Advertisements
272

نجی تعلیمی مافیا کی سرپرستی نہیں، عالمی وباء کے خاتمے تک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام طلبہ کی فیسیں ختم کی جائیں : شہاب خان صافی سنئیر نائب صدر این ایس ایف پاکستان  ۔

(لاہور جے کے نیوز ٹاکس )
نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن  پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے ایک ویڈیو کانفرنس اجلاس میں مطالبہ کر دیا کہ عالمی وباء کے خاتمے تک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر سطح پر تمام طلبہ کی فیسیں ختم کی جائیں۔
اجلاس سے خِطاب کرتے ہوئے مرکزی سینئر نائب صدر شہاب خان صافی کا کہنا تھا کہ حکومت طلبہ کے ساتھ کیا مذاق کر رہی ہے؟ کرونا سے لڑنے کے لیئے فنڈز اکٹھے کیئے گئے، آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ایشیئن ڈیویلپمنٹ بنک وغیرہ سے قرضے معاف کروائے گئے، بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے سے بھاری منافع کمایا گیا مگر تعلیم کے میدان میں کوئی قابلِ ذکر ریلیف نہیں دیا جا رہا۔

پرانی حکومتوں کی طرح تبدیلی سرکار بھی صرف اور صرف نجی تعلیمی مافیا کی سرپرستی میں لگی ہوئی ہے۔ اِدھر فیسوں میں 20 فیصد کمی کا اعلان کیا جاتا ہے اور اُدھر نجی تعلیمی ادارے فیسیں بڑھا دیتے ہیں۔ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا حکمران ٹولہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ عالمی وباء کے دوران سماج کی ہر پرت متاثر ہوتی ہے اور سماج کے متحرک ترین عنصر، سماج کے ستون یعنی طلبہ کو ہمیشہ کی طرح محض زبانی کلامی وعدوں پر ہی ٹال دیا جاتا ہے۔
پاڑہ چنار سے این ایس ایف ۔ پاکستان کے مرکزی رہنما سیّد حسنین نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے اقوامِ متحدہ کا چارٹر نہیں پڑھ رکھا تو این ایس ایف کے کِسی بھی کارکن سے پڑھ لیں۔ ہم بتا دیں گے کہ اقوامِ متحدہ کے یونیورسل ڈیکلئریشن آف ہیومن رایئٹس کی قرارداد نمبر 217A میں تعلیم کے حقوق کے بارے میں کیا لکھا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ لکھا تو آئینِ پاکستان میں بھی ہے مگر اِس وقت چونکہ آفت کی نوعیت عالمی ہے، لہٰذہ اِس کا حل بھی عالمی اصولوں پر ہو گا اور عالمی اصول یہ ہیں کہ ہر ایک کو تعلیم کا حق ہے۔ تعلیم مفت ہوگی ، تعلیم کو انسانی شخصیت کی مکمل نشوونما اور انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کو تقویت دینے کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا مگر لگتا ہے کہ حکومت نجی تعلیمی مافیا کے ہاتھوں بِک چکی ہے۔
شبیر بلوچ نے کہا کہ حکومتی رٹ کدھر ہے؟ آزاد منڈی کے سامراجی نظام میں قید ’آذاد عدلیہ‘ حکم دیتی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں گھٹائی جائیں، فیسوں میں کٹوتی کی سکیم بنتی ہے حالانکہ وصولی میں قسطیں کبھی نہیں کی جاتیں اور اچانک یہ حکم اپیل کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے اور نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیا اندھی حکومت کو نظر نہیں آ رہا کہ عالمی وباء میں متوسط طبقے، نچلے متوسط طبقے اور محنت کش دیہاڑی دار طبقے کی معیشت لاک ڈاؤن کی وجہ سے تہہ و بالا ہو چکی ہے۔ اِن حالات میں بھی حکومت طلبہ کو ان کے مفت تعلیم کا آئینی حق دینے کو تیّار نہیں۔ اُن کا کہنا تھا برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور مقتدر طبقات کا جبر حد سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
این ایس ایف ۔ پاکستان کے رہنماء اشفاق بلوچ کا کہنا تھا کہ حکمران ٹولے کو سوائے اپنی جیبیں بھرنے کے کِسی چیز کی پرواہ نہ کبھی تھی اور نہ اب ہے۔ این ایس ایف پاکستان اپنے قیام کے وقت سے ہر حکومت کو متنبہ کرتی آئی ہے کہ مفت تعلیم ہمارا حق ہے، کوئی رعائت نہیں مگر حکومت کے کانوں پر جوُں تک نہیں رینگتی۔ شائد نوجوانوں پر یہ سمجھنے کا وقت آ گیا ہے کہ بھگت سنگھ نے کیوں کہا کہ ’بہروں کو سنانے کے لیئے دھماکے کی ضرورت ہوتی ہے‘۔ این ایس ایف ۔ پاکستان پانچ دہایوں سے طلبہ حقوق کے لیے پُر امن سیاسی جدوجہد کر رہی ہے مگر طلبہ حقوق پر ان کے کان اِسی طرح بند رہے تو ملک بھر کے انقلابی طلبہ شہید بھگت سنگھ کی راہ اپنانے پر مجبور ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں