Advertisements
شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ میں مریضوں اور ورثاء کے ساتھ ملٹری کا تضحیک آمیز رویہ 170

شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ میں مریضوں اور ورثاء کے ساتھ ملٹری کا تضحیک آمیز رویہ

شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ میں ملٹری کا غیر انسانی رویہ مریضوں اور ورثہ کی تضخیک معمول بن گئی

راولاکوٹ (جے کے نیوز ٹاکس)

مریض کے ساتھ آئے ہوئے ورثاء کو چوکی پہ بند کر دیا گیا جس کے بعد  سنگین نتائج اور ایف آئی آر کی دھمکیاں دی گئیں
راولاکوٹ. شیخ زید ہسپتال جو کہ زلزلہ سے پہلے سی ایم ایچ یعنی کمپاونڈ ملٹری ہسپتال تھا میں فوجیوں کی طرف سے  انسانیت کی تذلیل آئے روز کا معمول بن گئی اور  کوئی پوچھنے والا نہیں۔

ملٹری کے ملازم ہسپتال میں آنے والے مریضوں اور ان کے ورثاء کے ساتھ اکثر بدتمیزی کرتے دیکھے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب معمول ہی بن گیا ہے جو کہ انتہائی ناقابل برداشت اور کسی بڑے سانحہ کو جنم دے سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والا نوجوان  مجاہد اشرف کے دادا تشویشناک حالت میں شیخ زید ہسپتال  راولاکوٹ کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں اور  کے ساتھ رہنے والے مجاہد اشرف کے ساتھ فوجیوں کا تضخیک آمیز رویہ  آج صبح پیش آیا ۔

مجاہد اشرف نے سیکیورٹی گیٹ پہ اپنے شناختی ڈاکومنٹس چیک کروائےجس کے باوجود فوجیوں نے اسے اندر جانے سے روک دیا اور دھکم پیل شروع کر دی جس پر مجاہد اشرف نے سوال کیا کہ آخر اسے کیوں اس رویے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو فوجیوں نے اسے پکڑ کر چوکی پر بند کر دیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں  دینا شروع کر دیں۔

شیخ زید ہسپتال میں پیش آنے والا یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے بلکہ اکثر ہسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو اس طرح کے رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ملٹری کے ملازم اکثر مریضوں کی وارڈوں میں جا کر مریضوں کی عیادت کے لئے آئے لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔

مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ ایسے رویے کا حکام بالا نوٹس لیں اور ملٹری ملازمین کو باز رکھیں کے ہسپتال میں آنے والوں کے ساتھ ادب و احترام کے دائرے کے اندر رہ کر انسانی رویہ اختیار کریں اور عوام کے محافظ ہونے کے ناطے صرف ادب کے دائرے میں رہ کر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں