Advertisements
295

یونیورسٹی آف پونچھ میں آن لائن کلاسز اور فیس وصولی کے خلاف طلبا کا احتجاج جاری۔

راولاکوٹ (جے کے نیوز ٹاکس)

یونیورسٹی آف پونچھ کے طلبا نے لاک ڈاون کے دوران آن لائن کلاسز اور فیس وصولی کے خلاف زبردست احتجاج کیا ہے۔
طلبا کی طرف سے پہلے مرحلے میں علامتی احتجاج کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ سے طویل مذاکرات ہوئے جو کامیاب نہ ہو سکے جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کو دوبارہ بات چیت کے لیے بلایا جس پر طلبا نے موجودہ مسائل اور بحران کے حل کے لیےا یکشن کمیٹی تشکیل دی جس نے انتظامیہ سے مذاکرات کرنے تھے تاہم انتظامیہ نے معاملات کو یکسو کرنے کے لیے طلبا کی ایکشن کمیٹی سے ایک دن کا مزید وقت مانگا ہے
طلبا کی ایکشن کمیٹی میں تمام طلبا کی طرف سے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر آن لائن کلاسز اور فیس وصولی کے فیصلہ کو واپس نہ لیا گیا اور اس بحرانی کیفیت کا کوئی حل نہ نکالا گیا تو طلبا سوموار سے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے
ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ چانسلر کو ذاتی دلچسپی لیتے ہوئےاور طلبا کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے آن لائن کلاسز اور فیسوں کی اداٸیگی کے فیصلے کو واپس لینا چاہیے
یاد رہے کووڈ 19 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور لاک ڈاون کے دوران ترقی یافتہ ممالک کی تقلید کرتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں نے بھی طلبا کو آن لاٸن کلاسز لینے کی صلاح دی لیکن یہاں پر انٹرنٹ کی سپیڈ اس قدر کم ہے کہ بعض نہیں بلکہ اکثر علاقوں میں واٹس ایپ اپلیکیشن بھی نہیں چلتی اور نہ ہی نٹ کے سگنل آتے ہیں ایسی صورتحال میں کورونا وائرس سے بچاو کے لیے گھروں میں محصور طلبا کو آن لائن کلاسز اٹینڈ کرنے کے لیے دوبارہ شہروں میں جانا پڑے گا۔

جہاں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں جبکہ تعلیمی اداروں نے محض فیس وصولی کی خاطر طلبا کو آن لائن کلاسز کے جھمیلے میں الجھا کر رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس خطے کے تعلیمی شدید مالی اور ذہنی بحران سے گزر رہے ہیں جس کا ازالہ ہر صورت کیا جانا چاہیے ورنہ حالات مشکل صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں