Advertisements
جموں کشمیر کے مسلمانوں کے لئے بھارتی ہندووں کو اپنی جائیدادیں فروخت کرنا جائز نہیں: مفتی منیب الرحمن کافتویٰ 110

جموں کشمیر کے مسلمانوں کے لئے بھارتی ہندووں کو اپنی جائیدادیں فروخت کرنا جائز نہیں: مفتی منیب الرحمن کافتویٰ

اسلام آباد 05 اپریل(جے کے نیوز ٹاکس)پاکستان کے معروف عالم دین اور سرکردہ مفتی ، مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی طورپر قبضہ کررکھا ہے اوروہاں کے باشندوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کررکھا ہے لہذا اس علاقے کے لوگوں کے لئے بھارت کے ہندﺅں کو اپنی جائیدادیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

تفصیلات  کے مطابق مفتی منیب الرحمٰن سے جب یہ استفسارکیا گیا کہ آیا مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے ظالم بھارتی حکمرانوں کے مقصدکو پورا کرنے کے لئے بھارت کے ہندووں کو اپنی جائیدادیں بیچ دیں جبکہ بھارت نے5اگست 2019ءکو اپنے ہی آئین ، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دفعہ 370 اورA 35 کو منسوخ کردیاہے؟

سوال میں بھارت کی طرف سے نیا ڈومیسائل قانون متعارف کرانے کا بھی ذکر کیا گیا تھا جس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی شہریوں کے سرکاری نوکریوں کے حصول پر پابندی ختم کردی گئی ہے۔مذکورہ سوال کے جواب میں پاکستان کے مفتی اعظم نے واضح فتویٰ جاری کیا کہ شریعت کے مطابق یہ بھی جائز نہیں کہ وہ بھارت کے ہندووں کو اپنی جائیدادیں کرایہ پر دیں۔

اسی طرح انہوں نے قرآن مجید کی مختلف آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرغیر مسلم کافر ومشرک مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں یا مسلمانوں پر مظالم ڈھار ہے ہوں اور حق آزادی اور حق وطن سلب کررکھا ہو ، تو مسلمانوں کے لیے ان کو کسی بھی طرح کا صدقہ (واجب یا نفلی)،عطیہ یا ہبہ دینا جائز نہیں ، کیونکہ یہ ظلم کی معاونت ہے۔

انہوں نے کہا کہ علمائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمانوں کے لئے مخصوص حالات میں کافروں کو کوئی چیز بیچنا جائز نہیں، چاہے وہ سوئی ہی کیوں نہ ہو جو موجودہ حالات میں یا مستقبل میں مسلمانوں اور اسلامی ریاست کے لئے نقصان دہ ثابت ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا گناہ ہے کیونکہ یہ ایک طرح سے ظلم و ستم میں ان کی مدد کرنا ہے۔

پاکستان کے مفتی اعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر دارالاسلام ہے جہاں گزشتہ کئی صدیوں سے مسلمان اکثریت میں ہیں اور بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ370 اور35A کو منسوخ کرکے خود کشمیری عوام کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ جموں و کشمیر کے وجود کو تحلیل کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین کی یہ دفعات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جموں کشمیرایک تنازعہ ہے اور یہ کسی بھی طرح بھارت کا حصہ نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ بھارت کاایک مقبوضہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ نے بھی 1948 میں منظور کی جانے والی قراردادوں کے ذریعے اسے متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ  موجودہ حالات میں شریعت کے مطابق جموں  کشمیر کے مسلمانوں کے لئے ہندووں کو اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں فروخت کرنا قطعی طور پر جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کو کمزور کرنے اور مسلمانوں اور اسلام کے دشمنوں کو مضبوط بنانے کے مترادف ہوگاجواسلام میں حرام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں