Advertisements
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی طویل بندش کورونا وائرس سے نمٹنے میں رکاوٹ بن رہی ہے 365

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی طویل بندش کورونا وائرس سے نمٹنے میں رکاوٹ بن رہی ہے

سرینگر31 مارچ (جے کے نیوز ٹاکس) مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر طویل عرصے سے جاری پابندیوں کی وجہ سے علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز وینٹی لیٹرز کے استعمال کے بارے میں آن لائن تربیتی سیشن میں شامل نہیں ہوسکے جو کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک اہم مشین ہے۔

تفصیلات  کے مطابق ان ڈاکٹروں کو بھارت کی وزارت صحت نے تربیتی سیشن میں شرکت کے لئے مدعو کیا تھا تاہم وہ انٹرنیٹ پرپابندی کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکے ۔ انٹرنیٹ پرپابندی کی وجہ سے کشمیر میں بسنے والے لوگ کورونا وائرس کے بارے میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں جس نے بھارت میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے اور 29افراد کی موت ہوچکی ہے۔اگست 2019ءسے جب سے بھارت نے کشمیرکی خودمختاری ختم کی،علاقہ تناو  کا شکار ہے۔

قابض حکام نے ہزاروں افراد کو گرفتارکیا اور دنیا میں انٹرنیٹ کی سب سے طویل بندش متعارف کرائی۔انسانی حقوق کے متعدد گروپوں کی جانب سے پابندیاں اٹھانے کی درخواستوں کے باوجود قابض حکام نے ایسا نہیں کیا۔علاقے میں زیادہ تر لوگوں کے پاس براڈ بینڈ رابطے نہیں ہیں۔کشمیر میں ڈاکٹروں کی مرکزی ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سہیل نائک نے کہا کہ کورونا وائرس کی علامات کے بارے میں بھارت میں چلنے والی آگاہی مہمات کا کشمیر میں چلنا ناممکن ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم لوگوں کو ویڈیوز کے ذریعے آگاہی دینا چاہتے ہیں جو انٹرنیٹ پرپابندیوں کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔ ہم تیز رفتار انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں معذور ہیں۔انسانی حقوق کے گروپ انٹرنیٹ فریڈم فاونڈیشن نے قابض حکام کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ کشمیر میں کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کی خاطراس کے بارے میں پیغام کو پھیلانے کے لئے انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی کم ہے۔انٹرنیٹ کی روک تھام نے گھروں میں پڑھنے والے بچوں کی کوششوں میں بھی رکاوٹ پیدا کردی ہے۔

کشمیر میں آل پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے کہا کہ ان کے ادارے نے اپنے اسکولوں میں پڑھنے والے,000 650 بچوں کے لئے آن لائن کلاسز کی تیاری کی تھی لیکن وہ اس کو عملی شکل دینے میںناکام رہے۔انہوں نے کہاکہ ہم انٹرنیٹ کے ذرےعے طلباءسے رابطہ قائم نہیں کرسکتے اورمیں یہ سمجھنے میں قاصرہوں کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کو بحال کیوں نہیں کیا جارہا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں