Advertisements
139

بغیر انٹرنیٹ کے آّن لائن کلاسیں تعلیمی کاروباری اداروں کا ڈھونگ ہیں :نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان۔

(لاہور جے کے نیوز ٹاکس )
نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماء، حکیم اللہ کاکڑ نے دیگر طلبہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس نے کہا کہ یہ سن ۲۰۲۰ ہے، کرونا وباء نے کہرام مچا رکھا ہے مگر تعلیم کی خریدوفروخت کرنے والوں کی دھندہ باز ذہنیت اب بھی طلبہ کے ساتھ تعلیم کے نام پر فراڈ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اپنے قیام کے وقت سے حکمران طبقات کو باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مفت تعلیم ہمارا حق ہے، کوئی رعایت نہیں مگر ناجائز منافع خور تعلیم فروشوں کو اتنا بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ جب قلعہ سیف اللہ میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں تو یہ آن لائن کلاسوں کے نام پر طلبہ سے رقم کیونکر بٹور رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن طلبہ کی واحد ملک گیر تنظیم ہے اس لیئے اس بات کا ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ بیکن ہاؤس اور سٹی اسکول جیسے دیگر تعلیمی ادارے اس وقت سود خور بدمعاشوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

تعلیم مہیاء نہیں کی جارہی اور لاکھوں روپے فیسوں کی وصولی کے لیے استذہ سے وصولی ایجنٹوں کا کام لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مجبور نہ کرے کہ طلبہ لاک ڈاؤن توڑ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائیں۔
پی ایھ ڈی سکالر عزیز اللہ کاکڑ کا کہنا تھا کہ قلعہ سیف اللہ میں انٹرنیٹ تو دور کی بات، بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے جینا حرام کر رکھا ہے۔ اِس عالم میں آنلائن کلاسیں محض ایک جھانسہ ہیں۔ عزیز اللہ کاکڑ نے کہا کہ دنیا بھر میں Admission Freez کر کے طلبہ کو Long Leave دی گئی ہے کہ اس دوران طلبہ کسی قسم کی فیس ادا کرنے کے پابند نہ ہوں مگر اس ریاستِ خداد داد میں اس کو بھی کاروبار بنا کر عام آادمی کو تعلیم دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے اپیل کی این ایس ایف پاکستان اس کو اپنے مطالبا ت میں شامل کرے کہ تمام نجی و سرکاری ادارے تب تک کوئی فیس نہ لیں جب تک دوبارہ کلاسز شروع نہیں ہو جاتیں۔
پریس کانفرنس سے فاروق جدون، ایمل کاکڑ، وسیم کاکڑ، نثار خان کاکڑ اور دیگر طلبہ نے بھی خِطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں