Advertisements
America is more affected by Corona Virus COVID 19 then China. 496

کوئی تو ہے نظام ہستی چلانے والا | دینا کی سپر پاورز ان دیکھے وائرس کے آگے ڈھیر

  دسمبر 2019 میں چین شہر ووہان  سے اٹھنے والا ایک کرونا نامی وائرس جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لاکھوں افراد اس سے متاثر اور ہزاروں لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ اموات کا نہ تھمنے والا سلسلہ لگاتار جاری ہے ۔

یہ  وائرس  انسان کے نظام تنفس پر حملہ آور ہوتا ہے جس کے بعد انسان بخار تھکاوٹ اور درد میں مبتلاء ہوتا ہے اور فوری طبی امداد نہ ملنے پر مریض کچھ دنوں میں اس حالت میں چلا جاتا ہے کہ اسے سانس لینے کے لئے وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑ جاتی ہے ۔ اس نظر نہ آنے والے وائرس نے بڑی بڑے طاقتور ممالک کو نہ صرف جام کر کے رکھ دیا ہے بلکہ طاقتور حکمران بے بسی کے آنسوں بہاتے نظر آئے ہیں۔ کاروبار زندگی مفلوج ہی نہیں بلکہ معطل ہو کر رہ گئے ہیں  جن ممالک میں اشیاء کی درآمدات اور برآمدات میں  ایک منٹ کی طوالت بھی کروڑوں کا نقصان سمجھی جاتی تھی وہ ممالک ڈنڈے کے زور پر کاروباری مراکز کو بند کروا رہے ہیں ۔

کچھ دن چین کی وزارت داخلہ نے اور ایران نے الزام لگایا تھا کہ یہ وائرس امریکہ نے لیبارٹری میں تیار کر کے چین کے شہر ووہان میں چھوڑا تاکہ چین کی معیشت کو تباہ کر سکے ، چین کے متاثر ہونے کے بعد امریکہ سب سے پہلا ملک تھا جس نے اپنے شہریوں کی چین جانے پر پابندی عائد کی تھی اور متاثرہ ممالک کے افراد کی اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت پانچ لاکھ سے زائد لوگ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس وائرس سے مرنے الوں کی تعداد 24000 سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں میں اضافہ جاری ہے۔

کرونا کا سب سے پہلے شکار ہونے والے ملک چین نے اس وباء پر قابو پا لیا ہے  چین نے اس مرض کی ویکسینن تیار ہونے کا انتظار کئے بغیر اس مرض سے صحت مند ہونے والے افراد کے خون سے پلازمہ حاصل کر کے اسے بطور ویکسین دوسرے متاثرہ شخص میں لگایا جس کی وجہ سے چین میں تیزی سے لوگ اس مرض سے صحت یاب ہوئے ۔

چین سے سب سے ذیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کو اب لوگوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔

کرونا وائرس سے اس وقت دنیا کی سپر پاور امریکہ سب سے ذیادہ متاثر نظر آرہی ہے جہاں مریضوں کی کل تعداد چین کے مجموعی مریضوں سے بڑھ گئی ہے چین میں مجموعی طور پر اس وباء سے 81000 لوگ متاثر ہوئے جبکہ امریکہ میں ایک ہفتے کے مختصر وقت میں مریضوں کی مجموعی تعداد 85000 سے تجاوز کر گئی جس میں مسلسل اضافہ جاری ہے امریکہ میں اس وقت تک مرنے والوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مزید ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔

چین کے بعد ایران، اٹلی ، سپین اور دیگر یورپی ممالک سمیت دنیا کے ایک سو پچاس سے زائد ممالک اس وقت اس وباء  کی زد میں ہیں جبکہ ماہرین طب  اس وباء کا علاج صرف احتیاط بتا رہے ہیں ۔

اس وائرس کی وجہ پاکستان ، انڈیا اور ان دونوں ممالک کے زیر کنٹرول کشمیر کے دونوں حصوں میں بھی یہ وباء پھیلتی جارہی ہے جہاں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں لہذا لوگوں  کو اپنی مدد آپ کے تحت احتیاطی تدابیر سے خود کو اس وباء سے بچانا ہو گا ۔

منہ پر ماسک گھر کے اندر بھی پہنے رکھیں ، گھر سے باہر انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں نکلیں ذیادہ رش میں کھڑے ہونے اور چلنے سے گزیز کریں ، کھانے پینے  میں  گھر کی بنی اشیاء کا استعمال ذیادہ کریں اور سادہ غذا کا استعمال کریں تاکہ ہسپتال جانے کی نوبت نہ آئے اس لئے کہ ان دنوں میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتالوں میں عام مریضوں کا چیک اپ تقریبا بند ہے اور عام لوگوں کو اس وقت جس قدر ہو سکے ہسپتالوں سے دور رہنا چاہئے تاکہ ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹاف جو اس وقت کرونا کے مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں ان سے آپ تک اس وائرس کی رسائی ممکن نہ ہو سکے۔

احتیاط ہی اس مرض  کی دوا بھی ہے اور علاج بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں