Advertisements
387

بھارتی حکومت کا یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ ۔

سرینگر ( جے کے نیوز ٹاکس )

بھارتی سرکار نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا ۔

ذرائع کے مطابق یاسین ملک کے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کے یاسین ملک کو ان کے خلاف دائر مقدمات میں منصفانہ سماعت سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق معروف آزادی پسند رہنما یاسین ملک کو بیس سال پرانے مقدمات میں نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید کر رکھا ہے ۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے نے گزشتہ سال یاسین ملک کوپبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت  گرفتار کیا تھا ۔

ان کے خلاف بیس سال پرانا بھارتی فضائیہ کے 4 افسروں کے قتل کا مقدمہ ہے جسکی سماعت جموں کی ٹاڈا عدالت میں سماعت ہے اور سی بی آئی مقدمے کی پیروی کر رہی ہے ۔

یاسین ملک کے خلاف مقدمات کی تیزی سے سماعت سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کے بھارتی حکومت نے انکی سزائے موت کا فیصلہ سنا رکھا ہے ۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یاسین ملک کے اہلخانہ نے قطری ٹی وی چینل الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کے 30 سال پرانے مقدمات کو دوبارہ کھولنے اور تیزی سے اسکی سماعت سے بھارتی انتظامیہ کے خطرناک مذموم عزائم ظاہر ہوتے ہیں ۔

خیال رہے بھارت کی اسی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں شہید کشمیر مقبول احمد بٹ شہید کو بھارت نے 11 فروری 1984 کو پھانسی دی تھی اور مقبول بٹ کی جسد خاکی بھی ورثا کے حوالے نہیں کی تھی ۔

دراصل بھارتی سرکار  ہر حربہ استعمال کر چکی ہے لیکن وہ  یاسین ملک کے جذبہ آزادی میں کمی نہ لا سکی بھارتی سرکار یاسین ملک کے بلند حوصلوں اور جذبہ آزادی سے خوفزدہ ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں