Advertisements
The armed movement in Kashmir is run with the support of the local people. Former Indian general confesses: Indian Army Commander General DS Hooda 103

کشمیر میں مسلح تحریک مقامی لوگوں کی حمایت سے چل رہی ہے۔ سابق بھارتی جنرل کا اعتراف

مقبوضہ کشمیرمیں مسلح تحریک عوام کی حمایت سے چل رہی ہے۔ بھارتی فوج کے سابق جنرل کا اعتراف 

لوگوں کی حمایت کے بغیر کہیں کوئی مسلح شورش 30 برسوں تک باقی نہیں رہتی 

کشمیریوں کی حمایت میں پاکستانی پروپیگنڈہ حکمت عملی بہت موثرہے

پاکستان کشمیر میں انفارمیشن آپریشنز کو اپنے بنیادی ہتھیار کے بطور استعمال کرتا ہے

حکومت کومقبوضہ جموں و کشمیر میں اطلاعات کے مقابلے کو جیتنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات پر غور کرنا چاہیے

تیز رفتار انٹرنیٹ کی بندش سے حکومت کو نقصان ہوا ہے

بھارتی حکومت کی انفارمیشن اور کمیونکیشن حکمت عملی کو پاکستانی بیانیوں کا لازمی توڑ کرنا چاہیے، بھارتی آرمی کے کمانڈرجنرل ڈی ایس ہوڈا

 

سرینگر (جے کے نیوز ٹاکس)بھارتی فوج کے ناردرن آرمی کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)ڈی ایس ہوڈانے کہا ہے کہ ایک جانب تیز رفتار انٹرنیٹ بند ہو اور دوسری جانب مخالف مواد کا توڑ نہ ہو تو بات نہیں بن سکتی۔لوگوں کی حمایت کے بغیر کہیں کوئی مسلح شورش 30 برسوں تک باقی نہیں رہتی۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جنرل ڈی ایس ہوڈا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر تنازع کو اکثر پاکستانی افواج کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے چھیڑے ہوئے ہماری جانب کی سرحد کے علیحدگی پسندوں اور راشی سیاستدانوں کے حمایت یافتہ ‘پراکسی وار’، جس کے تحت کچھ گمراہ اور بنیاد پرست مقامی نوجوانوں نے بندوق اٹھائی ہے، کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، لیکن اس سے کشمیر میں مسئلے کی پوری تصویر بھی سامنے نہیں آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا طویل المدتی حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں پاکستان کی حمایت کو کمزور اور تشدد کے جاری واقعات کو قابو کرنے کی کوششوں کے علاوہ سِول آبادی اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور اس سے پہلے کہ کوئی میری طرف سے ‘دہشت گردی کی بجائے ‘شورش’ کا لفظ استعمال کرنے پر کوئی اعتراض کرے، میں واضح کرنا چاہوں گا کہ دہشت گردی بھی شورش میں استعمال ہونے والا ایک ہتھیار ہی ہے۔

جنرل ڈی ایس ہوڈا کے مطابق ‘انسدادِ شورش کو اکثر ‘دل و دماغ’ کا کھیل قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان آپریشنز میں دل سے زیادہ دماغ کا کام ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں اطلاعات، پروپیگنڈہ اور فرضی خبر کی بہتات ہے، تنازعات میں اصل مقابلہ لوگوں کے دماغ کو اثر انداز کرنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘حکومت اور دہشت گرد، دونوں اطلاعاتی حکمتِ عملی کے ذریعہ لوگوں کو اپنی جانب لانے اور ان کا بھروسہ جیتنے کے لیے مقابلے کی ایک دوڑ میں ہیں۔ فوجی زبان میں ہم اسے ‘انفارمیشن وار فیئر’ یا بیانئے کی لڑائی ‘بیٹل آف نیریٹیوز’ کہتے ہیں۔القمرآن لائن کے مطابق جنرل ہوڈا نے بتایا کہ ‘اس لڑائی میں دہشت گرد، جو بنیادی طور فیک نیوز پر انحصار رکھتے ہیں وہ فائدے میں ہیں۔ونسٹن چرچل نے کہا ہے ‘اے لائی گیٹس ہاف وے ارانڈ دی ورلڈ بیفور دی ٹروتھ ہیز اے چانس ٹو گیٹ اِٹس پنٹس آن(سچائی کو جب تک پتلون پہننے کا موقع ملتا ہے ایک جھوٹ آدھی دنیا کا چکر کاٹ کے آگیا ہوتا ہے)۔چرچل نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب عالمی مواصلات ریڈیو اور ٹیلی گرافی پر مبنی تھیں۔ آج اسمارٹ فونز کی بدولت پلک جھپکنے میں بات چند منٹ میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔

2018 میں میسا چوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سچی خبروں کے مقابلے میں جھوٹی خبروں کے ری ٹویٹ کئے جانے کا 70 فیصد زیادہ امکان ہے۔ جھوٹی خبریں سچی خبروں سے چھ گنا تیزی سے پھیلتی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں پاکستانی پروپیگنڈہ بنیادی طور دو مقاصد پر مرکوز ہے۔ پہلا یہ کہ دہشت گردوں کو کشمیریوں کے مذہبی عقیدے اور تہذیبی شناخت، جو بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی سے خطرے میں ہے، کے محافظوں کے بطور پیش کیا جائے اور دوسرا یہ کہ سلامتی فورسز کی جانب سے کشمیری عوام پر کی جانے والی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کو اجاگر کیا جائے، بھارتی حکومت کی انفارمیشن اور کمیونکیشن حکمت عملی کو ان دو بیانیوں کا لازمی توڑ کرنا چاہیے۔اس میں دوسرے مقصد کی نفی کرنا شاید زیادہ آسان ہے کیونکہ کیوں کہ اس میں بڑے پیمانے پر نظم و ضبط کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے جو سکیورٹی فورسز پہلے ہی دکھائے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب طاقت کا سہارا لیا جاتا ہے، اس کو دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہوئے ہی استعمال کیا جانا چاہیے وہ بھی اس انداز میں کہ شہری آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

جنرل ڈی ایس ہوڈا نے کہا کہ ‘ہمیں ان لوگوں کی باتوں میں ہرگز نہیں آنا چاہیے جو فوج کے ہاتھ کھول دئیے جانے اور کشمیری آبادی پر بمباری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ طاقت کا اضافی استعمال اکثر ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس میں دہشت گردوں کے لیے مزید بھرتی کرنے کا ماحول تیار ہوجاتا ہے۔القمرآن لائن کے مطابق انہوں نے کہا کہ ‘بعض تنظیمیں بھارت کے انسانی حقوق کے معاملات سے نپٹنے میں شفافیت ہونے سے انکار کرتی ہیں۔گویا کہ قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ہمیں مختلف اختلافی آوازوں کو سرسری طور دبانا بھی نہیں چاہیے۔ ان معاملات سے نپٹنے میں شفافیت کی وجہ سے سرکار کی اعتباریت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جنرل ہوڈا نے بتایا کہ ‘جموں و کشمیر کی عوام کو ان کے مذہبی عقائد اور ان کی تہذیبی شناخت کو لاحق کسی بھی خطرے کے حوالے سے یقین دہانی کرانا بہت اہم چلینج ہے۔ پاکستان اور علیحدگی پسند مسلسل ان خدشات پر کھیلتے رہے ہیں اور دفعہ 370کے ارد گرد گھومنے والے مسائل، شہریت ترمیمی قانون اور راوں برس ماہ فروری میں دہلی میں ہونے والے تشدد نے انہیں مزید موقع فراہم کیا ہوا ہے۔

ڈی ایس ہوڈا کے مطابق ‘بدقسمتی سے حکومت نے پاکستان کے پروپیگنڈہ کا توڑ کرنے یا اپنا بیانیہ سامنے لانے میں سستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک جانب جموں و کشمیر میں بظاہر فرضی خبروں کو روکنے کے لیے، تیز رفتار انٹرنیٹ بند ہے تو دوسری جانب باقی ملک میں شدت پسند مسلم مخالف مواد کے خلاف کارروائی کیے جانے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ مقامی لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنے کے لیے سرکار کی مواصلت غیر موجود یا پھر غیر موثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ سمجھنا بھی لازمی ہے کہ ایک موثر بیانیہ فقط پیغام رسانی سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کی حمایت میں، اس پیغام سے مطابقت رکھنے والی، نظر آنے والی کارروائیاں بھی لازمی ہیں۔ اگر ہمدردی اور معاشی ترقی کے وعدوں کے ساتھ قابلِ فہم پروگراموں کی تعمیل نہ کی جائے تو اس کا بہت کم اثر ہوگا۔

سابق آرمی جنرل نے بتایا کہ ‘حکومت کومقبوضہ  جموں و کشمیر میں اطلاعات کے مقابلے کو جیتنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے لیے لگن رکھنے والی ایک تنظیم، جس میں سوشل میڈیا اور دیگر مواد کا مفصل جائزہ لینے اور مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر نافذ کی جانے والی حکمتِ عملی مرتب کرنے کی اہلیت رکھنے والے ماہرین کا عملہ ہو، اس کی ضرورت ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھروسہ مند میڈیا پارٹنرز کو شامل کرکے فیک نیوز اور پروپیگنڈہ کا توڑ کیا جانا چاہیے۔بالآخر طاقت کے سارے استعمال کا مقصد لوگوں کے خیالات کو بدلنا یا انہیں اثر انداز کرنا ہوتا ہے۔پاکستان کشمیر میں انفارمیشن آپریشنز کو اپنے بنیادی ہتھیار کے بطور استعمال کرتا ہے جبکہ اس بیانیہ کی حمایت کے لیے دہشت گردی کی حمایت کا سہارا لیا جاتا ہے کہ وہاں لوگوں میں گہرا عدمِ اعتماد ہے۔ہم ایک ‘کاگنیٹیو کانٹیسٹ’ یا علمی مقابلے میں ہیں اور اگر ہم یہ لڑائی دوسرے نشانے (سکینڈری ٹارگٹ)پر توجہ کرتے ہوئے لڑیں گے جبکہ انفارمیشن ڈومین پر غیر مناسب توجہ ہو، ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں