Advertisements
1,173

وزراء کی اگاڑ پچھاڑ نہیں بلکہ مافیا کو ختم کریں ۔ پاکستان انقلابی پارٹی

لاہور(جے کے نیوز ٹاکس )
پاکستان انقلابی پارٹی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ہنگامی ویڈیو کانفرنس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی سے ڈاکٹر محمد رمضان اور کوئٹہ سے اعظم زرکون ایڈووکیٹ نے کہا کہ شوگر مل مافیا اور فلور مل مافیا کی لوٹ کھسوٹ کا سرکار اب پتہ چلانے کی کوشش کر رہی ہے جب پلوں کے نیچے بہت سا پانی پہلے ہی گذر چکا ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مافیا کا بھانڈہ تو سالوں پہلے ہی نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے تب پھوڑ دیا تھا جب انہوں نے شوگر مل مافیا کے خلاف اپنی پری پارٹی فارمیشن (پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ) کی جانب سے پرچہ شایع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تب ہی کہا تھا پاکستان میں کام کرنے والی چھیانوے شوگر ملوں کے مالکان پاکستان کے چار بڑے گھرانے ہیں جو وردی یا واسکٹ والی ہر حکومت کا حِصہ ہوتے ہیں۔ مقتدر طبقات سے تعلق رکھنے والے ان بھیڑیوں میں شریف خاندان، جہانگیر ترین، ذرداری خاندان اور چوہدری برادران ہمیشہ سے ہی بڑے کھلاڑی تصور کیئے جاتے ہیں۔
مگر سرکار کے اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا مقصد عوام کو مافیا کی لوٹ کھسوٹ سے نجات دلانا نہیں بلکہ محلاتی سازشوں کی ذریعے صرف اپنی تجوریوں کی حفاظت ہے۔
ڈاکٹر محمد رمضان نے کہا کہ عوام کو خبردار لیئے دیتے ہیں کہ اس سرکاری کارروائی سے کوئی بھی مجرم قانونی سزا نہیں پائے گا بلکہ وزارتوں کی اگاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں فقط کسی کو وزارت سے ہٹا دیا جائے گا، کسی کی وزارت تبدیل کر دی جائے گی، چند جھوٹے اعلانات ہوں گے اور یہ لوٹ کھسوٹ جاری رہے گی۔ جب تک عوام ان مقتدر گِدھوں کا محاسبہ نہیں کرتے، تب تک عوام کا گوشت نوچنا ناگزیر رہے گا۔
اعظم زرکون ایڈووکیٹ کا کہنا تھا مقتدر طبقے کی کِس بات پر اعتبار کریں؟ یہی وزیرِ اعظم جِس نے خود کرپٹ نظام سے جنم لیا اور خود ہی کرپشن کے خِلاف نعرے بازی کرتا رہا چین کے انقلاب کی مثالیں دیتا رہا۔ اِسی نے کہا تھا کہ اگر کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تو مقتدر طبقے سے چند ہزار لوگوں کو پھانسی چڑھانا ہو گا۔ تو اب وقت ہے۔ جِس نظام سے وزیرِ اعظم اور اس کی جماعت نے جنم لیا ہے اس نظام کے ماہر کے دور میں تو اسپیڈی کورٹس قائم کر کے سیاسی کارکنان کی ٹکٹکی سے مائک لگا کر کوڑے مارے جاتے تھے کہ ان کی چیخیں شہر بھر میں سنائی دیں۔ اب ان کو کون سی طاقت مجبور کر رہی ہے کہ یہ وزارتوں کی اگاڑ پچھاڑ کو قانونی سزا بتانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
رہنماؤں نے کہا کہ اب عوام مزید کسی سراب میں نہیں رہیں گے۔ پہلے ہی وبا نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے مگر مقتدر طبقات کو ان نامساعد حالات میں بھی فقط اپنے ہی منافع کی پڑی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا پاکستان انقلابی پارٹی حقیقی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ ہم نے ایم این اے اور ایم پی اے کے انتخابات لڑ کر پارلیمان نام کے ایک کٹھ پتلی سوشل کلب کا حصہ نہیں بننا۔ اس کا انکار تو ہم اپنی پارٹی کی تشکیل کے وقت ہی کر چکے ہیں۔ ہم تو لوکل گورنمنٹ کا حھصہ بن کرمحنت کش عوام کو طاقت میں لائیں گے خود انحصاری کا ایک ایسا نظام دنیا کو دکھائیں گے کہ ان شوگر مل اور فلور مل مافیاؤں کو ہماری محنت سے اُگائے ہوئے گنے کی ایک شاخ اور ہمارے خون پسینے سے پیدا کی ہوئی گندم کا ایک دانہ بھی نہیں ملے گا اور جہاں تک ان کا بڑے بڑے کارخانوں کا سوال ہے تو انقلابی مزدور کمیٹی کے کارکنان مزدوروں کی اجرت، بونس، ترقی اور ملازمت کی مستقلی کو یقینی بنائے گی۔ اب اگر مزدور اور کسان خوشحال ہوں گے تو ہی ملیں اور کارخانے چلیں گے اور کھیتوں کی ہریالی فقط فصل اگانے والے ہاتھوں ہی کے کام آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں