئے اور دوسروں کے لئے دعا ہی کرنی چاہئے اور اپنے اور دوسروں کے حال پر رحم کرنا چاہئے۔ یہ دنیا کی واحد جنگ ہے جو بھاگ کر گھروں میں گھسنے سے ہی جیتی جا سکتی ہے لہذا اس جنگ کو جیتے کے لئے خود کو  اور اپنے احباب کو گھروں میں رہننے کی تلقین کریں تاکہ ہم اس مشکل سے نبرد آزما ہو سکیں اور اس جنگ کو جیت سکیں۔

اس وقت تک  کا مثبت پہلو یہ ہے کہ کسی حد تک اس وباء کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے لیکن اس علاج کے ہمارے لئے کار گر ہونے تک ہم ہوں گے یا نہیں یہ ہمیں معلوم نہیں کیونکہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے پاس اتنی استعطاعت ہی نہیں ہے کہ وہ اتنی تیزی سے پھیلنے والی وباء کو اور اتنی تیزی سے بڑھتے مریضوں کو سنبھال سکے یا کنٹرول کر سکے لہذا احتیاط اور آئیسولیشن ہی بہترین حل ہے۔

اللہ پاک ہم سب پر اور پوری دنیائے  انسانیت پر اپنا رحم اور کرم فرمائے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں