Advertisements
Corona Virus update in Pakistan in last 24 hours 178

لاک ڈاون میں نرمی یا موت کو دعوت؟ گزشتہ 24 گھنٹے میں پاکستان میں 2255 لوگوں میں کرونا کی تشخیص 31 موت کا شکار

 لاہور: سکندر فاضل  (جے کے نیوز ٹاکس)

پاکستان میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد کرونا کے کیسز اور اموات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ لاک ڈاون میں کیسز کے بڑھنے کی شرح جس قدر کم تھی لاک ڈاون کھلنے کے بعد اس شرح میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

کرونا وائرس کے  اعداد و شمار کے بتانے والی پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ  covid.gov.pk کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں پاکستان میں مجموعی طور پر بائیس سو پچپن مریضوں کا اضافہ ہوا جبکہ 31 لوگ کرونا وائرس کے باعث موت کا شکار ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں اب تک کل 317699 لوگوں کے کرونا کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 34316 لوگوں میں کرونا پازیٹو پایا گیا۔

اب تک کئے گئے  کل ٹیسٹوں کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھنے کی شرح 10 فیصد ہے یعنی ہر سو میں سے دس لوگ  پاکستان میں اس وقت کرونا کا شکار ہیں۔

حکومت نے تاجروں کے دباو کے پیش نظر لاک ڈاون کے خاتمے کا اعلان تو کر دیا لیکن اس بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی ہے اور نہ ہی ہسپتالوں میں لوگوں کو سنبھالنے کی گنجائش۔بازاروں میں لوگوں کا جس قدر رش دیکھنے میں آ رہا ہے وہ اپنی جگہ ایک خوف کی علامت تو ہے ہی لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف حفاظتی تدابیر اپنانے کے لئے اقدامات کو یقینی بنانے کی جو ضرورت اس وقت وہ بالکل بھی دیکھنے میں نہیں آتی جو ذیادہ خطرناک ہے 

یاد رہے کرونا سے بچاو کا اس وقت تک دریافت ہونے والا واحد طریقہ سوشل ڈسٹنسنگ یعنی اپنے آپ کو آئیسولیٹ کرنا ہے تاکہ ہجوم اور رش سے بچ کر اس وباء کو کم سے کم کیا جا سکے۔

رمضان کے آخری ایام اور عید کی آمد آمد ہے جس کی وجہ سے لوگ کسی بھی وباء کو خاطر میں  لائے بغیر عید کی  تیاریوں میں مصروف ہیں لیکن یاد رکھیں کے عید خوشی کا نام ہے اور خوشی صحت اور زندگی کے ساتھ ہی منائی جا سکتی ہے لہذا جس قدر ہو سکے خود کو اس وباء سے بچانے کی کوشش اور اہتمام کریں اور اپنے پیاروں کو بھی گھروں تک محدود رہنے کی تلقین کریں تاکہ آپ زندگی میں خوشیاں منانے کے لئے صحت مند اور زندہ رہ سکیں۔

پاکستان میں پچھلے دو دن سے مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور پچھلے 24 گھنٹے میں ریکارڈ کی گئی شرح اس وقت تک کی 24 گھنٹوں میں ریکارڈ کی گئی سب سے ذیادہ تعداد ہے  جو کہ حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ بازاروں اور رش کی جگہوں پر جانے سے لوگوں کو از خود پرہیز کرنی ہو گی ورنہ حالات بے قابو ہونے پر حکومت آپ کی ذمہ داری کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں