Advertisements
راجستھان کے قرنطینہ مرکز میں رکھے گئے کشمیر ی طلباءانتہائی پریشان ، واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا 114

راجستھان کے قرنطینہ مرکز میں رکھے گئے کشمیر ی طلباءانتہائی پریشان ، واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا

سرینگر05 اپریل(جے کے نیوز ٹاکس)گزشتہ ماہ ایران سے واپسی کے بعد بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جیسلمیر میں قرنطینہ کی مطلوبہ مدت مکمل کرنے والے سینکڑوں کشمیری طلباءمیں وطن واپسی کی امید دم توڑتی جارہی ہے کیونکہ انہیں مکمل طورپر اندھیرے میں رکھاگیاہے اورواپسی کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جارہا ۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسزکی چوتھے سال کی ایک طالبہ نے سرینگر میں موجود صحافیوں کو ٹیلیفون پر بتایا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری ناامیدی بڑھتی جارہی ہے اورہمیں نہیں معلوم کہ ہم کبھی اپنے گھر واپس جابھی سکیں گے یا نہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والی طالبہ نے کہاکہ وہ 14 مارچ کو ایران سے روانہ ہونے والے سیکڑوں کشمیری طلباءمیں شامل تھیں اور ان کو قرنطینہ کے لئے آرمی ویلینس سینٹر جیسلمر لے جایا گیا۔ قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے ایک ہفتہ کے بعد بھی انہیں کوئی نہیں پوچھتا اور نہ انہیں کسی قسم کی کوئی معلومات ہیں کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قرنطینہ میں موجود تمام کشمیری طلباءکے ٹیسٹ منفی آئے ہیں اورانہیں سینٹر میں رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔طالبہ نے کہاکہ ہمیں اندھیرے میں رکھا جارہاہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ یہاں کیا ہو رہا ہے کیونکہ حکام ہمارے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بہت سارے طلبا اس صورتحال کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ خوفزدہ اور پریشان ہیں۔ کچھ تو رات کے وقت روتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں کی صورتحال خراب اور مایوس کن ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس اور سرکاری بے حسی ان کی پریشانی کی واحد وجہ نہیں جس کا اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور کشمیری طلبا کوسامنا ہے بلکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے بھی ان کی راتوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ طلباءنے کہاکہ انہیںقرنطینہ مرکز میں اب 21 دن ہوگئے ہیں اور ہمیں اندازہ نہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہے۔غیر یقینی صورتحال ان کے والدین کو بھی ذہنی اذیت دے رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے والدین کے ایک گروپ نے کشمیر کے ڈویڑنل کمشنر سے بھی رابطہ کیا تاکہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مداخلت کریں لیکن وہاں سے بھی مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ طلباءنے کہاکہ اگر حکومت ہمیں طیارے کے ذرےعے کشمیر منتقل کرتی ہے تو ہم ٹکٹوں کی ادائیگی کے لئے تیار ہیں۔ اگر حکومت چاہے تو ہم گھنٹوں میں گھر آسکتے ہیں۔میڈیکل کے ایک طالب علم کے والد نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کے حوالے سے بہت پریشان ہیںاور ہمارے بچے وہاں محفوظ نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں