Advertisements
199

آزاد کشمیر آئین میں چودہویں ترمیم کا معاملہ  وکلا ء بھی میدان میں آ گئے۔

میرپور (جے کے نیوز ٹاکس )

صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور قمر الزمان مرزا ایڈووکیٹ، صدر سنٹرل بار مظفرآباد ناصر مسعود مغل ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری بار میرپور راشد ندیم بٹ ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار نجم الثاقب کیانی ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری ہائی کورٹ بار واجد حسین مرزا ایڈووکیٹ، نائب صدر بار میرپور محمد خلیل غازی ایڈووکیٹ، جوائنٹ سیکرٹری بار میرپور محمد رضاء الحق ایڈووکیٹ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آزادکشمیرکے آئین میں مجوزہ چودہویں ترمیم کا مسودہ مسترد کرتے ہیں ریاست کا نام تبدیل کرنے کوکسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

صدر بار میرپور قمر الزمان مرزا ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مجوزہ چودہویں ترمیم میں آزاد حکومت نے خاموش رضا مندی دے رکھی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ چودہویں ترمیم ضروری ہے تو آزادکشمیر بھر کے سینئر وکلاء سے مشاورت کے بعد اس کا مسودہ تیار کیا جائے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ مجوزہ ترامیم میں سیشن ججز کے کوٹہ پر اعتراض ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کہ چیف جسٹس صاحبان کو فی الفور مستقل کیا جائے۔

کشمیر کونسل کی ہماری قراردادوں پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ چیف جسٹس صاحبان کا مستقل نہ ہونا سپریم کورٹ کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس صاحبان کی مستقل تعیناتی پر اگر مزید وقت لگا تو آزادکشمیر کی بار ایسوسی ایشنز کی باہمی مشاورت سے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ہم اس حوالہ سے جلد توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کریں گے۔

اس موقع پر صدر بار میرپور کا کہنا تھا کہ واپڈا نے کشمیریوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک اختیار کر رکھا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے باوجود بھی متاثرین منگلا کو معاوضہ جات کی ادائیگی نہیں کر رہا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وباء کے دوران وکلاء کیلئے حکومتی امداد ناکافی ہے۔ حکومت فی الفور وکلاء کیلئے مناسب امدادی پیکیج کا اعلان کرے۔

جنرل سیکرٹری بار میرپور کا کہنا تھا کہ رٹھوعہ ہریام پل کی مجرمانہ تاخیر کسی صورت برداشت نہیں ہے۔

صدر سنٹرل بار مظفرآباد ناصر مغل ایڈووکیٹ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈسٹرکٹ بار میرپور کے قمر الزمان ایڈووکیٹ کی تمام باتوں سے اتفاق کرتے ہیں اور آزادکشمیر کے وکلاء ان باتوں پر متحد و متفق ہیں اور حکومت کی کسی بھی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں