Advertisements
234

چودھویں ترمیم  حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ھو گی۔

راولاکوٹ   (جے کے نیوز ٹاکس )

پیپلز نیشنل الائنس کے سیکرٹری جنرل سردار لیاقت حیات نے اپنے ایک بیان میں حالیہ دنوں سے چودھویں ترمیم کے حوالے سے ہونے والی بحث پر اپنے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ گو ہم ایکٹ 74 کو بھی غلامی کی ایک بدترین دستاویز سمجھتے ہیں اور ہمارا پر زور مطالبہ ھے کہ آئین ساز اسمبلی تشکیل دیتے ہوئے ایک مکمل جہموری انقلابی اور قومی امنگوں کا ترجمان آئین بنایا جائے۔

لیکن موجودہ ایکٹ 74 کی چودھویں ترمیم قابلِ قبول نہیں ھے۔5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد پاکستان حکومت کی طرف دئیے جانے والے ردِعمل سے اور حال ہی میں اقوام متحدہ میں بھارت کے غیر مستقل ممبر بنانے میں پاکستان کی طرف حمایت سے یہ واضع ھو گیا ھے۔کہ دونوں ملک ہماری دھرتی ماں ریاست جموں کشمیر کی بندر بانٹ پر اصولی فیصلہ اور اتفاق کر چکے ہیں۔

بھارتی فیصلوں کے بعد اب پاکستان آہستہ آہستہ آذاد کشمیر گلگت بلتستان کی متنازعہ حثیت ختم کر کے اپنے آئینی شکنجے میں جکڑنے کی کوشش شروع کر دی ہیں۔اور پاکستان کی ریاست ننگی ھو کر سامنے آ رہی ھے۔منافقت کا خول جو گزشتہ 73 سالوں سے پاکستان نے اپنے چہرے پر چڑھایا ھوا تھا وہ اب اُتر رھا ہے لیکن تاریخ گواہ ھے غاصب اور جابر ریاستوں کے فیصلوں سے کسی قوم کی آذادی کی تڑپ کا حق سلب نہیں کیا جا سکتا ھے۔۔ اگر قابض ملکوں کے آئینی فیصلوں سے کسی کو محکوم یا غلام بنایا جا سکتا تو آج ایک ملک بھی آذاد نہیں ھوتا ۔

سردار لیاقت حیات نے مزید کہا کہ نام نہاد آذادکشمیر کے حکمران مگرمچھ کے آنسو بہا رھے ہیں ۔فاروق حیدر ڈرامے بازی کر رہا ھے 5 اگست کے بھارتی اقدامات اور لداخ میں چینی بھارتی لڑائی پر آذاد کشمیر حکومت کی طرف سے مکمل خاموشی اور بیان تک جاری نہ کرنے سے یہ بات سچ ثابت ھوئی ھے کہ یہ کٹھ پتلی اور لاغر حکومت اور حکمران ہیں جو آقا کی مرضی کے خلاف بیان تک جاری نہیں کر سکتے تاریخ انھیں میر جعفر میر صادق کے ناموں سے یاد کرے گی ایکٹ 74 میں آئینی ترمیم مسلم۔لیگ اور فاروق حیدر کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہیں ھے ۔

لہذا اگر ایسی ترمیم کی گئی تو یہ حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ھو گی محب وطن اور آذادی پسند عوام کو ساتھ لے کر ایک تحویل اور فیصلہ کن جدوجہد کے لیے تیار رھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں