Advertisements
183

*بلوچ قوم کیا چاہتی ہے* : تحریر اسد بشیر ۔

حال ہی میں بی این پی مینگل کے حکومت سے علیحدگی کے بیان کی خبر سنی جس میں اختر مینگل کا بیان کہ آپ کی اسمبلی میں ٹماٹر کی قیمتوں پر بحث ہوتی لیکن میرے بلوچ کے خون پر نہیں تو نا جانے کیوں میرا دل یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہو گیا، ہم نے پاکستان کے قیام میں جو قربانیاں دیں اور جس جدوجہد سے یہ ملک حاصل کیا ، کاش ہم اس کو قائم و دائم رکھنے میں بھی اسی جوش و جذبے سے کام لیتے ، ہم ملک بنا کر ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے ہم نے ملک کے بازؤں کو آپس میں جوڑنے کے بجائے ان کے حال پر چھوڑ دیا نتیجہ یہ ہوا کہ 24 سال بعد مشرقی پاکستان الگ ہو گیا، گو کہ یہ ایک دن ہونا تھا لیکن جو نفرت اور بغاوت بنگالیوں کے دلوں میں اس وقت پنجابیوں اور مغربی پاکستان کے خلاف پیدا ہوئی وہ آج بھی کہیں نہ کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔
ہر استحصال بغاوت کو جنم دیتا ہے اور ہر بغاوت غداری کا دروازہ کھولتی ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کو بی ایل اے سے آج بلوچستان کے پہاڑوں سے گوادر تک لڑنا پڑ رہا ہے ، لیکن اس کے ذمہ دار نہ صرف فوج کی پچھلی اعلیٰ قیادت ہے بلکہ ہمارے حکمرانوں کی غلطیاں بھی ہیں۔

ہم نے بلوچستان سے اسمبلی کی سیٹیں جیتنے کے لیے ان کو حقوق دلانے کے وعدے کیے اور پھر اسمبلی میں آ کر سب باتیں بھول گئے، ہم بلوچستان کے نوجوان کو کیا منہ دکھائیں گے جب وہ پنجاب سے پڑھ کر باشعور ہو کر یہ سوال پوچھے گا کہ بتائیں ریکوڈیک کے سونے کا بلوچ قوم کو کیا فائدہ ہوا؟ بتائیں سوئی گیس جہاں سے نکلتی ہے وہاں سے پنجاب تج تو آ جاتی ہے بلوجستان تک کیوں نہیں جاتی؟ وہ جب بلوچ قبائل میں جائے گا اور وہاں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر دیکھے گا تو وہ دو طرح سے سوچے گا، اگر تو اس نے مصلحت سے کام لیا تو وہ سسٹم کا حصہ بن جائے گا اور اگر اس نے یہی سوال لاہور پریس کلب کے باہر پوچھے تو اگلے کچھ روز وہ نظر نہیں آئے گا، پھر دوبارہ اس کی بازیابی کا مطالبہ پریس کلب کے سامنے ہو گا، اگر تو وہ نوجوان بازیاب ہو گیا تو بے شک وہ بازیاب ہو جائے گا اس کے سینے میں جو بغاوت کی چنگاری پیدا ہوئی ہیں وہ جوالہ مکھی بننے میں ذرا دیر نہیں لگائے گی کیونکہ بلوچ حریت پسند ہیں، بلوچ نڈر ہیں، بلوچ ازل سے باغی ہیں ان کو طاقت کے زور سے ماتحت بنانا ناممکنات میں سے ہے بلوچ مر جائے گا لیکن طاقت کے زور سے اطاعت قبول نہیں کرے گا، بلوچ محبت سے جیتا جا سکتا ہے، بلوچ دوستی سے جیتا جا سکتا ہے، کیونکہ بلوچ روایت پسند ہے اور قبائلی محبت اور دوستی میں کوئی بھی قیمت چکانے سے نہیں ڈرتے۔

اگر اس ملک کی عوام بلخصوص بلوچ قوم سہولیات سے مستفید نہیں ہو رہی ہے تو پھر اس ملک کا کونسا طبقہ مستفید ہو رہا ہے؟ اس ملک کے استحصال کرنے والے اشرافیہ کو اگر لگام نہ دی گئی اگر اس ملک میں سرمایہء داروں کو روکا نہ گیا تو صرف پاکستان اپنی بقاء کی جنگ میں چلا جائے گا بلکہ بہت سے مزید مسائل سے دوچار ہو جائے گا۔
مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ اربابِ اختیار کو جب تک اس بات کا احساس ہوتا ہے جب تک وہ بلوچ نفسیات کو سمجھتے ہیں کہیں بہت دیر نہ ہو جائے بہت دیر نہ ہو جائے، کیونکہ اب پرانا دور نہیں ہے موجودہ دور میں کسی پراکسی وار کا آغاز کرنا بہت آسان ہو گیا ہے اور کسی بغاوت کو ہوا دینا اس سے بھی آسان ہے۔

ہمیں اپنی پاک فوج کے بہادر جوانوں پر بھروسہ ہے لیکن یہاں پاک فوج کا نہیں ہمارے حکمرانوں کا کردار قابل ذکر ہو گا کہ وہ جائیں بلوچستان وہاں بنیادی ضروریات اور حقوق کا جائزہ لیں بلوچ سرداروں سے مل کر ہر گھر تک سہولیات پہنچائیں جو کہ ان کا حق ہے، بلوچوں کو محبت سے جیتیں، بلوچ آپ کے شاید اسی اقدام کے منتظر ہوں، اگر اپ یہ سب کر لیں پھر اگر کوئی بغاوت پر اترتا ہے تو چھ لاکھ فوج موجود ہے ساری بلوچستان لگا دیجیے ہر بغاوت کو کچلنا رہاست کا بنیادی حق ہے لیکن کسی شہری کے حقوق سلب کرنا اور جائز سوالات کے جواب میں اس کو خاموش کرانا بذاتِ خود ایک جرم ہے اور یہ ایک چنگاری کو جنم دینا ہے بغاوت کو ہوا دینا ہے۔

شاید میری یہ کاوش یہ تحریر اربابِ اختیار تک پہنچ جائے اور وہ سنجیدگی سے بلوچ قوم کے مسائل پر توجہ دیں، تاکہ ہر نوجوان بلوچ کو اس کے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے میں مشکل نہ ہو، اس کو کہیں سے کوئی غلط جواب نہ ملے بلکہ ایک مثبت جواب ایک مثبت پہلو اس کے سامنے آئے، اور پھر کوہ سلیمان سے گوادر تک پاکستان زندہ باد ، بلوچستان پائندہ باد ہر بلوچ کے ہونٹوں پر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں