Advertisements
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں8سالہ کشمیری بچے  سمیت 4نوجوان شہید۔ 300

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں8سالہ کشمیری بچے  سمیت 4نوجوان شہید۔

سرینگر26جون( جے کے نیوز ٹاکس )
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج پلوامہ اوراسلام آ باد کے اضلاع میں ایک 8سالہ لڑکے سمیت مزید4کشمیری نوجوانوںکو شہید کردیاجس سے گزشہ روز سے مقبوضہ علاقے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر6ہوگئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے تین نوجوانوں کو ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ اس سے قبل اسی علاقے میں ایک حملے میں بھارتی فوج کے 2اہلکار زخمی ہو گئے تھے ۔ قابض فوجیوں نے علاقے میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ۔ ضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میں باغ کے قریب بھارتی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے کیمپ پر حملے میں ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد فوجیوں کی اندھا دھند فائرنگ میں ایک 8سالہ کشمیری لڑکا نیہان بٹ شہید ہو گیا ۔
بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز سوپور کے علاقے ہردشیوا میں ایک آپریشن کے دوران 2کشمیری نوجوان شہید کر دیے تھے۔جموں وکشمیر تحریک وحدت اسلامی اور پیروان ولایت نے اپنے الگ الگ بیانات میں کشمیری لڑکے کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قراردیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں کوئی بھی جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کا انکار نہیں کرسکتا ۔ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر کا تاریخی پس منظر ، کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے کے بھارتی رہنماﺅں کے وعدے اور اس تنازعے کے بارے میں مذاکرات مقبوضہ علاقے کی متنازعہ حیثیت کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال 5اگست کے بعد سے مودی حکومت کے متعدد غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی واضح خلا ف ورزی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ ، او آئی سی اورانسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم کا سخت نوٹس لیں۔ 
ادھر کشمیرمیڈیاسروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج تشدد کے شکار افراد سے حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت اس کے غیر قانونی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی کشمیریوںکی جاری جدوجہد کو کمزور کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشددکااستعمال کررہا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکار وںنے 2000سے آج تک خواتین اور بچوں سمیت 95ہزار680کشمیریوںکو مختلف قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا۔
 نریندر مودی کی فسطائی حکومت نے مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔قابض حکام نے مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب بگاڑنے کی تازہ کوششوں کے طورپر مقبوضہ علاقے میں مقیم بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سول سروس کے ایک سینئر افسرسمیت کم از کم 25ہزار غیر کشمیریوں کو گزشتہ چند دنوں کے دوران ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔
دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرس آزادجموںوکشمیر شاخ کے سکریٹری اطلاعات شیخ عبد المتین نے آج تشدد کے شکار افراد سے حمایت کے عالمی دن کے موقع پراسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کومحکوم رکھنے کیلئے تشدد کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کررہا ہے ،تاہم وہ کبھی بھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا۔
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار اور سابق نائب صدر جو بائیڈن نے صدارتی انتخاب کیلئے جاری مہم کی ویب سائیٹ پر حال ہی میں جاری کئے گئے ایک پالیسی پیپر میں بھارت پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے ضروری اقدامات کرے ۔ جوبائیڈن نے حال ہی میں بھارت میں مودی حکومت کی طرف سے اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کے خلاف متعارف کرائے گئے قوانین پر بھی تشویش ظاہر کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں