Advertisements
Madical Instruments supply to Europe from Pakistan which already short in Pakistn. 125

طبی آلات کی قلت کے شکار ملک پاکستان سے طبی آلات سے بھری 2 کارگو یورپ روانہ۔ ذمہ آخر کون ہے؟

ڈاکٹر حفاظتی سامان نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور پاکستان سے حفاظتی کٹس یورپ بھیجی جا رہی ہی چراغ تلے اندھیرا یا پھر عوام سے چا لاکی؟

لاہور (جے کے نیوز ٹاکس) دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے جنم لینے والی کرونا وائرس نامی وباء جس سے پھیلنے والی بیماری کو ڈاکٹروں نے کووڈ 19  (یعنی کرونا وائرس ڈیزیز 2019)  کا نام دیا ہے اس وباء نے دنیا کے 195 ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ان متاثر ہونے والے 195 ممالک میں شامل ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان ممالک میں شامل ہے جن میں طبی آلات اور کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے پہنی جانے والی حفاظتی کٹس کی شدید قلت ہے۔

ایسے میں پاکستان سے طبی آلات اور ڈاکٹروں اور حفاظتی عملی کو پہنائی جانی والی حفاظتی کٹس کے بھرے دو جہاز یورپ روانہ کرنا بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔

پاکستان نے 21 مارچ سے اب تک طبی آلات سے بھرے دو جہاز یورپ روانہ کئے جن میں تقریبا دو سو ٹن سے زائد وزن کے طبی آلات اور حفاظتی سامان موجود تھا۔

جنگ نیوز کے مطابق طبی آلات کا ایک سو چھ ٹن بڑا ذخیرہ لے کر 21 مارچ کو ایک فلائٹ ADB  5362 کراچی ایئر پورٹ سے شام 7 بج کر 19 منٹ پر یورپ کے ملک جمہوریہ چیک کے شہر پردوبیس کے لئے روانہ ہوئی تھی۔ جبکہ اسی ہوائی کمپنی کی پرواز  ADB 5368  تیئس مارچ کی رات 9 بج کر 45 منٹ پر یورپ کے اسی ملک کے اسی شہر کے لئے روانہ ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے 100 ٹن سے زائد طبی آلات کے ذخیرے میں مبینہ طور پر کرونا وائرس کو چیک کرنے والی وہ ٹیسٹنگ کٹس کا ذخیرہ بھی شامل ہے جو مقامی طور پر پاکستان میں تیار کی جاتی ہیں لیکن پاکستان اپنے استعمال کے لئے یہ کٹس باہر سے درآمد کر رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یا تو پاکستان کی سیاسی اور فوجی  قیادت کو اس بات کا علم ہی نہیں کے ان کے ملک پاکستان کے کارخانوں میں وہ طبی  آلات جو وہ مہنگے داموں باہر سے منگوا رہے ہیں وہ یہاں دنیا میں سب سے سستے تیار ہو رہے ہیں اور خاموشی کے ساتھ مختلف ممالک کو سپلائی بھی کئے جا رہے ہیں یا پھر اس دھندے میں عوام کو بے وقوف بنا کر ساری قیادتیں ہاتھ دھو رہیں۔

حکومت پاکستان اور پاکستان کا انتظام چلانے والی قوتوں کو چاہئے کہ اس بات کا کڑا نوٹس لیں اور پاکستان میں بے سروسامانی کے عالم میں کام کرنے والے ڈاکٹروں پیرا میڈیکل سٹاف اور ہسپتالوں کے عملے کو طبی آلات اور حفاظتی سامان مہیا کیا جائے تاکہ وہ لوگوں کا علاج کر سکیں اور اس وباء کے پھیلاو کو روکنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اور اگر مقامی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد پاکستان کے میننیوفیکچرر اور کارخانیدار  کے پاس اتنی پیداورای صلاحیت ہے کہ وہ زائد سامان تیار کر سکتا ہے تو بے شک باہر بیچ کر ضرور ڈالرز میں رقم وصول کرے لیکن جس ملک کے اندر ان اشیاء کی اس وقت قلت ہے اگر یہاں سے یہی اشیاء باہر فروخت ہو رہی ہیں تو یہ صرف جرم ہی نہیں بلکہ اپںے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس دینے والی قوم اور ملک کے ساتھ غداری بھی ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں