Advertisements
عالمی ادارہ صحت کے خط کے حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا کا جاری بیان۔ 256

عالمی ادارہ صحت کے خط کے حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا کا جاری بیان۔

اسلام باد (جے کے نیوز ٹاکس)

کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت جامع اور بھر پور حکمتِ عملی پرعمل پیرا ھے

این سی او سی میں روزانہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ھے ڈاکٹر ظفر مرزا

صوبوں کے ساتھ ملکر فیصلہ سازی کی جاتی ھے ڈاکٹر ظفر مرزا

این سی سی میں تمام صوبے آزاد کشمیر موجود ہیں

وزیراعظم کی سربراہی میں تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا

پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ھے جبکہ ڈبلیو ایچ او ایمرو ریجن کا سب سے بڑا ملک ھے ڈاکٹر ظفر مرزا

ہم معیشیت کے لحاظ سے کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں آتے ہیں

ہماری ابادی کا دوتہای حصہ روزانہ آمدنی پر گزراباد کرتا ھے

کرونا کی صورتحال کو کو سامنے رکھتے ہوے عوام کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے جاتے ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا

ہمیں مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں

زندگیوں اور روزگار دونوں بچانے ان کے درمیان توازن رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں

ہم نے دانستہ طور پر ملک میں آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی

دکانوں مساجد مار کیٹوں پبلک ٹرانسپورٹ پر ایس او پیز پر زور دیا

ماسک پہننے کو پورے ملک میں لازمی قرار دیا

ہم نے انتہائی فعال ٹریسنگ ٹیسٹنگ کورنٹاین پالیسی متعارف کرائی

جس کے زریعے وایرس کے پھیلاؤ والے علاقوں کی نشاندھی کی جارہی ھے

اسوقت سمارٹ لاک ڈاؤن کے سات سو مختلف مقامات ہیں

کرونا کے حوالے سے ہماری حکمت عملی کا ایک پہلو اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانا ھے

ہماری پالیسیاں تحقیق اور تکنیکی اعتبار سے حاصل کیے گئے تجزیات کی بنیاد اورمعیشیت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنای جاتی ہیں

عالمی ادارہ صحت اقوام متحدہ کے صحت عامہ کا ایک تکنیکی ادراہ ھے

صحت کے حوالے سے اور موجودہ وباء کی روک تھام کیلئے ملکر کام کر رھے ہیں

عالمی ادارہ صحت کے کام کے معترف ہیں

یقیناً اس ادارے کا کام صحت کے نقظہ نگاہ سے اپنی تجاویز ڈبلیو ایچ او ممبر ممالک کو پیش کرتا ھے

جبکہ حکومتوں کو اچھی فیصلہ سازی تمام بڑے معاملات سامنے رکھنا پڑتے ہیں

ملک کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے پڑتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں