Advertisements
کرونا وائرس بھارتی حکومت کے لئے ہندو مسلم کشیدگی کا اہم ہتھیار ثابت ہوا۔ اروندھتی رائے 194

بھارتی حکومت کرونا کی آڑ میں مسلمانوں کی نسل کشی کا بڑا واقعہ کر سکتی ہے۔ اروندھتی رائے

بھارتی حکومت ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کے لئے کورونا وائرس کا استعمال کررہی ہے: اروندھتی رائے

نئی دہلی 19 اپریل (جے کے نیوز ٹاکس)بھارت کی ایوارڈ یافتہ مصنفہ اور حقوق انسانی کی کارکن اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کے لئے کورونا وائرس کا استعمال کررہی ہے۔

تفصیلات  کے مطابق اروندھتی رائے نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہاکہ ہندو قوم پرست حکومت اس وبا کے بہانے کوئی ایسی چیزضرور کرے گی جس پر دنیا کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ صورتحال نسل کشی کے قریب ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ بحران دہلی میں قتل عام کے بعد پیدا ہوا جو مسلم دشمن قانون شہریت کے خلاف احتجاج کے جواب میں کیا گیا۔

اروندھتی رائے گا مزید کہنا تھا  کہ حکومت کورونا وائرس کو مسلمانوں کے خلاف ایک حربے کے طورپر استعمال کررہی ہے جس طرح ہولوکاسٹ کے دوران نازیوں نے یہودیوں کے خلاف کیا تھا۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کے آنے کے بعد ہندوستان میں بڑے پیمانے پر گاو موتر  پیا اور پلایا جاتا رہا جس کے مضر اثرات بھی دیکھنے میں آئے لیکن گاو موتر پینے اور پلانے والوں کو بھارتی حکومت نے اس عمل سے باز رکھا اور نہ ہی ان کے اس عمل پر انہیں کسی سرکاری تشدد سے گزرنا پڑا جبکہ مسلمانوں  کو جگہ جگہ مسجدوں میں بند کر کے شدید تشدد کے واقعات بھارت میں آئے روز پیش آ رہے ہیں جن کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

اقوام عالم کو بھارت کے اندر مسلمانوں کی نسل کشی اور ریاست جموں کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لینا ہو گا۔ ورنہ یہ آتش فشاں پھٹنے پر پورے خطے کو جلا ڈالے گا جس صرف ہندو مسلم نہیں بلکہ اس خطے میں بسنے والے انسانوں کی بقا کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں