Advertisements
امریکی نسلی فسادات دراصل طبقاتی تضاد کا شاخسانہ ہیں، احتجاج کریں گے : پاکستان انقلابی پارٹی۔ 330

امریکی نسلی فسادات دراصل طبقاتی تضاد کا شاخسانہ ہیں، احتجاج کریں گے : پاکستان انقلابی پارٹی۔

( لاہور جے کے نیوز ٹاکس )
امریکہ میں پھوٹنے والے نسلی فسادات اپنی سرشت میں طبقاتی تضاد کا ہی ایک رخ ہیں۔ شہید ہونے والے جارج فلائڈ ایک مزدور بھی تھے اور اُن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں ہر رنگ، ہر نسل، ہر جنس اور ہر مذہب کے افراد ہیں۔ یہ کہنا تھا صابر علی حیدر کا جو پاکستان انقلابی پارٹی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی میں سیکرٹری کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی طرزِ جمہوریت اپنی سرشت میں آمرانہ اور سامراجی ہے۔

امریکی ریاست کی بنیاد ہی سامراج نے Native Americans جنہیں ریڈ انڈین بھی کہا جاتا ہے ان کی نسل کشی سے ڈالی۔ امریکی سامراجی ریاست نے افریقہ سے غلام لا کر بسائے اور جب ساٹھ کی دہائی میں سیاہ فام امریکی باشندوں نے اپنے کچھ انسانی حقوق حاصل کیئے تو تحریک کی روحِ رواں، ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کو ریاست نے قتل کروا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انقلابی پارٹی کا خمیر این ایس ایف پاکستان سے اُٹھا ہے جِس نے کانگو کے شہید صدر پیٹرس لوممبا کی شہادت پر بھی پاکستان میں زبردست ہڑتال کی، جبل پور کے شہدا کے لیئے بھی مؤثر آواز اُٹھائی اور شہید سیاہ فام مزدور جارج فلائڈ کے لیئے بھی انصاف کے حصول کے لیئے سڑکوں پر موجود ہے۔
پاکستان انقلابی پارٹی کی مرکزی رہنما فہیم عامر نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں پیداوار کے اشتراک پر مبنی نظام دیکھنا چاہتے ہیں اسی لیئے آج ہم پاکستان سٹیل مل کی نجکاری کے خلاف قومی سطح پر احتجاج کر رہےہیں، ساتھ ساتھ شہید جارج فلائڈ کے لیئے انصاف کے حصول کے لیئے بھی اور اپنی شہید بیٹی برمش بلوچ کے لیئے بھی۔ تینوں معاملات پر ہمارا مؤقف یہی ہے کہ ’انصاف نہیں تو امن بھی نہیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں فہیم عامر نے کہا کہ بین القوامیئت کے حوالے سے ہمارا مؤقف واضح ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی جمہوریت پوری دنیا کا مقدر ہے مگر ہم نام نہاد ترقی پسندوں کی طرح تخیّل پرست نہیں اور نہ ہی عوام کو مافوق الفطرت تخیّلات میں الجھا کر جدوجہد سے دور کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ بلکہ ہم معروضی حالات کا جدلیاتی بنیادوں پر تجزیہ کرتے ہیں۔

پاکستان انقلابی پارٹی ملک میں مزدوروں اور کسانوں کی واحد نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔ جب تک پاکستان میں عوامی جمہوریت مظبوط نہیں ہوتی پوری دنیا میں انقلاب کے سپنے ترمیم پسندی اور تخیّل پرستی کے سوا کچھ بھی نہیں بلکہ یہ سوچ عوام کو عوامی جمہوری انقلاب سے دور لے جاتی ہے۔ یہی وجہ کہ ہم پاکستان سٹیل مل کی نجکاری کے خلاف، مزدوروں کے حق میں سینہ سپر بھی ہیں اور امریکہ میں ہونے والے نسلی فسادات کو طبقاتی تضاد کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے بھی آج سڑکوں پر ہے اور یہ کہنا تو بعید از ضرورت ہے کہ ہم شہید بیٹی برمش بلوچ کے لیئے انصاف حاصل کر کے رہیں گے۔
پروفیسر رشید مِصباح نے کہا آپ نے دیکھا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود پاکستان انقلابی پارٹی کبھی پاڑہ چنار میں ہزاروں کا جلسہ کرتی ہے اور کبھی درہ آدم خیل میں۔ کبھی پتوکی میں سڑکوں پر ہوتی ہے اور کبھی تونسہ میں اور ٹھٹھہ میں۔ ہم منظم لوگ ہیں، عوام کے ساتھ ایک عرصے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوام پر اعتماد کرنا ہماری سیاسی تربیّت کا حِصہ ہے۔
نیب کی انکوائری آنے سے کئی سال پہلے ہم نے شوگر مل مافیا کا چہرہ عوام کو دکھا دیا تھا۔ لاک ڈاؤن کے دوران این ایس ایف پاکستان نے نجی تعیمی اداروں کی آن لائین لوٹ کھسوٹ کی سازش کھول کر رکھ دی تھی۔ بلکہ درہ آدم خیل میں تو ہم ایک آدھ دن میں دھرنا بھی دیں گے۔

کونسی ایسی سیاسی جماعت ہے جو اس سیاسی دانشمندی اور کمٹمنٹ کے ساتھ میدان میں کھڑی ہے۔ دائیں بازو کی جماعتیں محلاتی سازشوں میں مصروف ہیں، نام نہاد بائیں بازو کے چھوٹے چھوٹے گروپ اپنا اپنا این جی او دھندہ چلا رہے ہیں۔ اسی لیئے ہم نے فیصلہ کیا کہ ۱۲ جون سے ہم لاہور پریس کلب کے سامنے سے عوام کو اپنے واضح سیاسی پروگرام سے روشناس کروائیں گے۔
پرہفیسر طفیل ڈھانہ کا کہنا تھا عوام کو سمجھنا ہو گا کہ یہ امریکی سامراج ہے کیا اور کیا چاہتا ہے۔ اِن تینوں واقعات یعنی پاکستان سٹیل مل کی نجکاری، نچلے طبقے کے سیاہ فام مزدور جارج فلائڈ کا قتل اور برمش بلوچ کا بہیمانہ قتل ۔۔۔ ان سب کی تہہ میں امریکی سامراج اور سرمایہ دارانہ نظامِ تسلط ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آف شور سرمایہ کس طرح انسانی جانوں سے کھیلتا ہے۔ ہماری جدوجہد یہ ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ اس نظامِ تسلط اور اس کے نقصانات کو سمجھے۔ عوام کو بتایا جاتا رہا کہ ان باتوں کو سمجھنا تو صرف ڈرایئنگ روموں میں بیٹھنے والے دانشوروں کا کام ہے۔ نہیں۔ ہم بتائیں گے علم اور طاقت کا ماخزعوام ہیں۔ جو دانش عوام سے حاصل نہیں کی گئی وہ سِرے سے دانش ہی نہیں اور طاقت اگر عوام کے پاس نہیں تو وہ طاقت نہیں بلکہ بزدلانہ تسلط کی روح ہے۔ اس کے بعد عوام آگے کی جدوجہد کا راستہ خود ہی نکال لیں گے، تاریخ گواہ ہے۔
ڈاکٹر سجاد حسین کا کہنا تھا کہ ملک اِس وقت بہت سے اندرونی اور بیرونی خطرات سے دو چار ہے۔ پاکستان اسٹیل مل کو ہی لیجیئے، اسے اور اس سے ملحقہ سترہ ہزار ایکڑ قیمتی زمین کو ہڑپنے کے لیئے بین الاقوامی کمپنیاں گھات لگائے بیٹھی ہیں۔ مگر بائیس خاندانوں پر مشتمل حکومتیں اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لییے ان کے تلوے چاٹ رہی ہیں۔ انہیں کوئی اںدازہ ہی نہیں کہ ملک میں جہاں پہلے ہی تین کروڑ افراد خط، غربت سے نیچے رہ رہے ہیں، وہاں ساڑھے نو ہزار لوگوں کو بے روزگار کر دیا گیا تو کیا ہو گا۔ جارج فلائڈ کے ایک نزعی فقرے ’’میں سانس نہیں لے پا رہا‘‘ نے ٹرمپ حکومت کے پاؤں تلے زمین سرکا دی اور یہاں تو ہماری ننھی پری برمش کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ان کا یہ نعرہ قطعی غلط نہیں کہ ’’ انصاف نہیں تو امن بھی نہیں‘‘۔ یہ سائینس ہے کہ لوگ بوایلنگ پواینٹ پر پہنچ چکے ہیں اور پاکستان انقلابی پارٹی ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر کے عوام کی نمائندگی ضرور کرے گی، ان کی زبان بنے گی۔
مشتاق چوہدری نے کہا یہ ہمارے ملک اور ہمارے کرہء ارض کا مسئلہ ہے۔ یہ ہمارے بچوں کا مسئلہ ہے جن کے لیئے ہمیں ایک روشن اور بہتر سماج کی تشکیل کرنی ہے۔ یہ سرمایہ دار سیاسی جماعتیں اپنی لوٹ کھسوٹ جاری رکھیں گی اور ہم اپنی انقلابی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بین القوامیت کا نعرہ لگانے والی بائیں بازو کی نام نہاد جماعتوں سے نہ کبھی ہمارا تعلق تھا اور نہ ہوگا اور نہ ہم الیکٹیبلز کی سیاست کرتے ہیں۔ ہماری منزل عوامی جمہوریت اور یہ ہم حاصل کر کے رہیں گے۔ ۲۲ کروڑ عوام کا راستہ روکنا اب بائیس خاندانوں کے بس کی بات نہیں رہی۔ بیشک آخری فتح عوام کی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں