Advertisements
433

"ہمدردی اور تنازعات”۔ تحریر ڈاکٹر واجد بخاری

گزشتہ چند دن سے ایک سابق کھلاڑی خبروں میں ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ وہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر نادار اور مستحق افراد کے لیے امدادی سامان لیکر آزاد کشمیر پہنچے۔ بعضوں کی دانست میں یہ عمل خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر کی جانے والی بہترین کاوش ہے تو بعضوں کے نزدیک یہ ریاست کے سابقہ اور موجودہ ‘بڑوں’ کے لئے باعث ندامت اور سبق آموز ہے کہ باہر سے ایک کھلاڑی یہاں آ کر اتنی امداد تقسیم کر کے چلتا بنے اور مقامی اہل خیر اور والیان ریاست ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جائیں۔

بعض احباب کے نزدیک یہ عمل کسی مملکت کے موقف کی ترویج اور تقویت کی ایک کڑی ہے جس میں مذکورہ کھلاڑی ایک مہرے یا زیادہ سے زیادہ ‘پوسٹر بوائے’ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس خاکے کا ہدایتکار کوئی اور ہے۔

کچھ کو دوران اجتماع احتیاطی تدابیر پر عمل نہ ہونے اور چھینا جھپٹی کا شکوہ ہے اور بعض قوم کے اجتماعی ضمیر اور حمیت کو تلاشنے میں سرگرداں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ مذکورہ کھلاڑی کے اجداد 1947 میں وقوع پذیر ہونے والی ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں لہذا ان کا استقبال اپنے ‘روایتی’ طریقے سے کرنا چاہیے تھا جو کہ شاید کسی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا ہے۔

کچھ مہربان موصوف کے لباس کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور کچھ مداح اپنے محبوب کھلاڑی کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشی سے نہال ہیں۔

غرض ہر کسی کی اپنی منطق ہے جسکی صحت پر بات ہو سکتی ہے تاہم سردست وہ میرا مدعا نہیں۔ مجھے بس اتنا کہنا ہے کہ جہاں ریاستیں مضبوط اور غریب پرور ہوں اور عام انسانوں کے سماجی تحفظ کو اہم تصور کیا جاتا ہو وہاں غیر سرکاری فلاحی اداروں کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔

کسی ریاست میں ایسے اداروں کی موجودگی بذات خود ریاست کے تصور سے ہم آہنگ نہیں اور ریاست کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔ میرے نزدیک کھلاڑی موصوف کے جذبات اور کاوشیں قابل قدر ہیں اور میں ان کے لئے دعا گو ہوں۔

جہاں تک ان کو کسی مقصد کے تحت یہاں بھیجنے کی سوچ کا تعلق ہے جس کا ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں بھی کافی چرچا ہے، تو میں اس گتھی کو سلجھانے کا کام ان کے مداحوں، سیاسی پنڈتوں اور ہندوستانی و پاکستانی ذرائع ابلاغ پر چھوڑتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں