Advertisements
پاکستان سٹیل مل کِسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ نجکاری کے نام پر بیچنے دیں: انقلابی مزدور کمیٹی۔ 336

پاکستان سٹیل مل کِسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ نجکاری کے نام پر بیچنے دیں: انقلابی مزدور کمیٹی۔

( لاہور جے کے نیوز ٹاکس )
پاکستان انقلابی پارٹی کے مزدور ونگ، انقلابی مزدور کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس آرگنائزر طارق محمود کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں شرکاء سے شبیر بھٹی، حافظ محمد ناصر اور دیگر نے خطاب کیا۔
طارق محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹیل مل پاکستان کا قومی ادارہ ہے، کسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ اُسے نجکاری کے نام پر مقتدر طبقات بیچ ڈالیں۔ پاکستان انقلابی پارٹی سٹیل مل کی نجکاری کی سازش کو گلی گلی، کوچے کوچے میں احتجاج اور عوامی رابطے کے ذریعے بے نقاب کرے گی اور اس مہم کا آغاز ہم ۱۰ جون کو لبرٹی چوک لاہور سے کر رہے ہیں۔ ہم عوام کو بتائیں گے کہ پاکستان سٹیل مِل کِس طرح وجود میں آئی، کن کن طاقتوں نے اسے تباہ کیا، اُن طاقتوں کے کیا مقاصد تھے، پاکستان سٹیل مل پاکستان کی معیشت میں کیا اہمیت رکھتی ہے اور موجودہ حکمران کس طرح سے یہ عوام دشمن قدم اٹھانے کا پروگرام رکھتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا پاکستان انقلابی پارٹی اس ضمن میں پوری جدلیاتی تاریخ عوام کو پیش کرے گی۔ اِس ضمن میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ورثے میں صرف ریلوے سٹیل مل ۔ لاہور ملی تھی اور جب انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پاکستان سٹیل مل بنانے کی تجویز پیش کی گئی تو وزیر علی اور مراتب علی خاندان نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور فوجی آمر ایوب خان پر اثرانداز ہو کر سٹیل مل نہ لگنے دی کیونکہ یہ دونوں خاندان اس وقت سٹیل کی درآمد کے کاروبار میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ واضح رہے کہ وزیر علی اور مراتب علی انہی بدنامِ زمانہ بائیس خاندانوں میں سے ہیں جنہوں پہلے بھی ہر حکومت میں رہ کر پاکستان اور پاکستان کے عوام کولوٹا اور آج بھی یہی خاندان پاکستان کے قیمتی اثاثوں کو بیچ کر اپنی تجوریاں بھرنے کے چکر میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بھی پاکستان کو تین سٹیل ملز لگانے کی پیشکش کی مگر اس وقت کی حکومت نے بھی عالمی دباؤ میں چین کی پیشکش مسترد کر دی۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ منافع بخش سٹیل مل عوامی دباؤ پر لگائی گئی تو شروع سے ہی اس کی پیداوار دس لاکھ میٹرک ٹن سالانہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ گڈانی شپ بریکنگ سے بھی پاکستان کو اضافی فولاد مل رہا تھا۔ مگر اس ادارے کے ساتھ کیا ہوا؟ پہلے جنرل ضیاء نے ریٹائرڈ جرنیلوں کو اس کا چئیرمین لگانا شروع کیا اور ساتھ ہی ساتھ قومیائ گئی صنعتوں جن میں فولاد کی صنعت سب سے اہم تھی اسے دوبارہ ڈی نیشنلائزیشن کے نام پر اپنے چہیتوں کو واپس کر دیا۔ پھر جب بینظیر بھٹو کا دور آیا تو ان کی حکومت تو سامراج سے پہلے ہی یہ طے کر کے آئی کہ تھی پاکستان کو نجکاری کے حوالے کر دیا جائے گا اور انہوں نے بھی اپنے باپ کی بجائے جنرل ضیاء کی پالیسی ہی اپنائی چونکہ ان سب کا آقا عالمی سامراج تھا اور آج کے حکمران بھی سامراج کے پروردہ ہی ہیں۔
شبیر بھٹی کا کہنا تھا کہ ان تمام سازشوں کے باوجود دو ہزار چھ تک سٹیل مل نقصان میں نہیں تھی مگر 2008 میں یہ دو ارب روپے کے نقصان میں چلی گئی، 2011 میں ۲۰ ارب روپے کے نقصان میں چلی گئی اور آج دو سو ارب کا نقصان سر پر لیئے کھڑی ہے۔ شبیر بھٹی کا کہنا تھا پاکستان انقلابی پارٹی سیاسی معیشت کو معروضی جدلیات کی بنیاد پر پرکھتی لہٰذہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب ایک ادارے کو تباہ کرنے کا فائدہ مقتدر طبقات نے اٹھایا تو اس کی قیمت عام عوام کیوں چکائیں؟ کیوں بچے کھچے نو ہزار پچاس ملازمین کا روزگار چھین لیا جائے؟؟ ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔
اس سے بھی ذیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ صرف پاکستان سٹیل مل ہی نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نظرِبد اس سے ملحقہ 17000 ایکڑ قیمتی ترین زمین پر ہے۔ لہٰذہ اپنے تجزیئے کو عوام کے پاس لیکر جائیں گے اور منظم طریقے سے، ہر سطح پر پر امن رہتے ہوئے منظم جدوجہد کریں گے۔ تاہم، حکمران نوشتہء دیوار پڑھ لیں کہ بھوکی عوام بلآخر تنگ آمد بجنگ آمد پر مجبور ہوگی۔
حافظ محمد ناصر کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ بھی بتائیں گے کہ پاکستان میں فولاد کی کھپت ۳۳ لاکھ میٹرک ٹن ہے اور پاکستان سٹیل مل پہلے سال میں ہی ۱۱ لاکھ میٹرک ٹن فولاد پاکستان کے لیئے پیدا کر سکتی ہے اور اس سے ایک لاکھ نوکریوں کی گنجائش آسانی سے پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے اپنے حلقے میں خام لوہا موجود ہے جہاں ایک سٹیل مل باآسانی لگائی جا سکتی ہے۔ گوادر کے گہرے پانیوں سے بہتر شپ بریکنگ کے لیئے اور کون سا مقام ہے؟ اگر حکومت کی ترجیح پاکستان اور پاکستان کے عوام ہو تو ہمیں فولاد بھارت سے درآمد کرنے کی قطعی ضرورت نہیں اور ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرنے والے کو معلوم ہی کب ہے کہ صرف فولاد کی صنعت سے لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ ان کے کان پر جوں اس لیئے نہیں رینگتی کیونکہ ان کی ترجیح میں آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں یا وہی پرانے بائیس خاندان۔ انہوں نے کہا کہ ہر در پر جا کر دستک دیں گے کہ جو بھی سیاسی نظریات ہوں، جو بھی معاشی افکار ہوں بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح عوام مزید آنکھیں بند نہ کرے بلکہ متحد ہو اور پاکستان انقلابی پارٹی کے زیرِ قیادت اپنے بچوں اور اپنے ملک کی خاطر قومی اداروں کی حفاظت کرے۔
انقلابی مزدور کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ۔۔۔۔
فی الفور پاکستان سٹیل مل کو خود مختار قومی ادارہ بنایا جائے۔
میانوالی اور گوادر میں مزید سٹیل ملیں قائم کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں