Advertisements
488

شوُگر مِل مافیا رپورٹ، عوام پر مقتدر طبقات کے خوفناک اثرورسوخ کا اظہار ہے: پاکستان انقلابی پارٹی ۔

( لاہور جے کے نیوز ٹاکس )
شوگر مِل مافیا رپورٹ پر پاکستان انقلابی پارٹی کا اعلیٰ سطحی وڈیو کانفرنس اجلاس مرکزی سیکرٹیریٹ ، لاہور میں مُنعقد ہوا۔
اِجلاس سے خِطاب کرتے ہوُئے خیبر پختونخواہ سے پارٹی کے مرکزی رہنماء عادِل محمود کا کہنا تھا کہ شوُگر مِل مافیا سے متعلق ساری کارروائی پارلیمنٹ کلب کی محلاتی سازشوں کے سِوا کُچھ بھی نہیں۔

یہ مافیا کوئی آج سے کام نہیں کر رہا بلکہ اِس میں ملوث تمام لوگوں کی مکمل تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان انقلابی پارٹی کے کارکنان کسی ڈرایئنگ روم کی پیداوار نہیں بلکہ پچھلی چھ دہایئوں سے مزدوروں اور کِسانوں میں اپنی جڑیں بنائے ہوئے ہیں۔ اِس کے علاوہ چونکہ اِس پارٹی کے پسِ منظر میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا نظم و ضبط ہے اِس لیئے ہم مظاہر کو سایئنسی ساطح پر تاریخی اور جدلیاتی مادیت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم تو کب سے کہہ رہے ہیں ملک کے آئین سازاداروں پر انہی بائیس خاندانوں کا قبضہ ہے جو پاکستان کے قیام کے وقت سے خود کو پاکستان کا مالک سمجھ رہے ہیں۔ اب جب پارلیمنٹ کلب میں ہمیشہ سے ہی پنپنے والی محلاتی سازشیں اُن کے چہرے سے نقاب ہٹا رہی ہیں تو اِس کا مطلب قطعی نہیں کے کِسی پلے بوائے ہیرو نے اُن کا چہرہ عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔

عوام کو یاد ہے کہ جب ہم نے اپنی پری پارٹی فارمیشن یعنی پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے پمفلٹ شایع کیا تھا تو تب ہی یہ سب چہرے بے نقاب ہو گئے تھے۔ مگر کمشن بنانا، پھر اِس میں غیر ضروری وقت دینا اور اِس دوران بیانات دینا صِرف ایک ہی بات ثابت کرتا ہے کہ سرمایہ دار سیاست بازو کھینچنے اور مال کمانے پر مبنی ہے۔
پاکسستان انقلابی پارٹی سندھ سے مرکزی رہنماء ڈاکٹر سجاد حسین کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کلب کے امراء جانیں یا نہ جانیں مگر عوام جانتے ہیں کہ ۲۲ خاندان ابھی ختم نہیں ہوئے۔ پارلیمان میں ٹریژری بنچز پر ہوں یا اپوزیشن میں، انہی بائیس خاندانوں کی گھریلو توسیع نظر ٰتی ہے اور چوُنکہ اُن کے مفادات مشترک ہیں، اِسی لیئے ان کے اختلافات کی نوعیت بھی مشترک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان انقلابی پارٹی ڈاکٹر رشید حسن خان کے افکار اور نظریہ کے ساتھ اُن کے عزم کا اِظہار ہے۔ ہم نے پارٹی بنانے سے پہلے بہت ہمت اور صبر کے ساتھ اِنتظار کیا ہے۔ یہ مقتدر طبقات کے ڈرامے ختم ہوں گے اور ہم طاقت کو عوام تک لے کر آئیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیا ہم جہانگیر ترین، اومنی گروپ، چوہدری برادران، میاں صاحبان ، منشاء گروپ، رزاق داؤد، جنرل عمر کے خاندان اور دیگر کو کوئی آج سے جانتے ہیں؟ اور یہ بات کیا ہوئی کہ اچانک ایک پلے بوائے کو خیال آ گیا کہ ملک میں شوگر مافیا کام کرتا ہے۔ عمران خان ہمارے کِسی کارکن سے مذاکرہ کرے، ہم ثابت کریں گے یہ خود بھی انہی کا پروردہ ہے۔
پارٹی کے لاہور سے مرکزی رہنماء رشید مِصباح کا کہنا تھا کہ مافیا کوئی ایک نہیں، یہ کمشن تو باقی مافیوں سے عوام کی نظر ہٹانے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے۔ ابھی تو ہم نے ایف بی آر میں نئی تعیناتیوں اور اُس کے مقاصد پر بات کرنی ہے، پری بجٹ وائیٹ پیپر شایع کرنا ہے۔ مافیا کی تعریف کیا ہے، پارلیمان کے دونوں بنچوں سے تو کوئی اُس کی درست تعریف بھی نہیں کر سکتا اور یہ امراء ان سب کارستانیوں کو جمہوریت بتاتے ہیں؟ یہ کیا کہیں گے کہ شوگر مل سکینڈل میں انہوں نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا؟ یہ سب ایک ہی پارٹی ہیں، جِنہوں نے اپنے چہروں پر مختلف مُکھٹ چڑھا رکھے ہیں۔ کِسی کے چہرہ بلاول یا ذرداری کا ہے، کوئی میاں شریف کے ماسک پہنے پھر رہا ہے، کِسی نے ہوائی جہاز رانی کی سہولت کپتان کو دی تو اُس کے عوضانے کا منتظر ہے۔

داؤد خاندان، منشاء خاندان، خسرو خاندان اور سبسڈی دینے والا بکری پال چیف منسٹر سب ایک ہی خاندان ہیں اور ایک ہی طبقہ۔ ہم طاقت کو گاؤں کی سطح پرلا کر عوام کو اتنا مستحکم کر دیں گے کہ کوئی ان شوگر مِلوں کو نہ بیچے گا نہ اِن سے خریدے گا۔ یہ پاکستان انقلابی پارٹی ہے جو عوام کی پارٹی ہے اور عوامی طاقت کو اچھی طرح جانتی ہے۔
پاکستان انقلابی پارٹی کے مرکزی رہنما طُفیل ڈھانہ نے کہا کہ حکومت نے ساڑھے تین سو صفحات پر مبنی شوگر مِل سکینڈل رپورٹ پبلک کر دی ہے۔ پاکستان کی عوام سے کتنے لوگ اِس کو پڑھیں گے اور کتنے لوگ اِس کا تجزیہ کریں گے؟؟ رہی بات سرکاری ہاتھوں میں بِکے ہوئے میڈیا کی تو اُن کی کہی ہوئی سب باتوں سے عوام کو صرف ایک اُسی پمفلٹ سچائی معلوم ہوگی جو سالوں پہلے پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ نے شایع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیشک اب پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ پاکستان انقلابی پارٹی میں ڈھل چکی ہے مگر جدوجہد کا سفر اِسی طرح ہوتا ہے۔

یہ کسی ادارے کی بنائی پارٹی نہیں کہ ایک دم نوٹوں پر سفر کرتی ہوئی ایک اونچے بانس پر چڑھ کر اُونچی نظر آئے۔ یہ پاکستان انقلابی پارٹی ہے جو زینہ زینہ دہایئوں کا سفر کر کے یہاں تک پہنچی ہے۔ اِس لیئے عوام یہ ساڑھے تین سو صفحات پر مبنی آدھے سچ کی بجائے پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے سالوں پرانے پمفلٹ کو ہی پڑھ لے، جِس میں فقط چار صفحات میں ان اِس ضخیم سرکاری دستاویز کا نِچوڑ موجود ہے۔
پاکستان انقلابی پارٹی کے مرکزی رہنماؤں مشتاق چوہدری، فہیم عامر اور مرکزی سیکریٹری صابر علی حیدر نے بھی پارٹی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مافیا غیر قانونی طور پر کسی بھی سرگرمی میں حصہ لے کر پیسہ کماتا ہے۔ غیر قانونی سامان بیچتا ہے مہنگا ، بے لگام اور غیر منظم ہوتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں میں ، حرام خوروں نے حرمت کے دوران شراب ، غیر قانونی منشیات ، جسم فروشی اور غیر قانونی جوئے کا کاروبار تو کیا ہی ہے مگر اب عام عوام کے ضروریاتِ ذندگی کو بھی ان ناجائز فروشوں نے دھندہ بنا لیا ہے۔

مگر پاکستان انقلابی پارٹی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر مافیا کا احتساب کرے گی۔ عوامی جمہوری انقلاب ایک سچائی ہے، جِسے باطل قؤتیں روک سکتی ہیں تو روک لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں